• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کی پابندیوں کی وجہ سے کیوبا میں عام شہری خصوصاً بچے شدید متاثر ہو رہے ہیں: وولکر ترک

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک---فائل فوٹو
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک---فائل فوٹو 

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے امریکا کی جانب سے کیوبا پر عائد سخت پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کے باعث عام شہری خصوصاً بچے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

وولکر ترک نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ ایندھن کی شدید کمی اور طبی سامان کی عدم دستیابی کے باعث بچوں کی اموات ہو رہی ہیں جو ناقابلِ قبول ہے۔

وولکر ترک کے مطابق جنوری 2026ء سے امریکا نے کیوبا پر دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے تیل کی فراہمی روک دی ہے جس کے بعد جزیرے کا توانائی نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے، امریکا نے دیگر ممالک کو بھی کیوبا کو تیل دینے پر سخت پابندیوں اور ٹیکسوں کی دھمکی دی ہے۔

وولکر ترک کے مطابق پابندیوں میں کیوبا کی وزارت داخلہ، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ ساتھ صدر میگوئل ڈیاز کینیل اور ان کے خاندان کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کیوبا پر ان پابندیوں کے نتیجے میں بجلی کی طویل بندش، عوامی ٹرانسپورٹ میں کمی اور طبی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، ملک کی بین الاقوامی مالی نظام تک رسائی بھی محدود ہو گئی ہے جس سے معاشی تنہائی مزید بڑھ گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں شائع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بچوں کی شرح اموات بڑھ کر 9.9 فی 1000 پیدائش تک پہنچ گئی ہے جبکہ کینسر کے شکار بچوں کی بقا کی شرح 85 فیصد سے کم ہو کر 65 فیصد رہ گئی ہے۔

رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک میں 96387 افراد آپریشن کے انتظار میں ہیں جن میں 11193 بچے شامل ہیں جبکہ 16000 مریضوں کو ریڈیوتھراپی اور 2888 کو ڈائلیسز کی ضرورت ہے۔

وولکر ترک نے سمندری طوفانوں کے موسم اور شدید گرمی کے باعث صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے، اسی دوران مغربی کیوبا میں 6.1 شدت کا زلزلہ بھی محسوس کیا گیا۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایندھن کی شدید کمی کے باعث صرف ایک روسی تیل بردار جہاز کو کیوبا پہنچنے کی اجازت ملی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید