امریکا نے کیوبا کو 100 ملین ڈالرز کی انسانی امداد دینے کی پیشکش کی ہے تاہم اس کے لیے کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کو امریکی مطالبات کے مطابق ’اہم اصلاحات‘ کرنا ہوں گی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ امداد براہِ راست کیوبا کے عوام تک پہنچائی جائے گی لیکن کیوبا کی حکومت نے اگر شرائط نہ مانیں تو اسے امداد کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جائے گا۔
امریکا نے الزام لگایا ہے کہ کیوبا کی کمیونسٹ قیادت عوام کو غربت میں دھکیل رہی ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے جاری امریکی تجارتی پابندیاں ہی کیوبا کے معاشی بحران کی بڑی وجہ ہیں۔
رواں سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا سے کیوبا کو ملنے والی تیل سپلائی بند کروانے کے بعد دیگر ممالک کو بھی کیوبا کو ایندھن دینے پر معاشی سزا کی دھمکی دی تھی جس کے نتیجے میں ملک کو شدید توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔
مارچ میں کیوبا میں 2 بار ملک گیر بلیک آؤٹ ہوا جبکہ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کیوبا انسانی بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جہاں خوراک، ٹرانسپورٹ اور اسپتالوں کا نظام شدید متاثر ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کیوبا میں ’حکومتی تبدیلی‘ کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا اور نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔