• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی سب سے بڑی سچائیاں ہمیشہ بلند آواز میں نہیں بولتیں۔ بعض اوقات وہ خاموشی سے زمین پر رینگتی ہیں اور انسان انہیں دیکھے بغیر گزر جاتا ہے۔ خدا جب کسی قوم کو اس کا اصل چہرہ دکھانا چاہتا ہے تو ضروری نہیں کہ کوئی آسمانی بجلی گرے یا کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائے۔ کبھی کبھی وہ ایک چیونٹی کے اندر پوری حکمت رکھ دیتا ہے اور پھر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ جھک کر زمین کی طرف دیکھے۔ مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے کہ اگر ایک دن تمام فلسفیوں، سیاست دانوں، جرنیلوں، تاجروں اور دانشوروں کو ایک میدان میں جمع کر دیا جائے اور ان کے درمیان ایک چیونٹی چھوڑ دی جائے تو شاید وہ مخلوق اپنی خاموشی سے وہ سبق دے دے جو انسان کی ہزاروں کتابیں نہ دے سکیں۔انسان نے اپنے لیے بڑے شاندار نام منتخب کیے ہیں۔ وہ خود کو اشرف المخلوقات کہتا ہے، زمین کا خلیفہ کہتا ہے، عقل کا تاجدار کہتا ہے۔ لیکن فطرت کبھی کبھی ان تمام دعووں کے سامنے ایک چیونٹی لا کر کھڑی کر دیتی ہے اور پوچھتی ہے کہ تم نے اپنی عقل سے کیا حاصل کیا؟ تم نے اپنی طاقت سے کیا بنایا؟ تم نے اپنے علم سے کیا بچایا؟

اس چھوٹی سی مخلوق کے پاس نہ کوئی آئین ہے، نہ کوئی پارلیمنٹ، نہ کوئی عدالت، نہ کوئی میڈیا، نہ کوئی سیاسی جماعت لیکن اس کی بستی میں وہ ہم آہنگی موجود ہے جس کی تلاش میں انسان صدیوں سے بھٹک رہا ہے۔ اس کے شہر کے نیچے نہ شور ہے، نہ نفرت ہے، نہ اقتدار کی جنگ ہے۔ وہاں صرف ایک مقصد ہے: بقا، خدمت اور اجتماعیت۔قرآن جب چیونٹی کا ذکر کرتا ہے تو دراصل وہ ایک کیڑے کا نہیں بلکہ ایک شعور کا ذکر کرتا ہے۔ ایک طرف سلیمانؑ کی عظیم الشان سلطنت ہے، طاقت کا سمندر ہے، لشکروں کی گونج ہے، اور دوسری طرف مٹی کے ذرے جتنی ایک چیونٹی۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس منظر میں سب سے بلند آواز اسی چیونٹی کی ہے۔ وہ اپنی قوم کو خبردار کرتی ہے کہ اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ، کہیں سلیمانؑ اور ان کا لشکر تمہیں بے خبری میں کچل نہ دے۔ اس ایک جملے میں پوری تہذیب پوشیدہ ہے۔ وہ صرف اپنے لیے نہیں سوچتی، پوری قوم کیلئے سوچتی ہے۔ اسے اپنی جان سے زیادہ اپنی بستی عزیز ہے۔ اس کے دل میں خوف سے زیادہ ذمہ داری ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ خطرے کے عالم میں بھی انصاف کا دامن نہیں چھوڑتی۔ وہ سلیمانؑ پر ظلم کا الزام نہیں لگاتی بلکہ ان کے لیے حسنِ ظن رکھتی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک چیونٹی وہ اخلاقی بلندی حاصل کر لیتی ہے جہاں پہنچنے میں انسان کو پوری عمر لگ جاتی ہے۔سائنس دان جب چیونٹیوں کی دنیا میں اترے تو انہیں محسوس ہوا کہ وہ دراصل ایک اور تہذیب کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ زمین کے نیچے آباد یہ بستیاں صرف مٹی کے ڈھیر نہیں بلکہ نظم کےکرشمے ہیں۔ وہاں ہر چیونٹی کو معلوم ہے کہ اس کی ذمہ داری کیا ہے۔ کوئی اپنی شہرت کیلئےکام نہیں کرتی، کوئی دوسروں کے حصے پر قبضہ نہیں کرتی، کوئی ذخیرہ اندوزی نہیں کرتی، کوئی قوم کے وسائل کو اپنی جاگیر نہیں سمجھتی۔ خوراک ملتی ہے تو پوری کالونی تک پہنچتی ہے، خطرہ آتاہے تو پوری بستی جاگ جاتی ہے، اور اگر قربانی دینی پڑے تو کوئی پیچھے نہیں ہٹتی۔

حیرت ہوتی ہے کہ جن مخلوقات کے دماغ آنکھ سے بھی بمشکل نظر آتے ہیں، ان کے اجتماعی فیصلے اکثر ان قوموں سے بہتر ہوتے ہیں جن کے پاس یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے اور ہزاروں سال کی تہذیبی تاریخ موجود ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی محرومی شاید غربت نہیں۔ غربت تو قوموں کی تقدیر بدلنے سے پہلے ان کا امتحان بنتی ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو قوم سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم ایک ہی کشتی میں سوار ہیں لیکن ہر شخص صرف اپنی نشست بچانا چاہتا ہے۔ ہم ایک ہی شہر کے مکین ہیں مگر ہر آدمی اپنی دیوار اونچی کرنے میں مصروف ہے۔ ہم ایک ہی دریا میں سفر کر رہے ہیں مگر ہر شخص دوسرے کی کشتی میں سوراخ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ہمیں اجتماعی نجات سے زیادہ ذاتی کامیابی عزیز ہے۔ ہم اس حقیقت کو بھول چکے ہیں کہ جب پورا جنگل جل رہا ہو تو ایک درخت کی ہریالی بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔چیونٹی کی پوری زندگی ایک خاموش فلسفہ ہے۔ وہ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت جسامت میں نہیں، اتحاد میں ہوتی ہے۔ عظمت دولت میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے۔ بقا ہتھیاروں سے نہیں، نظم و ضبط سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ اپنے لیے راستہ نہیں بناتی بلکہ دوسروں کیلئے نشان چھوڑتی جاتی ہے۔ وہ اکیلے کامیاب ہونے کا خواب نہیں دیکھتی بلکہ پوری کالونی کی بقا کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ اس کی دنیا میں ’’میں‘‘ کا تصور اتنا چھوٹا ہے کہ ’’ہم‘‘ کے اندر گم ہو جاتا ہے۔

شاید اسی لیے وہ لاکھوں برس سے زمین پر موجود ہے اور انسان اپنی ساری ترقی کے باوجود آج بھی اپنے وجود کے بحران میں مبتلا ہے۔اور پھر ایک سوال دل کے اندر کسی سرد رات میں جلتے ہوئے چراغ کی طرح روشن ہو جاتا ہے۔ انسان کو عقل ملی، زبان ملی، کتابیں ملیں، انبیا ملے، سائنس ملی، فلسفہ ملا، مگر اس نے جنگیں بھی ایجاد کیں، نفرتیں بھی پیدا کیں، ظلم بھی کیا اور اپنے ہی مستقبل کے خلاف سازشیں بھی کیں۔ دوسری طرف ایک چیونٹی ہے۔ نہ اسے کوئی یونیورسٹی ملی، نہ کوئی فلسفہ، نہ کوئی سیاسی نظریہ۔ پھر بھی وہ اپنی بستی کیلئے جیتی ہے، اپنی قوم کیلئے محنت کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کر دیتی ہے۔ تب دل میں ایک ایسا سوال جنم لیتا ہے جو شاید انسان ہمیشہ سے سننے سے ڈرتا آیا ہے: اگر وفاداری، نظم و ضبط، خدمت، دیانت اور اجتماعی شعور ہی تہذیب کے اصل پیمانے ہیں تو پھر کیا واقعی ہم چیونٹیوں سے بہتر ہیں؟ یا خدا نے قرآن میں ایک چیونٹی کا ذکر اس لیے محفوظ کر دیا کہ انسان جب بھی اپنی عظمت کے دعوے کرے تو اسے اپنی حقیقت یاد آ جائے؟

تازہ ترین