وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں کی، جسے پورا نہ کر پائیں۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ میں اہم بات معاشی ترقی کے لیے واضح اقدامات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ایکسپورٹ سے متعلق اسکیم رکھی گئی ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کی گئی ،کچھ ادارے ایسے ہیں جن کو بیچ نہیں سکتے بند ہی کرنا پڑے گا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ بجٹ تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں کی جس کو پورا نہ کر پائیں، ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے فوائد 2 شعبوں میں ہم تک پہنچ چکے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ایکسپورٹ، انڈسٹری، آئی ٹی، زراعت اور سیلری کلاس کو اٹھایا،1 کروڑ روپے تک کا قرض 5 فیصد شرح سود پر دے رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ سپر ٹیکس کی سلیب ختم، 50 کروڑ سے اوپر سلیب کو 10 سے آٹھ فیصد پر لائے، توانائی سیکٹر میں گراس سبسڈی کو ختم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکسیشن کو آسان کرنا ہے، ایکسپورٹ کے لیے ری فنانسنگ کو بڑھانے جا رہے ہیں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ انڈسٹری وہی چلے گی جو بزنس ماڈل پر نظر ثانی کرے گی، ہماری پوری کوشش ہے کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کو آگے لے کر جائیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ رمضان میں سبسڈی میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے کرپشن ہوتی تھی، اس سال رمضان میں حکومت نے 40 ارب کی براہ راست سبسڈی دی۔