آپ بھی بجاطور پر سمجھ گئے ہونگے کہ کس بڈھے کھوسٹ سے آپ کا پالا پڑا ہے کہ جب بھی اس سے آپ کی دانستہ یا نادانستہ ملاقات ہوتی ہے، آپ کو لامحالہ بڑھاپے کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ وہ بوڑھا اپنے بچپن، لڑکپن، نوجوانی، جوانی کی باتیں بتانے اور سنانے سے گریز کرتا ہے، کسی حد تک یہ بات درست ہے اور کچھ حد تک درست نہیں ہے۔ اس بات میں تیسری عالمگیر جنگ کے رموز چھپے نہیں ہیں۔ میں رازوں کا دیرینہ دشمن ہوں، راز مجھ سے ہضم نہیں ہوتے، ابکائیاں لینے لگتا ہوں۔ رازوں کو آشکار کرکے رکھ دیتا ہوں۔ کسی نوعیت کے راز کو راز نہیں رہنے دیتا۔ لوگ کہتے ہیں، راز فاش کرنا میری عادت ہے، اس بات سے مجھے انکار نہیں ہے، میرے عمدہ دوست کبھی بھی اپنے کسی رازکو میرے پاس محفوظ نہیں سمجھتے۔
بہرحال میرے سینے میں بے شمار راز پوشیدہ ہیں، وقت آنے پر ایک ایک عمدہ راز سے پردہ اٹھاتا جائوں گا، پھر نہ کہنا میرے بھائی کہ پردے میں رہنے دو، پردہ نہ اٹھائو، آپ کو اس بات پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں لڑکپن اور نوجوانی میں بڑھاپے کی باتیں کیوں کرتا تھا، آپ خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں، یہ میری عادت ہے، مثلاً سندھ میں رہتے ہوئے میں سندھ کی باتیں کیوں آپ کو نہیں بتاتا؟ کاروکاری کے راز سے پردہ کیوں نہیں اٹھاتا؟ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود کاروکاری کے فیصلے جرگوں میں کیوں ہوتے ہیں؟ کیا سپریم کورٹ کے لائق جج صاحبان کاروکاری کے جرگوں اور جرگوں میں ہونے والے فیصلوں سے لاعلم ہیں؟ یقین جانیے، جج صاحبان جرگوں اور جرگوں میں ہونے والے ڈرائونے فیصلوں سے واقف ہوتے ہیں، ہم تمام بڈھے کھوسٹ قطعی نہیں جانتے کہ سپریم کورٹ کے لائق فائق جج صاحبان کاروکاری کے جرگوں کے خلاف کوئی ایکشن کیوںنہیں لیتے؟ دنیا سے عنقریب رخصت لینے والے ہم بوڑھے کچھ نہیں جانتے، کچھ نہیں جانتے۔
خواہ مخواہ کاروکاری کے جرگوں کا قصہ لے کر بیٹھ گیا ہوں، دراصل لکھنے کے لیے میرے پاس کوئی مناسب موضوع نہیں، دنیا بھر کے واحد سپرپاور امریکا کے صدر ٹرمپ کے فیصلوں کے بعد دنیا بھر کے چھوٹے موٹے ممالک نے فیصلے لینا اور فیصلے دینا ترک کردیا ہے، دنیا بھر کے چھوٹے ممالک اب کوئی فیصلہ خود نہیں کرتے، فیصلے کے لیے وہ امریکا کی طرف دیکھتے ہیں، نوڈلز میں کتنا نمک پڑنا چاہیے، اس کے لیے بھی چھوٹے چھوٹے ممالک کو امریکا کے صدر ٹرمپ سے مشورہ کرنا پڑتا ہے۔ جانتا ہوں یہ بے کار کی باتیں ہیں، واحد سپر پاور نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب قیامت تک چھوٹے ممالک ایٹم بم نہیں بناسکتے، وہ آج کے بعد صرف غلیل بنائیں گے۔
بے کار باتیں لے کر بیٹھ گیا ہوں، سپر پاور کے سامنے چھوٹے موٹے ممالک کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ میرا شمار بھی دنیا کے چھوٹے ممالک کے بے بس رہواسیوں میں ہوتا ہے، اب میں بھی غلیل بنائوں گا اور دیکھے بھالے ممالک کا باجا بجا دوں گا، اس لیے میں اپنے موضوع کی طرف لوٹ جاتا ہوں اور آپ سے سنی سنائی باتوں کا ذکر کرتا ہوں، عبرت ناک باتیں ہیں، اس لیے غور طلب ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ میرا بچپن، لڑکپن، نوجوانی اور جوانی کیسے اور کہاں گزر گئیں، مجھے صرف میرا بڑھاپا یاد ہے، مجھے ملنے والے مفت کے مشورے یاد ہیں، مچھلی کے ساتھ دودھ یا دودھ کے ساتھ مچھلی کھانے سے چٹ کمرے ہوجائوگے، طبیب اور نیم طبیبوں کی باتیں سنتا ہوں اور ہضم کرتا ہوں، ایسی باتیں ذرا دیر سے ہضم ہوتی ہیں، اس لیے میرا نظام ہضم اکثر خراب رہتا ہے، ہمارے مخصوص دور کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ نہ چاہنے کے باوجود آپ کو ایسی باتیں سننی پڑتی ہیں جو باتیں آپ سننا نہیں چاہتے، ایک نوجوان ڈاکٹر بڑے ضدی ہیں، فرماتے ہیں کہ بڑھاپے میں الٹی سیدھی سوچیں انسان کو پریشان کرتی رہتی ہیں، آپ منفی باتیں مت سوچا کریں۔
میں نے نوجوان ڈاکٹر سے کئی مرتبہ گزارش کی ہے کہ منفی ہوں یا مثبت باتیں ہوں، باتیں خود بہ خود ذہن میں آتی رہتی ہیں، ذہنی شہر بناتی اور مٹاتی رہتی ہیں، ڈاکٹر اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ سوچا مت کرو، بہت مشکل ہے ڈاکٹروں کو سمجھانا کہ سوچ خود بخود آتی ہے، سوچ کو بلانا نہیں پڑتا، مگر یہ بات کسی کو سمجھانا بہت مشکل ہے، سوچ خود بخود آتی ہے، سوچ کو بلانا نہیں پڑتا۔