وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 3 کھرب 56 ارب 20 کروڑ کا صوبائی بجٹ 27-2026 پیش کردیا جس میں عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، مزدور کی کم از کم اجرت اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پینشن میں اضافے کا اعلان کردیا گیا۔
سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج 13ویں مرتبہ سندھ کا بجٹ پیش کر رہا ہوں۔ مسلسل گیارہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز اور بڑی ذمہ داری ہے۔ کسی اور منتخب عوامی نمائندے کو مسلسل اتنی بار بجٹ پیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، مرحوم والدین کی دی ہوئی اقدار آج بھی میری رہنمائی کرتی ہیں۔ سندھ کے عوام کی خدمت کے سفر میں اہلِ خانہ کی قربانیوں اور تعاون کا شکر گزار ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت اور سماجی انصاف کی بنیادوں کو مضبوط کیا، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جرات اور قربانیاں آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی رہنمائی اور مستقل حمایت پر ان کا شکر گزار ہوں۔ چیئرمین بلاول کا عوام دوست ترقی اور سماجی انصاف کا وژن ہماری ترجیحات کا محور ہے۔ ہاریوں، محنت کشوں، خواتین اور نوجوانوں کی فلاح حکومت سندھ کے ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو ان کی قربانیوں اور خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاک افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضامن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور اصولی سفارت کاری کی مضبوط آواز بن کر ابھرا ہے، ایران بحران کے دوران پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ خطے میں امن اور مکالمے کا داعی ملک ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے باہمت اور ثابت قدم عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت قومی استحکام کیلئے 260 ارب روپے کے انتظامات پر اتفاق کیا۔ 260 ارب کی قومی معاونت کے باوجود سندھ نے آئینی حقوق اور ترقیاتی ترجیحات کا تحفظ یقینی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ نے قومی مفاد میں کردار ادا کیا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا، سندھ کی عوام نے ہمیشہ ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا۔ سندھ حکومت نے قومی ذمہ داری اور عوامی ترقی دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی مثال قائم کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے نئے مالی سال 27-2026 کا 3 کھرب 56 ارب 20 کروڑ کا بجٹ پیش کرتے ہوئے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے اور پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا اور جبکہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء ضم کرنے کا اعلان بھی کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ سندھ میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کر رہے ہیں۔
سید مراد علی شاہ نے کراچی میں 'سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر' بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ فنانشل سینٹر انفرااسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا۔
کراچی کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنا رہے ہیں، ڈیجیٹل سندھ وژن کے تحت گرین ڈیٹا انفرااسٹرکچر اور اے آئی اکانومی کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ نے مالی سال 26-2026ء میں 900 ارب روپے سے زائد کی رکارڈ ترقیاتی سرمایہ کاری کی۔ ترقیاتی پروگرام کے تحت سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی کے منصوبے مکمل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے 952 ترقیاتی اسکیمیں مکمل کر کے عملی ترقی کی نئی مثال قائم کی۔ 337 سڑکوں، 179 بلدیاتی، 175 پانی و نکاسی آب، درجنوں سماجی منصوبے مکمل کیے گئے۔ 900 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کے ثمرات سندھ کے ہر ضلع تک پہنچ رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کیساتھ تعاون میں ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کر کے 400 ارب روپے کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں کچرے سے ایندھن اور تجارتی مصنوعات بنانے کا ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام متعارف کروادیا گیا جبکہ چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال میں ریکارڈ 900 ارب روپے سے زائد ترقیاتی سرگرمیوں پرخرچ کیے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کیلئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلی نے عالمی سرمایہ کاری کیلئے 'سندھ گرین ڈیٹا انفرااسٹرکچر انیشیٹو' کے آغاز کا اعلان کیا اور کہا کہ عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری لائی جائے گی۔
عالمی تعاون سے 1.675 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید 17 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کے فنڈز حاصل کیے۔ مکانات کے منصوبے میں لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا۔
صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی اور جے پی ایم سی کی خدمات میں توسیع کردی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 1123 ٹیلی طبیب سروس اور 1122 ایمبولینس نیٹ ورک مزید مضبوط بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے تحت 1300 سے زائد اسکولوں کی عمارات تعمیر اور اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں۔ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کر کے 5 فیصد کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ، طبی عملہ خلوص اور لگن سے قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ تعلیم کے شعبے کےلیے 25.9 ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی، صحت کے شعبے کے لیے 17.4 ارب روپے اور زراعت و لائیواسٹاک کے ترقیاتی کاموں کے لیے 6.3 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق کے ساتھ تعاون میں ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کر کے 400 ارب روپے کرنا پڑا۔ وفاق کےساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کےحصےکاتحفظ یقینی بنایا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سوشل پروٹیکشن پیکیج کیلئے 13.2 ارب روپےکی خطیر رقم مختص کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بےنظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں۔ سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی اسکیمیں جاری رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پوائنٹ آف سیل سے منسلک بیوٹی سیلونز اور اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر لاگو ٹیکسز میں کمی کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی۔ زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی بجٹ میں سب سے زیادہ رقم لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفرااسٹرکچر کے لیے 121.6 ارب روپے مختص کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے، جبکہ آبپاشی منصوبوں کے لیے 30.9 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا گیٹ وے بنانے کا عزم
وزیراعلیٰ سندھ نے کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید بےنظیر کے وژن کے تحت اب چیئرمین بلاول کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگِ میل بننے جا رہا ہے، کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہوگا۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا۔ ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے۔
شاہراہ بھٹو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا شہری انفرا اسٹرکچر منصوبہ
ان کا کہنا تھا کہ شاہراہِ بھٹو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا شہری انفرااسٹرکچر منصوبہ ہے۔
60.7 ارب روپےلاگت سے تعمیر شاہراہِ بھٹو عوام کےلیے بڑی سہولت ہے۔ شاہراہِ بھٹو کراچی کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے۔
شاہراہ بھٹو پہلا بڑا انفرا اسٹرکچر منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا گیا ہے۔ شاہراہِ بھٹو کی تعمیر سے سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ گیا ہے۔ شاہراہِ بھٹو روزانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیوں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہے۔
کراچی کا مجموعی ترقیاتی پیکیج اور بجٹ
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ حکومت کراچی کے میگا ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ شہر میں مجموعی طور پر 816 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جن کی کل تخمینی لاگت 644.3 ارب روپے ہے، جبکہ مالی سال 27-2026ء کے دوران کراچی کی تمام اسکیموں سمیت مجموعی طور پر 822 منصوبوں کے لیے 108.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر میں 500 ملین روپے سے زائد لاگت کے 167 بڑے منصوبے جبکہ 1000 ملین روپے سے زائد لاگت کے 110 میگا منصوبے جاری ہیں۔ انفراسٹرکچر، ٹریفک، صفائی، پانی اور تعلیم کے شعبوں کے یہ اربوں روپے کے منصوبے صوبائی بجٹ کا حصہ بن چکے ہیں۔
تعلیم، صحت، بلدیاتی سروسز اور دیگر شعبے
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال کراچی کے لیے رواں مالی سال ایک ارب روپے اور این آئی سی وی ڈی (NICVD) کراچی میں بچوں کے امراضِ قلب یونٹ کے لیے 1.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں کراچی ایجوکیشن کمپلیکس، کراچی یونیورسٹی، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور نئے میڈیکل کالج کے قیام کے لیے ترقیاتی فنڈز جاری کیے جائیں گے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تاھ کہ لیاری میں بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج کے منصوبے پر 184 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو لا یونیورسٹی کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
امن و امان، سیف سٹی پراجیکٹ اور معاشی ویژن
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی میں سندھ سیف سٹیز پروگرام کے فیز-I اور فیز-II کے تحت 1325 اسمارٹ کیمرے نصب کیے گئے ہیں جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
وزیراعلیٰ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ اور واک آؤٹ
وزیراعلیٰ کی تقریر کے دوران اپویشن کی جانب سے بجٹ نامنظور کے نعرے لگائے گئے اور شور شرابہ کیا گیا۔
بعد ازاں اپوزیشن اراکین نے سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔