امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے تو دنیا نے سمجھا جیسے کسی پرانے زخم پر مرہم رکھ دیا گیا ہو۔ اخباروں نے اسے امن کا دروازہ کہا، ٹیلی وژن والوں نے اسے نئے مشرقِ وسطیٰ کی صبح بتایا، مگر ہر صبح سب کیلئےروشنی نہیں لاتی۔ کبھی کبھی سورج ایک گھر کو روشن کرتا ہے اور دوسرے گھر کی دیوار پر سایہ مزید گہرا کر دیتا ہے۔واشنگٹن اس رات بھی ویسا ہی تھا جیسے طاقت کے شہر ہوا کرتے ہیں۔ باہر روشنیاں تھیں، اندر اندیشے تھے۔ سڑکوں پر گاڑیاں چل رہی تھیں، مگر کچھ دلوں میں تاریخ کے پہیے تیزی سے گھوم رہے تھے۔ معاہدے کے چند گھنٹے بعد شہر کی ایک خاموش عمارت میں بارہ آدمی جمع ہوئے۔ عمارت باہر سے عام تھی، جیسے کسی بوڑھے چرواہے کی جھونپڑی، مگر اندر بیٹھے لوگ معمولی نہیں تھے۔ ان میں سرمایہ دار تھے، سابق انٹیلی جنس افسر تھے، سفارت کاری کے پرانے شکاری تھے، میڈیا کے کاریگر تھے، اور وہ لوگ بھی تھے جن کے نام اخبارات میں کم آتے ہیں مگر فیصلوں کی میزوں پر ان کی انگلیوں کے نشان رہ جاتے ہیں۔کمرے میں ایک لمبی میز تھی۔ میز پر فائلیں رکھی تھیں، پانی کے گلاس تھے، اور ہر چہرے پر وہ سنجیدگی تھی جو انسان کے چہرے پر اس وقت آتی ہے جب وہ کسی اور کی تقدیر پر گفتگو کرنے بیٹھتا ہے۔ سب کے سامنے ایک رپورٹ پڑی تھی۔ اس کے پہلے صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:”نیا مشرقِ وسطیٰ تشکیل پا رہا ہے۔ “
اجلاس کی صدارت ڈیوڈ روزن کر رہا تھا۔ عمر نے اس کے بال سفید کر دیے تھے مگر اس کی آنکھوں میں ابھی تک حساب کتاب کی تیزی باقی تھی۔ اس نے فائل بند کی، عینک اتاری اور کہا: ”دنیا سمجھتی ہے کہ آج امن کا معاہدہ ہوا ہے۔ مگر امن بھی کبھی کبھی طاقت کے پرانے ترازو کو الٹ دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اچھا ہے یا برا۔ سوال یہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد اسرائیل کی موجودہ قیادت اپنے لوگوں کو کہاں لے جائے گی۔“
ایک سابق انٹیلی جنس افسر نے اسکرین روشن کی۔ نقشے نمودار ہوئے۔ سرحدیں، میزائل، معیشت، تنہائی، عوامی غصہ، جنازے، سائرن، پناہ گاہیں۔ اس نے کہا: ”خطرہ باہر سے کم نہیں ہوا، مگر اندر کی غلطیوں نے اسے کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ایک حکومت جب خوف کو ڈھال بناتی ہے تو آخرکار اپنے ہی شہریوں کو اس ڈھال کے پیچھے قید کر دیتی ہے۔“سرمایہ داروں میں سے ایک نے میز پر ہاتھ رکھا۔”بازار جنگ سے نہیں ڈرتا، غیر یقینی سے ڈرتا ہے۔اور آج اسرائیل صرف دشمنوں سے نہیں، اپنی پالیسیوں کی غیر یقینی سے گھرا ہوا ہے۔ “
کمرے میں دیر تک بحث ہوتی رہی۔ کوئی شخص خوش نہیں تھا۔ کوئی فتح کا نعرہ نہیں لگا رہا تھا۔یہ وہ مجلس نہ تھی جہاں شراب کے جام چلتے ہیں؛ یہ وہ مجلس تھی جہاں ہر جملہ پتھر کی طرح میز پر رکھا جاتا ہے۔کچھ لوگ کہتے تھے کہ ابھی وقت ہے، قیادت کو بدلنے کے بجائے اس پر دباؤ بڑھایا جائے۔ کچھ کہتے تھے کہ جب گھر کی چھت ٹپک رہی ہو تو پہلے برتن رکھے جاتے ہیں، مگر جب دیواریں بھی ہلنے لگیں تو گھر کو نئے معمار کی ضرورت ہوتی ہے۔
آخر ڈیوڈ کھڑکی کے پاس گیا۔ واشنگٹن کی روشنیوں کو دیکھتے ہوئے اس نے کہا: ”ریاست درخت ہے، حکومت اس پر آنے والا موسم۔ اگر موسم زہریلا ہو جائے تو درخت کو بچانے کے لیے موسم بدلنا پڑتا ہے۔“اس کے بعد کمرے میں وہ جملہ بولا گیا جس سے سب بچ رہے تھے:”رجیم چینج ضروری ہو گیا ہے “۔یہ جملہ نعرہ نہیں تھا۔ یہ تلوار کی چمک بھی نہیں تھا۔ یہ ایک سرد فیصلہ تھا، جیسے پہاڑ پر برف خاموشی سے گرتی ہے مگر صبح پوری وادی بدل چکی ہوتی ہے۔ فیصلہ ہوا کہ تبدیلی کا راستہ تشدد نہیں ہوگا۔ بندوق سے بدلی ہوئی حکومت بندوق کی ہی زبان سمجھتی ہے۔ اس لیے راستہ عوامی رائے، سیاسی دباؤ، قانونی سوالات، پارلیمانی احتساب، آزاد صحافت اور عالمی سفارتی تنہائی کے ذریعے بنایا جائے گا۔
ایک میڈیا ماہر نے کہا:” لوگوں کو بتایا جائے کہ حکومت پر سوال اٹھانا قوم سے غداری نہیں۔ بعض اوقات سوال ہی قوم کو بچاتا ہے“۔
ایک سفارتکار نے اضافہ کیا:۔”دنیا کو یہ سمجھانا ہوگا کہ موجودہ قیادت اسرائیل کو مضبوط نہیں، اکیلا کر رہی ہے۔ دوستوں کو تھکا رہی ہے، دشمنوں کو بہانہ دے رہی ہے، اور اپنے لوگوں کو مسلسل خوف میں زندہ رکھ رہی ہے۔“
رات گہری ہوتی گئی۔ باہر شہر سو رہا تھا، اندر تاریخ جاگ رہی تھی۔ آخر ایک مختصر قرارداد لکھی گئی۔ اس میں کہا گیا کہ موجودہ قیادت خطے کو مزید آگ کی طرف لے جا رہی ہے، اس لیے ایک نئی سیاسی قیادت کیلئے راستہ ہموار کیا جائے۔ مقصد ریاست کو گرانا نہیں، ریاست کو بچانا ہے۔ مقصد قوم کو کمزور کرنا نہیں، اسے غلط فیصلوں کے بوجھ سے آزاد کرنا ہے۔جب دستخط مکمل ہوئے تو کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ کسی نے تالیاں نہیں بجائیں۔ شاید اس لیے کہ سب جانتے تھے، تاریخ کی میز پر کیے گئے دستخط کبھی صرف سیاہی نہیں ہوتے؛ کبھی وہ آنے والی نسلوں کے ماتھے پر سوال بن کر ابھرتے ہیں۔
ڈیوڈ سب سے آخر میں باہر نکلا۔ آسمان پر بادل چھٹ رہے تھے۔ اس نے دل میں سوچا: قومیں ہمیشہ دشمنوں سے نہیں ہارتیں۔ کبھی کبھی وہ اپنے ان رہنماؤں سے ہارتی ہیں جو خوف کو عقل سمجھ بیٹھتے ہیں۔اور واشنگٹن کی رات خاموش رہی، جیسے اسے معلوم ہو کہ اصل کہانی ابھی شروع ہوئی ہے۔