• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیض احمد فیض کو کراچی میں دو کالجز میں سے کسی ایک کی پرنسپل شپ لینےکی پیشکش ہوئی تو انہوں نے لیاری کے عبداللہ ہارون کالج کا انتخاب کیا۔لوگ دور دراز سے سفارشیں لگواکر یہاں پڑھنے آتے تھے۔لیاری باشعور لوگوں کابسایا ہوا چھوٹا سا یونان تھا۔یہاں کے ڈھابوں پر کانٹ اور ہیگل پربات ہوتی تھی۔پراگندہ حال مزدور ٹالسٹائی اور چیخوف کو پڑھتے تھے۔صبا حسن دشتیاری اور میربخش بزنجو جیسے قدآور لوگوں کے ساتھ مباحثے کرتے تھے۔یہ ڈھابے اور ہوٹل لیاری کے سینما گھر بھی تھے۔ممنوعہ فکری لٹریچر اوراچھی فلموں کی کیسٹوں تک رسائی انہی ہوٹلوں کے مالکان کے ذریعے ممکن تھی۔کچھ ہوٹلوں میں اسٹوڈیو بھی تھے۔ایک ہوٹل کا نام ہی 'آفتاب موسیقی تھا۔لوگ بتاتے ہیں کہ اس ہوٹل کی دیواریں کسی منظم آرٹ گیلری کا منظر پیش کرتی تھیں۔ کائونٹر پر چاچا عبدالحق کا گرامو فون رکھا تھا جس سے پکے راگ سنائی دیتے تھے۔

صدیق شیدی جیسا فن کار بھی دراصل ڈھابے کا ہی مالک تھا۔خود چائے بھی بناتا تھا اور ڈھابے کے ہی باہر تھیٹر بھی چلاتا تھا۔تھیٹر کا لیاری میں پورا گروپ موجود تھا۔یہ گروپ کھڑے کھڑے کہیں بھی تھیٹر شروع کردیتا تھا۔یہاں شادیوں تک میں سفید پردہ لگا کرفلم دکھانے اور تھیٹر سجانے کا رواج تھا۔یہاں کے پرانے بابوں کو شیکسپیئر،آغا حشر کاشمیری اور امتیاز علی تاج کے ڈراموں کے ڈائیلاگ اور کردار انہی تھیٹروں کے توسط سے یاد ہیں۔کلاسیکی موسیقی کو شادیوں کا لازمی سا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ استاد بڑے غلام علی خان اور مہدی حسن خان یہاں کی شادیوں میں پوری پوری رات سماں باندھ چکے ہیں۔لیاری کے اپنے موسیقار بھی بہت تھے۔ان کے آرٹ میں ثقافت اور مزاحمت کے رنگ کافی گہرے تھے۔یہ ایوب خان، یحییٰ خان اور پھر جنرل ضیا کے خلاف ساحر، جالب، فیض اور گل خان نصیر کی غزلیں گاتے ہوئے گزر گئے۔آج بھی گئے وقتوں کے کچھ نشان وہاں باقی ہیں۔اب انکے ہارمونیم خاموش خاموش سے ہیں اورکمروں میں اداسیاں بولتی ہیں۔پاکستان کے بڑے شہروں میں جب خواتین کے حقوق ٹھیک سے طے بھی نہیں ہوئے تھے، تب لیاری کی 'جھٹ پٹ مارکیٹ میں کپڑوں سے سبزی تک کی ہر دکان خواتین چلارہی تھیں۔چھوٹے موٹے کاموں کے لیے انہوں نے مرد ملازم رکھے ہوئے تھے۔مرد بہت سہولت سے اس مارکیٹ میں خریداری کرتے تھے۔یہ مارکیٹ اب بھی موجود ہے مگر اب یہ مردوں کے قبضہِ قدرت میں چلی گئی ہے۔فیض کے آنے سے بھی پہلے لیاری کے عام سے لوگ بینر لگا کر '’بچیوں کو گھر سے نکالو، اسکول بھیجو‘ جیسی مہم چلا رہے تھے۔آپا گل بی بی اور ملا جنت بی بی جیسی خواتین نادار بچیوں کو جدید تعلیم فراہم کر رہی تھیں۔مخلوط نظام تعلیم انکے لیے کوئی حیران کر دینے والا سوال نہیں تھا۔

لیاری اب چھوٹا سا یونان ہے یا نہیں، کچھ کہنا مشکل ہے۔لیاری آج بھی برازیل ہے، یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے۔لیاری میں کرکٹ کا نام و نشان نہیں ہے۔اس سے وہ کلونیل دور میں بھی دور تھے۔لیاری میں فٹ بال کا جنون ہے۔کرکٹ میں استعمال ہونے والی کرمچ گیند ہاتھ لگ جائے تو اسکو بھی فٹبال بنا دیتے ہیں۔ڈیڑھ انچ جگہ بھی مل جائے تو فٹبال میچ کی گنجائش نکال لیتے ہیں۔۔امریکی سفارت خانے کو اس جنون نے اس قدر جکڑ لیا تھا کہ انہوں نے اپنے موبائل سینماز بھجوا کر ان کو فٹبال شو دکھانا شروع کر دیے تھے۔لیجنڈری دلیپ کمار لیاری کے فٹبالر کیپٹن عمر کے سچے پرستار تھے۔اتنے سچے کہ ملاقات کے لیے کپتان عمر کوخود عرضی بھجوادی تھی۔ڈھاکہ فٹبال کلب کا پورے خطے میں ایک نام تھا۔سانحہ مشرقی پاکستان تک ڈھاکہ کے کلب میں آدھے سے زیادہ کھلاڑی لیاری کے ہی ہوتے تھے۔ساٹھ کی دہائی میں ترکی کی فٹبال ٹیم پاکستان آئی تو ہماری قومی ٹیم کو آسانی سے شکست دینے میں کامیاب ہوگئی۔یہی ٹیم پریکٹس میچ کے لیے کراچی گئی تو لیاری کے جوانوں سے میچ پڑ گیا۔میچ کی فرمائش لیاری کی ٹیم نے غالبا خود کی تھی۔لیاری نے پہلے ہی راؤنڈ میں دو گول کردیے۔مہمان ٹیم نے سر پکڑ لیے کہ یہ کون لوگ ہیں بھئی۔یہ پہلے کہاں تھے۔ترک قدر دان تھے۔ جاتے ہوئے جبار بلوچ اورمولا بخش گوٹائی کو ساتھ لے گئے۔انقرہ کے میدان آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔کرکٹ کا ورلڈ کپ کیوں نہ چل رہا ہو، اور پھر انڈیا پاکستان کا ہی میچ کیوں نہ ہو رہا ہو، لیاری کان لپیٹ کر اپنی دنیا میں مست ہوتا ہے۔فیفا ورلڈ کپ کی آواز پڑنے کی دیر ہوتی ہے لیاری چاروں آنکھ جاگ جاتا ہے۔انگ انگ میں بجلیاں بھرجاتی ہیں۔سڑکیں ہررنگ کی جھنڈیوں سے سج جاتی ہیں۔میدانوں میں اسکرینیں نصب ہوجاتی ہیں۔کراچی نیشنل اسٹیڈیم میں لائیو کرکٹ کے اتنے شائقین نہیں ہوتے، جتنے لوگ لیاری میں فٹبال کی ایک اسکرین کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔کم و بیش 35 ہزار۔اور تو اور، یہ فیفا کی طرح ہر ورلڈ کپ پر اپنا ہی کوئی چھوٹا موٹا میوزک بھی ریلیز کردیتے ہیں۔فنکاروں کی بھی تو کمی نہیں ہے نا۔ڈانس، میوزک اور اسپورٹس تو جیسے جین میں لیکر پیدا ہوتے ہیں۔انہیں آئی فون پکڑا دو یہ پوری فلم بنا دیں گے۔اس سال بھی لیاری نے یہاں وہاں چالیس سے زائد اسکرینیں نصب کر دی ہیں۔جرمنی سے ارجنٹائن تک ہر ملک کا جھنڈا اور ہر ٹیم کی شرٹ نظرآرہی ہے۔دیواروں پر پیلے، میراڈونا،رونالڈینو، رابرٹو کارلوس، میسی اور رونالڈو کی تصویریں ابھرآئی ہیں۔محلے ٹیموں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔زبردست نعرے، شور شغب اور ہوٹنگ چل رہی ہے۔انڈیا کا ہر دوسرا یوٹیوبر فیفا کے بعد لیاری کے اس جنون کی طرف متوجہ ہے۔

لیاری کی مقامی ٹیموں میں لڑکیوں کی تعداد بھی حیران کن ہے۔ٹیم میں اندراج صنف کی بنیاد پر نہیں ہوتا، اہلیت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔لیاری سے ابھرتی ہوئی فٹبالر مائیکاں بلوچ اسی ٹیم کا حصہ ہے۔وہ کہتی ہے کہ منشیات اور بندوق کبھی ان کی پہچان نہیں تھی۔علم اور محنت کے بعد انکی پہچان یہی فٹبال ہے۔لیاری کی آنکھوں کے گرد اب گہرے سیاہ حلقے ہیں مگر ان آنکھوں میں اب بھی خواب پلتے ہیں۔ایک آنکھ میں چھوٹے سے یونان کا خواب، دوسری آنکھ میں چھوٹے سے برازیل کا خواب۔

تازہ ترین