• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے سنا ہے کہ ہماری دنیا تین حصہ پانی اور ایک حصہ زمین پر مشتمل ہے۔ یہ بات میں نے ایک بار نہیں، بلکہ بار بار سنی ہے۔ یہ بات میں نے پرائمری اور سیکنڈری اسکول میں سنی تھی۔ یہ بات میں نے کالج میں سنی تھی۔ یہ بات میں نے یونیورسٹی میں سنی تھی، چونکہ میں سائنسدان وغیرہ نہیں ہوں، اس لیے سنی ہوئی بات پر سائنسی تصدیق کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ میں سیدھا سادا فنون لطیفہ کا بگڑا ہوا طالب علم ہوں۔ میں کبھی بھی تھوڑی بات پر سائنس کے حوالے نہیں دیتا۔ بحث مباحثوں میں خواہ مخواہ سائنس کو گھسیٹ کر نہیں لے آتا۔ میں علم سائنس کے بارے میں اتنا جانتا ہوں جتنا کہ اڑتی ہوئی چڑیا کے پروں کے بارے میں جانتا ہوں۔ اگر دنیا تین حصے زمین اور ایک حصہ پانی ہوتی تو پھر بھی میرے لیے کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑتا، میں نہ زمیندار ہوں، نہ وڈیرا ہوں، نہ جاگیردار ہوں، نہ سردار ہوں، طعی طور پر میں اس بات پر دانشوری دکھانے کی کوشش نہیں کرتا کہ اگر دنیا تین حصہ پانی اور ایک حصہ زمین نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ میں نے سنی ہوئی بات آپ کو سنائی ہے۔

سنی ہوئی غیر سائنسی بات میں نے اس لیے آپ کو سنائی ہے تاکہ آپ سوچنے لگیں کہ آپ زندگی بھر تین حصہ سنی سنائی باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور ایک حصہ منطقی باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ہم ہوتے ہیں، وہاں افواہوں کی کھیتی کبھی نہیں سوکھتی، جس قدر آپ سنی سنائی باتوں پر انحصار کریں گے اس سے کہیں زیادہ آپ افواہوں میں بھیگتے رہیں گے۔ اس طرح کی صورت حال میں ایسا وقت لازمی طور پر آتا ہے جب آپ سنی ہوئی ہر بات پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ آپ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ہر سنی بات کا انحصار سچ پر ہوتا ہے۔ تصدیق ہونے لگتی ہے آپ کو، آپ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ بغیر سائنسی تصدیق کے آپ زندگی کے ہر راز سے واقف ہیں، موت کے ہر راز سے واقف ہیں، آپ سب کچھ جانتے ہیں، کچھ بھی آپ سے چھپا ہوا نہیں ہے۔

لاکھوں برسوں پر پھیلی ہوئی انسانی تاریخ میں ایک مثال نہیں ملتی، جس میں مر جانے کے بعد کوئی شخص کچھ عرصہ بعد لوٹ آیا ہو اور اس نے چشم دید گواہی دی ہو کہ مر جانے کے بعد اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ وہ کہاں کہاں موجود تھا اور کیسے لوٹ آیا تھا؟ حالانکہ وہ یہ بھی بتا نہیں سکتا کہ ایک لمبے عرصہ تک مر جانے کے بعد کس طرح وہ اپنی اصلی صورت شکل میں لوٹ آیا تھا؟

طے ہے کہ ہر لمحہ سب کچھ بدلتا رہتا ہے، آج جس بچے نے جنم لیا ہے، دوسرے دن وہ بچہ دو دن کا ہوچکا ہوگا، دیکھنے والوں کو بچے کی شکل و صورت میں واضح تبدیلی دکھائی دی ہوگی۔ لہٰذا ممکن نہیں ہے کہ مر جانے کے کئی برس بعد آپ اپنی اصلی صورت و شکل میں لوٹ آئیں اور پراسرار حقیقتوں سے پردہ اٹھائیں، غیر سائنسی تصدیق کے مطابق کسی وجہ سے لاش جب قبر سے دوبارہ نکال کر دیکھی جاتی ہے، تب آپ کو ڈھانچے میں تبدیل ہوتا ہوا شخص دیکھنے کو ملتا ہے۔

تصدیق کرنے والوں کی تصدیق ہوچکی ہوتی ہے کہ وقت سے زیادہ قابل تبدیل حقیقت دوسری کوئی حقیقت ہو نہیں سکتی، کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے، حتیٰ کہ حقائق بدل جاتے ہیں، قاتل کوئی اور ہوتا ہے، مگر سزا کسی اور کو ملتی ہے، ذوالفقار علی بھٹو کا کیس یاد ہے نا آپ کو؟ جج صاحبان نے خود تصدیق کردی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی موت قانونی قتل تھا۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی، یہاں سے بات شروع ہوتی ہے، بقول جج صاحبان کے ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی پھانسی کی سزا اصل میں سابق وزیراعظم کا قانونی یا عدالتی قتل تھا۔ بات سے بات جنم لیتی ہے۔ اگر واقعی ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی موت کی سزا قانوناً جرم تھا، تو پھر ان جج صاحبان پر مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاتا جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو موت کی سزا سنائی تھی؟ تاریخ میں ایک نہیں، انیک مثالیں ملتی ہیں جن میں ساٹھ، ستر برس بعد ایسے جج صاحبان پر مقدمہ چلایا گیا تھا جنہوں نے دانستہ غلط فیصلہ سنایا تھا۔ ایسے مقدموں کی اس ملک کو اشد ضرورت ہے، سنی سنائی باتوں کی تصدیق ہونی چاہئے۔

زیادہ پرانی بات نہیں ہے، بیس بائیس برس مقدمہ چلانے کے بعد عدالت نے قتل کے دو ملزموں کو باعزت بری کرنے کا حکم سنایا تھا۔ پتہ چلا کہ پانچ برس پہلے دونوں ملزموں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ ایسے انوکھے کیس پھر سے چلنے چاہئیں، یہ دنیا صرف تین حصہ پانی اور ایک حصہ زمین پر بنی ہوئی نہیں ہے، زمین کے ایک حصے پر آج تک بہت کچھ ہوتا رہا ہے۔

تازہ ترین