• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج دس محرم ہے،سو کالم میں اپنے ایک طویل مرثیےکےکچھ بند درج کررہا ہوں۔

مظلوم دو جہاں پہ کہوں مرثیہ ، مجال

کھینچوں لبِ فرات پہ میں حاشیہ ، مجال

کیسے دکھائوں کوئی نیا زاویہ ، مجال

میرےقلم کی نوک سے وہ المیہ ، مجال

مولاعلی مدد کہ تمہارے کرم پہ میں

چلنے لگا انیس کے نقشِ قدم پہ میں

....

گھوڑے پہ ہے سوار قرینے سے وہ حسین

نکلا ہے نکہتوں کے خزینے سے وہ حسین

خوشبو خجل ہو جس کے پسینے سے وہ حسین

کوفہ کو چل پڑاہے مدینے سے وہ حسین

بڑھنے لگی ہے جانب کربل ستم کی شام

ذوالحج سے جا ملی ہے محرم کے غم کی شام

...

پہنچا وہ شہسوارِ خدا کربلا میں ہے

وہ خیمہ زن بہارِ وفا کر بلا میں ہے

آل نبیؐ کی حمد و ثنا کر بلا میں ہے

یعنی نسیم ِباد صبا کربلا میں ہے

ہائے وہ ریگزار وہ گرمی وہ سرخ دھوپ

سنولا دیا ہےجس نے قیامت کا رنگ روپ

....

اترا لبِ فرات ہےسورج زمین پر

یعنی بنا ہے دھوپ کا مخرج زمین پر

تانبہ بنی ہے آگ کی سج دھج زمین پر

ملتی نہیں ہےچھائوں کو دھیرج زمین پر

اُس ریگزار میں ہے محمد کا لاڈلا

یہ کس دیار میں ہے محمد کا لاڈلا

....

یہ دین ِآسمان کا گنبدیہاں کہاں

یہ وجہ ء انبساطِ محمد یہاں کہاں

مولاعلی کا صاحبِ مسند یہاں کہاں

صبح ِ مدینہ کی ہوئی آمد یہاں کہاں

قاتل یزیدی فوج کا منظر ہےسامنے

ابلیسِ بد سرشت کا لشکر ہے سامنے

.....

فرزند وہ علی کا، نواسہ رسول کا

نکلا وفا کے خیمے سے بیٹا بتول کا

خطبہ دیا کہ قصہ ہے دیں کے اصول کا

یہ مسئلہ نہیں کوئی رد و قبول کا

تفہیم بس یہی ہے کلام ِ مجید کی

بیعت حرام ہم پہ ہے ہر اک یزید کی

....

وہ آسماں کا لعل ، وہ بیٹا زمین کا

وارث وہ اہل بیت کے دینِ مبین کا

وہ کہہ رہا ہے دیکھئے سورج یقین کا

بس امتحان ہوگیا نانا کے دین کا

لہرفرات کس لئے آئی پلٹ بھی جا

تیرا نہیں معاملہ ، اے اَبر ہٹ بھی جا

....

مولا یہ کربلا کی قیامت ،میں کیا کروں

وہ شمر سے شقی کی شقاوت ، میں کیا کروں

اشکوں سےریگزار کی دعوت میں کیا کروں

روئوں کہ پیٹوں ، خود کو ملامت میں کیا کروں

حاصل یہی ہوا ہمیں علم و فنون سے

تر ہے زمین سبط ِ محمد ؐ کے خون سے

...

کچھ شام ِکربلاکی اذیت پہ رحم کر

اولادِ فاطمہ کی حمیت پہ رحم کر

بچوں کی بیبیوں کی معیت پہ رحم کر

اے بے نیاز اپنی مشیت پہ رحم کر

نیزے پہ سج گیا ہے وہ چہرا حسین کا

سورج بھی دیکھتا ہے سویرا حسین کا

....

شہزادیوں کی سمت تھیں آنکھیں اٹھی ہوئیں

یعنی تھیں پردہ دار، تماشا بنی ہوئیں

ملبوس خستہ ، اوڑھنیاں تھیں پھٹی ہوئیں

چہروں پہ استقامتیں پھر بھی گڑی ہوئیں

پہنچا ابھی نہیں تھا وہ قصہ دمشق میں

وہ کربلا وہ حشر کا حصہ دمشق میں


...

دیکھا جو قیدیوں کا روزینہ نے قافلہ

گھر سے ہر ایک چیز اٹھا لائی ، جو بھی تھا

زینب کی چشمِ فیض نے پوچھا اے مہ لقا

کیا چاہتی ہے ، بول بتا ، کیا کروں دعا

کہنے لگی کہ میری بھی عیدِ سعید ہو

دیدار ہو حسین کا ، زینب کی دید ہو

....

پہچان وہ جبیں وہ نظر وہ حسین ہیں

سورج کی طرح گرم ِ سفر وہ حسین ہیں

عہدِ ستم میں مثلِ سحر وہ حسین ہیں

نیزے پہ سر بلند ادھر وہ حسین ہیں

زینب اِدھر ہے سامنے تیرے کھڑی ہوئی

آغوشِ فاطمہ میں وہی جو بڑی ہوئی

....

جو چاہتےحسین تو پانی لبِ فرات

کرتا کچھ ایسی موج رسانی لبِ فرات

سیلاب بھول جاتے روانی لبِ فرات

طوفان نوح کرتا کہانی لبِ فرات

پانی دکھائی دیتا افق تک نگاہ کو

لہریں اچھال دیتیں یزیدی سپاہ کو

....

کہتے رہے فرشتے ہمیں حکم دیجئے

جنت سے لے کے آئے ہیں یہ جام پیجئے

جنات ہاتھ باندھ کے حاضر ہیں لیجئے

افلاک نے کہا کہ اشارہ تو کیجئے

لیکن مرے حسین کا مقصد کچھ اور تھا

اُس دم خیالِ سبطِ محمد کچھ اور تھا

....

آخر خدا کے دین کے معیار تھے امام

افواجِ اہل ِ بیت کے سالار تھے امام

نسلِ رُسل کےصاحبِ دستار تھے امام

قربانیٔ عظیم کو تیار تھے امام

پھر سجدۂ شعور کی ساعت ہوئی طلوع

نیزے پہ ایک صبحِ قیامت ہوئی طلوع

...

خوں سے بنا دی عرشِ معلیٰ کی یادگار

کرب و بلا میں سایہ ء سدرہ کی یادگار

ایثارِ خانوادہ ء مولا کی یاد گار

پیغمبر ء حیات کی ، فردا کی یادگار

لکھ دی ہمیشگی کی کہانی لہو کے ساتھ

ایسے لڑا کہاں کوئی اپنے عدو کے ساتھ

....

اسلام شش جہات میں پائندہ ہو گیا

دینِ وفا نکھر گیا ، تابندہ ہوگیا

سچائی کھل کھلا اٹھی ، حق زندہ ہوگیا

ٹکرایا ان سے ظلم تو شرمندہ ہو گیا

جو سانس تھے وہ ہدیہ ء تبریک بن گئے

شبیرانقلاب کی تحریک بن گئے

....

تازہ ترین