• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موقلم، ساز، گل، تازہ تھرکتے پائوں، بات کہنے کے بہانے ہیں بہت،آدمی کس سے مگر بات کرے؟بتلائو جی کس سے کرے۔ہنسو توغفور کی دل آزاری۔رو تو شکور کی دل آزاری۔ہرچیز مقدس ہوتی جارہی ہے۔ہر معاملہ حساس ہوتا جارہا ہے۔ایک حضرت انسان کی جان ہے، جو مقدس ہے اور نہ ہی حساس ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے طبقے ’انا‘ جیسے پوائنٹ پر یکجا ہوچکے ہیں۔بس انکے نظریات اورخیالات انہیں ایک دوسرے سے مختلف دکھارہے ہیں۔ہم اُسی نظریے کیلئے حساس ہیں جس سے ہماری شناخت جڑی ہوئی ہے۔نظریے پر حملہ ہمیں براہ راست خود پرحملہ محسوس ہوتاہے۔جنگیں انا کی ہوتی ہیں مگر نظریات کے میدانوں میں لڑی جارہی ہوتی ہیں۔یہ جنگ ہم تقدس اورحساسیت جیسے ناقابل شکست ہتھیاروں سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔افراد، شعبے، ادارے اور یہاں تک کے پیشے بھی اب ان ہتھیاروں کی زد پہ آچکے ہیں۔

ابھی پچھلے ہفتے کچھ وکلا کی طرف سے مشہورکامیڈین سجاد جانی کولیگل نوٹس موصول ہوگیاہے۔کس بات پہ بھلا؟اس نے ایک پروفیشن کے لفظ کو توڑ مروڑکے بیچ میں ڈکیت ڈال دیا تھا۔یہاں تخلیقیت کا مزا لینا تھا مگر وکیل صاحبان توہین کا مزہ لینے بیٹھ گئے۔وہ بھی کیا کریں۔زندگی بھرانہوں نے کچہریوں میں اپنے بڑوں کو بات بات پرتوہین عدالت کاہتھیار استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔اب انہیں دل سے لگتا ہے کہ عدالت سے جڑے معاملات اسقدر مقدس اورحساس ہوتے ہیں کہ ان پرجگت ہوسکتی ہےاورنہ شعرکہا جاسکتا ہے۔

پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا

لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے

اکبرالہ آبادی آج ہوتے تو وضاحت دے رہے ہوتے کہ میرا یہ شعر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔شیطان تو میں پیار سے اپنے دوست شکیل کو کہتا ہوں۔اس کا سولہ سال بعد بیٹا ہوا ہے، جس کا نام اس نے وکیل رکھا ہے۔ابھی پچھلے دنوں بلوچ دوستوں نے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں غریب ملازمین کو بلوچ لباس پہنے دیکھا تو انکی بھی دل آزاری ہوگئی۔سوال اٹھا دیا کہ یہ لباس ہوٹل کے منیجر کو کیوں نہیں پہنایا جا سکتا۔ناراضی کا ایسا ہی اظہار تب بھی ہوا جب ایک خاتون نے اجرک والا لباس پہن لیا تھا۔عورت نے یہ لباس سندھی ثقافت سے محبت کا اظہار کرنے کےلئے ہی پہنا تھا مگر ہمیں کیا۔ہمیں تو مزا لینا ہوتا ہے اور ہمارے مزے اذیت میں ہیں۔اذیت پسندی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ یہاں پنڈی میں کچھ جوان روزانہ کی بنیاد پر چپس، بسکٹ اور شیمپو کے ریپرز پر دل آزاری کا مواد تلاش کرتے پھرتے ہیں۔مذاق نہیں کررہا۔انہیں مواد نہ ملے تو مایوس ہو جاتے ہیں۔پھر وہ ادھر اُدھر سے حروف اٹھاتے ہیں،انہیں جوڑتے ہیں اور خود کو آزار پہنچانے کا کوئی نہ کوئی جملہ پیدا کر ہی لیتے ہیں۔ایساکرتے ہی ان کا خون رواں ہوجاتا ہے۔ایسے شکر خوروں کے تب وارے نیارے ہوجاتے ہیں جب بھرے بازار میں انہیں ایسی عورت مل جائے جس کے کپڑوں پر عربی رسم الخط میں کچھ لکھا ہو۔اب تو خیر سے آرٹ پیس، کہانی، تحریر، نظم، گیت اور کامیڈی میں بھی توہین کے پہلو ڈھونڈے جارہے ہیں۔بیچارے مشال خان نے کیا کیا تھا۔عدم کا ایک شعرہی تو لکھا تھا۔مولانا غلام رسول مہر سے احمد جاوید تک اس شعر کے مفہوم تک کوئی عالم نہیں پہنچ سکاتھا، مردان کے نظریاتی لڑکے پہنچ گئے۔کوئی تین برس پہلے ہمارےایک دوست کوعدالت میں اس لیے کھڑا کردیا گیا تھا کہ اس نے میاں محمد بخش کے اشعار لکھ دیے تھے۔دوست کی خوش قسمتی یہ تھی کہ کیس کی سماعت ایک باذوق جج کررہے تھے۔محمد بخش کی خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ زندہ نہیں تھے۔خوش قسمتی تو ویسے اقبال کی بھی یہی ہے۔آج ہوتے تو شکوہ لکھ پاتے؟ پچھلے دنوں ایک پرانی ویڈیو ہاتھ لگی جس میں نازخیالوی خود ’گورکھ دھندہ‘ سنارہےتھے۔سوچا فیس بک پہ رکھ دوں۔پھرخیال آیا کہ زمانہ نازک ہے اورآبگینے بہت حساس ہیں۔سانس بھی سنبھل کے لینا چاہیے۔

ہم جارج کارلن، میکس امینی یا ذاکرخان کو سن لیتے ہیں مگر اپنے ہاں کسی اسٹینڈ اپ کامیڈین کو پنپنے نہیں دیتے۔پھر سوال بھی اٹھا دیتے ہیں کہ ہمارے ہاں تگڑی اسٹینڈ اپ کامیڈی کیوں نہیں ہورہی۔کیسے ہو؟ زورلگاکر ہم نے دو تین پوڈکاسٹیوں کو کامیڈین ڈکلیئر کیا تھا، ان پر بھی کیسز ہوگئے۔عورتناک کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد میں کچھ عورتوں نے کامیڈی شروع کی، شروع ہوتے ہی ختم ہوگئی۔پنچ لائنوں پر داد سے زیادہ فتوے آرہے تھے۔انہیں اپنے شو تہہ خانوں میں اس طرح کرنے پڑے جیسے انقلاب کے دور میں تودہ پارٹی کے ارکان خفیہ اجلاس کر رہے ہوں۔لے دیکر لاہور کا روایتی تھیٹر رہ جاتا ہے،انکے پیچھے فارغ وقتوں میں وزارت اطلاعات پڑ جاتی ہے۔کامیڈی تو اپنے ہی تضادات کو بھاڑ میں جھونکنے کی مشق ہے۔اسکی اجازت یہاں کون دیتا ہے؟ اپنے کامیڈین تو چلو پیدا نہیں ہوئے، لیکن کیا ورن گروور جیسے ورسٹائل آرٹسٹ اور کامیڈین کو ڈھائی گھنٹے کے شو کیلئے یہاں مدعو بھی کیا جاسکتا ہے؟ مجھے نہیں لگتا۔سمن آباد تھانے میں اسکے خلاف درج ہونیوالی ایف آئی آر واحد ایف آئی آر ہوگی جس میں مجھ جیسے لنڈے کے لبرل اورعدیم ہاشمی کے لڑکے ایک ساتھ مدعی ہوں گے۔خیر چھوڑیں یہ سب۔ایک مزے کی کہانی سن لیں جو اس وقت اسکرین پر تازہ تازہ چل رہی ہے۔چترال کے دروش بازار میں کچھ لوگوں نے یہ کہہ کرسبیل الٹ دی ہے کہ اسے دیکھ کرہماری دل آزاری ہوئی ہے۔ایک بندے نے اپنے پیسوں سے شربت پانی اور برف کا انتظام کر کے اپنی ہی دکان میں سبیل لگائی ہوئی ہے، دل آزاری راہ گزرتے ہوئے ہجوم کی ہوگئی۔اب مزے کا سین یہ ہے کہ الٹا سبیل والے بابا جی کو کٹہرے میں کھڑا کرکے کہا جارہا ہے کہ اس نے امن و امان کا مسئلہ پیدا کردیا ہے۔یہ سبیل نہ لگاتا تو ہمیں غصہ نہ آتا۔ہمیں غصہ نہ آتا تو سبیل نہ الٹتی۔سبیل نہ الٹتی تو امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔تو خود بتائو امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار کون ہوا؟بس بھائی۔مجھے لگتا ہے یہ کمبخت آکسیجن بھی ایک دن بیٹھے بٹھائے حساس ہوجائیگی۔سانس کھینچا تو وکیل ناراض۔سانس چھوڑا تو نبیل ناراض۔

تازہ ترین