آج بات ہوگی تھکن کی، یعنی تھک جانے کی، میں خیر سے ہوگیا ہوں کھڑوس بوڑھا، مجھے نہ پتا چلتا ہے صبح کا اور نہ شام کا، میرے یہاں سے جانے کا سبب بڑھاپا ہے، یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی ہے، میں مکمل طور پر بوڑھا ہوچکا ہوں، میں جانتا ہوں کہ کب تھک جاتا ہوں، دانشور کبھی بوڑھے نہیں ہوتے، اسلئے وہ دانش کی جو لاجواب بات آپ کو سناتے ہیں، وہ بات آپ کو کسی تجربے سے گزرکر نہیں بتاتے، ان کی ہر بات دانش اور منطق پر مبنی ہوتی ہے، اس لحاظ سے دانشور کبھی بوڑھے نہیں ہوتے، اس لیے ان کی اکثر باتیں منطق پر مبنی ہوتی ہیں اور منطق بوڑھی نہیں ہوتی، ایک دانشور کو میں نے یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ تھک جانا عمل ہے، جب آپ کچھ نہیں کررہے ہوتے، تب بھی آپ تھک رہے ہوتے ہیں، یہ باتیں میرے ناقص تجربے سے منحرف ہیں۔میں عاجز بندہ سمجھتا ہوں کہ تھکتے تھکتے ہم بہت تھک جاتے ہیں، تب ہم مزید نہیں تھکتے، ہم تھکنا چھوڑ دیتے ہی، اس کے بعد ہم دلفریب دنیا میں نہیں رکتے، یہاں سے چلے جاتے ہیں، مگر منطقی دلائل اس نوعیت کی باتوں کو قبول نہیں کرتے، منطق کو خواہ مخواہ بیچ میں لے آئے بغیر ہم تصدیق سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم جب تھک جانا چھوڑ دیتے ہیں، یعنی ہم نہیں تھکتے، تب ہم یہ دنیا چھوڑ چکے ہوتے ہیں، جب تک ہم اس دلفریب دنیا میں ہوتے ہیں، ہم تھکتے رہتے ہیں، اگر آپ فاتح ہیں، تب بھی آپ دنیا فتح کرتے کرتے تھک جاتے ہیں، دولت کے اگر انبار ہیں آپ کے پاس، پھر بھی آپ دولت کے انباروں میں اضافہ کرتے کرتے تھک جاتے ہیں، اپنے دشمن کو ٹھکانے لگانے کے لیے تمام حدود پار کرتے ہوئے آپ تھک جاتے ہو، آپ کو اگر کھانے پلانے کا شوق ہے تو پھر ڈٹ کر کھانے پینے کے بعد آپ تھک جاتے ہو، آپ کھانا پینا چھوڑ دیتے ہو، آپ توبہ تائب ہوجاتے ہو، یہ تھکا دینے والی پیچیدہ باتیں ہیں، ان باتوں سے آپ کو دور رہنا چاہیے، یہ ایک کھڑوس کی تجویز ہے، ورنہ آپ اپنی مرضی کے واحد مالک ہیں، اگر آپ نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر کوئی طاقت آپ کے آڑے نہیں آسکتی، آپ اپنا کارنامہ سرانجام دینے کے بعد تھک کر ٹوٹ جائیں گے، مگر خوش ہوں گے، مثلاً امریکی صدر تھک کر ٹوٹ چکے ہیں، مگر تھکے ہوئے نہیں لگتے، وہ جب بھی چاہیں دنیا کے کسی چھوٹے موٹے ملک سے پنگا لے سکتے ہیں، وہ دنیا کے کسی بھی ملک سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ ایک ٹڈی جتنا ملک ہوتے ہوئے تمہیں غلیل بنانے کی اجازت کس نے دی ہے؟ ہمارے علاوہ دنیا کا کوئی ملک غلیل نہیں بناسکتا، اگر زمینی حقائق سے کسی ملک نے انحراف کیا تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔
دال مونگ کے چکر میں پڑے ہوئے لوگ غلیل نہیں بناسکتے، یہ بات آپ کو ذہن نیشن کرلینی چاہیے۔ میرا کام ہے آپ کو مفت مشورہ دینا، مشوروں پر عمل کرنا آپ کا کام ہے، ورنہ ٹرمپ جیسے صدر دنیا میں ڈیرا جمائے بیٹھے ہیں، وہ جب چاہیں تب کچھ بھی کرسکتے ہیں، آپ کو سبق سکھا سکتے ہیں، آپ غلیل بنانا بھول جائیں گے۔
باتیں کرتے ہوئے راہ راست سے بھٹک جانا میری پرانی عادت ہے، میں نے اپنی سرزنش کی ہے، راہ راست پر لوٹ آیا ہوں، آج مجھے آپ سے تھکن اور تھک جانے کے بارے میں بات چیت کرنی تھی، ہم اپنے موضوع کی طرف لوٹ آتے ہیں، اس بات پر ہم سب متفق ہیں کہ ہم تھک جاتے ہیں، یہ قدرتی عمل ہے، ہم سب تھک جاتے ہیں، یہ پریشانی والی بات نہیں ہے، یہ گھبرانے والی حقیقت نہیں ہے، آپ انیس سو سینتالیس سے ایک ہی نوعیت کے سیاست دانوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں، ان کے نام اور کام مختلف ہوتے ہیں، مگر وہ ہوتے ایک ہی ہیں، ان کو ووٹ دیتے دیتے آپ تھک کر بیزار ہوچکے ہوتے ہیں، مگر ایک ڈاکٹر کے علاوہ کسی سے آپ اپنی تھکن کی شکایت نہیں کرتے، یہیں پر آپ زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرجاتے ہیں، میں خود برسوں تک اس ایک غلطی کا مرتکب رہا ہوں۔
آپ اپنے تمام دکھ، دردوں کا ذکر کبھی بھولے سے بھی اپنے ڈاکٹر سے مت کیا کریں، آپ اپنی کسی ایک تکلیف کا ذکر ڈاکٹر سے کریں گے، جواباً ڈاکٹر آپ کو دس باتیں بتائے گا، میں نے غلطی سے اپنی تھکن کا ذکر ڈاکٹر سے کیا تھا، ڈاکٹر نے جواباً چار ہفتے لگاتار تھکن اور تھکن کے اسباب سمجھانے کی کوشش کی تھی، ڈاکٹر کا تمام تر زور اس بات پر تھا کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور تھکن بڑھاپے کی واضح وجہ ہے، تب سے آج تک میں مخمصوں کا شکار ہوں، مجھے سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ میں بوڑھا کب ہوا تھا؟ مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے میں جب بھی اپنے کام میں مگن ہوتا ہوں، تب میں تھکن محسوس نہیں کرتا، میں جب کچھ نہیں کررہا ہوتا تب بے انتہا تھکن محسوس کرتا ہوں، مجھے بس اتنی سی بات یاد رہ گئی ہے کہ ہم جب تھکن محسوس نہیں کرتے، تب ہم دنیا سے دور جاچکے ہوتے ہیں، جب بے انتہا تھکن محسوس کرتے ہیں، تب ہم زندہ ہوتے ہیں، اسی دنیا میں رہتے ہیں اور دنیا کو بھگتے رہتے ہیں۔