ہر ملک کی کوئی نہ کوئی پہچان ہوتی ہے۔ جاپان وقت کی پابندی کیلئے ، سوئٹزرلینڈ گھڑیوں کیلئے، اٹلی پیزا کیلئے، اور پاکستان اپنی امیدوں، دعاؤں، وعدوں، کمیٹیوں، کمیشنوں اور ’’جلد کارروائی ہوگی‘‘ کیلئے مشہور ہے۔خبر آئی کہ عراق نے بدعنوانی کیخلاف مہم شروع کی ہے ،تصویروں سیاست دان، ارکانِ پارلیمنٹ، سابق وزرا، مشیر اور اعلیٰ سرکاری افسران جیل میں ایک دوسرے کے گلے لگ رہے ہیں۔مجھے حیرت نہیں ہوئی۔ حیرت تو اس بات پر ہوئی کہ کسی ملک میں واقعی کرپشن کیخلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہاں تو انسدادِ بدعنوانی ایک ایسا خوبصورت لفظ ہے جسے تقریروں، منشوروں اور حلف برداری کی تقاریب میں استعمال کیا جاتا ہے۔ عملی زندگی میں اس کا وہی مقام ہے جو ڈائٹنگ کا رمضان کے بعد ہوتا ہے۔عراق نے صرف اعلان نہیں کیا، چھاپے بھی مارے۔ ہمارے ہاں اگر چھاپہ مارا جائے تو پہلے متعلقہ شخصیت کو فون جاتا ہے۔
سر! چھاپہ مارنے آ رہے ہیں، آپ لندن گئے ہوئے نا
عراق میں 21افراد گرفتار ہو گئے۔ ہمارے ہاں اگر اکیس افراد گرفتار ہو جائیں تو شام تک بیس ٹی وی چینل انہیں قومی ہیروثابت کر چکے ہوتے ہیں ، اکثر ایسے کیسز میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنتی ہے۔پھر اس پر ایک اور تحقیقاتی ٹیم بنتی ہے۔پھر پہلی ٹیم کی تحقیقات کیلئے ایک سپروائزری کمیٹی بنتی ہے۔پھر کمیٹی کی سفارشات پر غور کیلئے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ آخر میں اعلان ہوتا ہے۔’’معاملہ انتہائی حساس ہے، مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔یعنی کرپشن کے ساتھ تحقیقات بھی جوان رہتی ہیں‘‘۔
عراق میں اثاثے ضبط ہو رہے ہیں۔ہمارے ہاں اثاثے بڑھ رہے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے۔ ایک صاحب پچھلے الیکشن میں سائیکل پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے آئے تھے۔پانچ سال بعد ان کے اثاثوں میں صرف معمولی اضافہ ہوا۔اب انکے پاس تین شوگر ملیں، دو سیمنٹ فیکٹریاں، سات پلازے، چار سو ایکڑ زمین اور دبئی میں چند اپارٹمنٹ ہیں۔ جب صحافی نے پوچھا’’یہ سب کیسے ہوا؟‘‘ فرمایا ’’میں نے بہت محنت کی ہے۔‘‘
محنت تو عوام بھی کرتےہیں مگر انکی محنت سے پسینہ نکلتا ہے، ان کی محنت سے پلازے ۔عراق میں وزیر اعظم کہتے ہیں۔ ’’عوام کا پیسہ عوام کو واپس ملنا چاہئے۔ یہ جملہ پڑھ کر مجھے لگا جیسے کسی سائنس فکشن ناول کا اقتباس پڑھ رہا ہوں۔ کیونکہ ہمارے ہاں عوام کا پیسہ ایک بار اگر کہیں چلا جائے تو پھر وہ اتنا ہی نایاب ہو جاتا ہے جتنا بچپن کا سچا دوست۔وہ کبھی آف شور کمپنی بن جاتا ہے۔ کبھی فرنٹ مین۔ اور کبھی کسی عزیز کے نام منتقل ہو جاتا ہے جو اتفاق سے ہمیشہ بیرونِ ملک مقیم ہوتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کہتی ہے کہ عراق کرپشن میں 136ویں نمبر پر ہے۔ ہم نے یہ خبر پڑھی تو دل کو کچھ تسلی ہوئی۔ہم نے سوچا:’’چلو، کوئی تو ہمارے آس پاس ہے۔‘‘
ہماری قومی نفسیات بھی عجیب ہے۔ہمیں اپنی بہتری سے زیادہ دوسرے کی خرابی میں خوشی ملتی ہے۔ اگر کوئی کہے: ’’بھائی، آپ کا بچہ فیل ہو گیا۔‘‘
ہم فوراً پوچھتے ہیں: ’’اور محلے والے کا؟‘‘ اگر جواب مل جائے:’’وہ بھی فیل ہو گیا۔‘‘ تو ہمارا آدھا غم ختم ہو جاتا ہے۔
ہمارے ملک میں کرپشن جرم نہیں، ایک تہذیب ہے۔یہ بچے کے اسکول داخلے سے شروع ہوتی ہے۔ پھر ڈرائیونگ لائسنس۔پھر نوکری۔پھر تبادلہ۔ پھر ٹینڈر۔پھر پلاٹ۔پھر ترقی۔ یہ تہذیب ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔اگر پاکستان میں کبھی عراق جیسی مہم شروع ہو گئی تو سب سے پہلے ایک مسئلہ پیدا ہوگا۔جیلیں کم پڑ جائیں گی۔حکومت کو مجبوراً پانچ ستارہ ہوٹل کرائے پر لینے پڑیں گے۔پھر ان میں وی آئی پی سیل بنیں گے۔پھر اخبارات میں خبر آئیگی’’ملزم نے جیل کے ناشتے پر اعتراض کر دیا۔‘‘
پھر عدالت حکم دے گی۔"ملزم کو بادام والا دودھ، شوگر فری بسکٹ اور روزانہ چہل قدمی کی سہولت دی جائے۔اور عوام سوچیں گے۔’’کاش ہم بھی کرپٹ ہوتے‘‘۔ہمارے یہاں سب سے دلچسپ چیز احتساب نہیں بلکہ احتساب کا موسم ہے۔جیسے آم کا موسم ہوتا ہے۔گنے کا موسم ہوتا ہے۔ویسے ہی احتساب کا بھی موسم آتا ہے۔کچھ گرفتاریاں ہوتی ہیں۔کچھ پریس کانفرنسیں۔کچھ فائلیں لہراتی ہیں۔کچھ تصویریں بنتی ہیں۔پھر موسم بدل جاتا ہے۔اور جنہیں کل ہتھکڑی لگی تھی، وہ آج حکومتی اتحاد میں شامل ہو کر ملک بچانے لگتے ہیں۔ہم نے کرپشن کے خلاف اتنے ادارے بنا لیے ہیں کہ اگر ہر ادارہ صرف اپنے دفتر کی کرپشن ہی ختم کر دے تو شاید آدھا مسئلہ حل ہو جائے۔مگر ادارے ایک دوسرے پر نظر رکھتے ہیں۔کرپشن ان سب پر ہنس رہی ہوتی ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ اگر کبھی کرپشن پر عالمی اولمپکس ہوں تو پاکستان اور عراق دونوں شریک ہونگے۔فرق صرف اتنا ہوگا کہ عراق تمغہ جیتنے کے بعد احتساب شروع کر دیگا، اور ہم تمغہ جیتنے کے بعد ایک کمیٹی بنا دینگے کہ آخر ہم جیتے کیسے؟پھر کمیٹی رپورٹ دے گی،اس معاملے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
آخر میں ایک بزرگ کا قول یاد آتا ہے۔
انہوں نے کہا تھا:کرپشن ختم کرنا مشکل نہیں، صرف شرط یہ ہے کہ اسے ختم کرنیوالے خود کرپٹ نہ ہوں۔
میں نے پوچھا:ایسے لوگ کہاں ملیں گے؟بزرگ نے لمبی سانس لی، آسمان کی طرف دیکھا اور بولے:بیٹا، اسی سوال کی تلاش میں تو پوری قوم پچھتر برس سے سرگرداں ہے۔
اور ہم آج بھی اسی تلاش میں ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ عراق نے تلاش شروع کر دی ہے، اور ہم ابھی تک اس تلاش کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے پر غور کر رہے ہیں۔