• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

پابند کیسےکیا جائے…؟؟

’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹرحافظ محمّد ثانی نے سوشل میڈیا کو لگام دینےکا کوئی حل پیش نہیں کیا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کو مثالی قرار دیا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں محمّد ریاض ایڈووکیٹ نے کرّہِ ارض کو خطرات سے بچانے کی تجاویز پیش کیں۔ حافظ بلال بشیر، عالمی یوم کتاب کےحوالے سے اہم مضمون لائے۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے عروسِ سیاست کے ہم راز، چوہدری اعتزاز احسن کا خاکہ بہت ہی خُوب صُورت انداز میں پیش کیا۔

’’پیارا گھر‘‘ میں بلقیس متین رات جلد سونے اور صُبح جلدی اٹھنے کے فوائد بیان کر رہی تھیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر محمّد جلال عارف نے سرطان کو قابلِ علاج مرض قرار دیا۔ ’’متفرق‘‘ میں محمّد عمیر جمیل عثمانیہ سلطنت کی شکست کی وجوہ بیان کر رہے تھے، تو دانیال حسن چغتائی نے دنیا وآخرت کا حقیقی فرق واضح کیا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں نظیر فاطمہ، طلعت نفیس کے افسانے، عفت مسعود کا آیت اللہ خامنہ ای کو خراجِ عقیدت اور شہزادہ بشیر کے اقوالِ زرّیں پسند آئے۔

’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا اور خادم ملک دونوں کا خط جگمگا رہا تھا، بہت خُوب۔ اگلے شمارے کے ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹر ثانی نے’’سوشل میڈیا‘‘ کے اصول و ضوابط کی بات کی، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اِسے پابند کیسے کیا جائے۔ منیر احمد خلیلی ایران کے انقلاب اور بادشاہت کا تفصیلی ذکر لائے۔

رؤف ظفر کی تحریرمعلوماتی تھی۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر شکیل احمد اور ربیعہ ترمذی نے شوگر کے مریضوں کے لیے سفرِ حج آسان بنانے کے طریقے بتائے۔ رحمان فارس، انورشعور سے تفصیلی ملاقات کروا رہے تھے۔ ایم شمیم نوید ریٹائرڈ افراد کے لیے مفید مشورے لائے۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘میں ہمارا خط شامل نہیں تھا، سوقصّہ ختم۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

ج: یہ جو کسی بھی مسئلے کےضمن میں کچھ ٹھوس تجاویز پیش کی جاتی ہیں، اصول و ضوابط کی تشکیل اور اُن پرعمل درآمد کی بات کی جاتی ہے، تو یہ درحقیقت اُس مسئلے کا حل ہی پیش کیا جاتاہے۔ اب کوئی لکھاری چھتّراُٹھا کے، فرداً فرداً ہرایک کی مرمّت تو کرنہیں سکتا۔ مہذّب معاشروں میں مسائل کا حل، مثبت تجاویز ہی کی صُورت پیش کیاجاتا ہے اور ایک لکھاری کا بھی بس یہی فرض ہے۔

پیاروں کے نام، پیغامات کی دوسری قسط

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دوہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ متبرک صفحہ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ ایک شمارے میں موجود تھا، ایک میں نہیں۔ پلیز، یہ صفحہ ڈراپ مت کیا کریں۔ ’’مشرقِ وسطیٰ شعلوں کی لپیٹ میں‘‘ اچھا مضمون تھا۔ اللہ پاک اپنا فضل فرمائے اور کسی طرح دنیا بھر میں امن ہوجائے۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں اس بار’’نورِ پُرنور، نورالحسن‘‘ اور ’’پٹیالہ کی رُوحِ رواں، استاد حامد علی خان‘‘موجود تھے۔

دونوں سے متعلق تفصیلاً جاننا، پڑھنا بہت اچھا لگا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں ’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ کی آخری قسط بھی دیگراقساط کی طرح شان دار تھی۔ ’’کالا باغ، جہاں ایک عظیم الشان منصوبے کا خواب دیکھا گیا‘‘شان دار تحریر تھی۔ اگروہاں کالا باغ ڈیم بن جاتا، تو آج ہمیں رینٹل پاورز سے اس قدرمنہگی بجلی نہ خریدنی پڑتی۔

’’تھرمل رسیدیں سہولت یا بیماریوں کا پروانہ‘‘بھی خاصا معلوماتی مضمون تھا۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کی دوسری قسط پڑھی۔ تو کیا پچھلے ہفتے پیغامات کی پہلی قسط شائع ہوئی تھی۔ ہم تو بہت پریشان ہوگئے ہیں کہ پچھلے ہفتےعید کی چُھٹیوں کی وجہ سے ہمیں تو میگزین ہی نہیں مِلا تھا۔ یقیناً ہمارا پیغام پچھلے ہفتے شائع ہوگیا ہوگا۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)

ج: ہمارے انٹرنیٹ ایڈیشن سے چیک کرلیں، کیوں کہ اب ہم میگزین آپ کےگھروں تک پہنچانےکی ذمّےداری تو اپنے کاندھوں پر لینے سے رہے۔

ایک کلو کی برنی

سنڈے میگزین کا ’’آپ کا صفحہ‘‘ ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی بہترین تھا۔ دیگر تمام صفحات بھی ایک سے بڑھ کرایک ہی لگے۔ اور ہمیشہ ہی کی طرح ’’ناقابلِ اشاعت کی فہرست‘‘ میں اس باربھی ہمارانام شامل تھا۔

سرِورق کی ماڈل اچھی تھی۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ ہمیشہ ہی پیغامِ محبّت لیے جلوہ گر ہوتا ہے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ سلسلہ ختم ہوگیا، دُکھ ہوا۔ ہماری شکارپوری اچار پر لکھی تحریر توآپ کو پسند نہ آئی، کہیں تو اچار کی ایک کلو کی برنی ہی بھیج دوں۔ ( شری مرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور)

ج: بڑی مہربانی۔دنیا بھر کی کوئی ایسی سوغات نہیں، جو ہمارے شہر، کراچی میں بآسانی دستیاب نہیں۔

ڈرا رکھا ہے

’’سنڈے میگزین‘‘ میں میرے بھائی حافظ عُمر ڈار کے خط میں میرا نام بھی شائع ہوا، تو ازحد خوشی ہوئی۔ یہ بات درست ہے کہ مَیں گزشتہ دو، تین ماہ سے ’’آپ کاصفحہ‘‘ میں خط لکھنے کی کوشش کررہی ہوں، لیکن لکھ نہیں پارہی۔ ایک وجہ تویہ تھی کہ ’’حافظ جی‘‘ نےمجھے بہت ڈرا رکھا ہے کہ ’’باجی صاحبہ مزاجاً بہت سخت ہیں۔

نہ تو بےجا تعریف پسند کرتی ہیں اور نہ ہی فضول تنقید۔ ہاں اگر کوئی اچھا مشورہ یا میگزین سے متعلق عُمدہ تجویز ہو تو ضرور سراہتی ہیں۔‘‘ مَیں نے کہا کہ اُنہوں نے تو خُود اجازت دے رکھی ہے کہ ’’جودل میں آئے، جو سمجھ میں آئے، لکھ بھیجو‘‘۔ حافظ جی بولے۔ ’’اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تمیز وتہذیب کادامن چھوڑ دو۔

وہ کیا ہے کہ ؎ ادب پہلا قرینہ ہے، محبّت کے قرینوں میں۔‘‘ سچ بتاؤں، تو جب سے میرے بھائی حافظ عُمر ڈار کے خطوط ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں شائع ہونا شروع ہوئے ہیں، سب گھر والے بلکہ سارے رشتے دار’’آپ کا صفحہ‘‘ بہت ہی ذوق وشوق سے پڑھتے ہیں۔ ویسے بھی آپ جو خطوط کے جوابات دیتی ہیں، بہت ہی مزے دار ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بہت کم ایڈیٹر ہوں گے، جو ایک کثیرالاشاعت میگزین کے انچارج ہوں اور اُن کا قارئین کے ساتھ بھی اتنا قریبی رابطہ ہو۔ پھر آپ مکتوب نگاروں کے خطوط کی جو اصلاح کرتی ہیں، اُس کا تو کوئی جواب ہی نہیں۔

نیز، جس طرح اِس گئے گزرے دَور میں بھی قارئین کی دل چسپی زندہ رکھنے کے لیے پوری صلاحیتوں کے ساتھ کوشاں ہیں، خال ہی کوئی مثال ملتی ہوگی۔ مجھے خط لکھنے میں اتنی تاخیر نہیں ہوئی، جتنی اِسے پوسٹ کرنے میں ہوئی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ حافظ جی کا رویہ تھا۔ یہی کہتے رہے کہ خط پہلے مجھے دکھاؤ، اگر اس قابل ہوا تو پوسٹ کروں گا۔

مَیں نے بھی نہیں دکھایا، چھوٹےبھائی حافظ علی ڈار سے پوسٹ کروا رہی ہوں۔ سنڈے میگزین میں آپ کا صفحہ، ڈائجسٹ، متفرق، پیارا گھر اور رحمان فارس کی تحاریر بہت ہی شوق سے پڑھتی ہوں۔ تبصرے کے لیے ابھی میرے پاس الفاظ کم ہیں اور کچھ خاص سلیقہ بھی نہیں ہے۔ آپ کی رہنمائی درکار ہے، ہاں پوری کوشش کی ہے کہ اِملا کی کوئی غلطی نہ ہو۔ (حافظہ مریم فاطمہ ڈار، جامعہ نظامیہ روڈ، شیخوپورہ)

ج: ماشاء اللہ، ماشاء اللہ کس قدر خوش بخت گھرانہ ہے کہ خیر سے سب بہن بھائی ہی حفّاظِ قرآن ہیں۔ جب کہ آپ لوگوں کی اعلیٰ تعلیم وتربیت کا عکس آپ کی تحاریر سے بھی جھلکتا ہے۔ بہن بھائیوں کی خالص سچّی محبت کی نشانی روایتی نوک جھونک نے بھی خاصا لُطف دیا۔

رہی بات ہمارے ڈراوے کی، تو مریم! ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کے لیے ہمارا دل کہیں زیادہ نرم وگداز ہے اور باجی صاحبہ مزاجاً سخت گیر نہیں، بس اصول و ضوابط کی پابند ہیں تو اگر حافظ جی اصولوں پرعمل پیرا ہوسکتے ہیں، تو مریم تو اُن کی نسبت کہیں زیادہ بہتر طور پر یہ کام کرسکتی ہے۔

گاؤں میں اخبار لگواؤں گی

اپنی 20 سال زندگی میں پہلی مرتبہ سنڈے میگزین دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پورا میگزین ایک ہی نشست میں پڑھ لیا، تو معلوم ہوا کہ اس مختصر سے جریدے میں تو دل چسپی کا پورا پورا سامان موجود ہے۔ بی اے پارٹ ٹو، انگلش کی تیاری کے لیے مَیں یہاں اپنے ماموں کے پاس منڈی فاروق آباد آئی ہوئی تھی۔ ماموں جان انگریزی کے استاد ہیں اور ان کے ہاں ہرروز جنگ اخبار آتا ہے۔

یہیں جنگ، سنڈے میگزین پہلی مرتبہ دیکھا ہے اور پہلی مرتبہ ہی آپ کو خط لکھ رہی ہوں۔ خط لکھنا تو ویسے بھی میری ہابی (مشغلہ) ہے، لیکن کسی اخبار میں پہلی مرتبہ خط لکھ رہی ہوں۔ مجھے میگزین کے جو چند صفحات بہت ہی دل چسپ معلوم ہوئے اور بےحد پسند آئے۔ وہ رحمان فارس کا ’’احسنِ تقویم‘‘، ’’ماڈلنگ کے صفحات‘‘، ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘، ’’متفرق‘‘، ’’ڈائجسٹ‘‘ اور ’’نئی کتابیں‘‘ ہیں۔ جب کہ سب سے زیادہ پسندیدہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ رہا۔ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ اپنے گاؤں جاکر گھر میں جنگ اخبار لگواؤں گی اور آپ کو خط بھی لکھا کروں گی۔ پکا وعدہ۔ (غزالہ فردوس غزل، پپناکھ، گوجرانوالہ)

ج: اب جب کہ سوشل میڈیا کےازدحام میں پرنٹ میڈیا کے قارئین کی تعداد افسوس ناک حد تک کم ہوچُکی ہے، ایسے میں کسی کا گاؤں جاکر باقاعدہ اخبار لینے کا وعدہ کرنا، گھور اندھیرے میں اُمید کی ایک ننھی کرن جگمگانے ہی کے مثل ہے۔ خوش رہو اور خط بھی ضرورلکھتی رہنا۔ تم سے یہ پہلی ’’آدھی ملاقات‘‘ حقیقتاً بہت اچھی لگی۔

انتظار مشکل ہوجاتا ہے

آپ لوگ ’’سنڈے میگزین‘‘ چھاپ کر گویا میرے دل کی آواز عام لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ سے لے کر ’’آپ کا صفحہ‘‘ تک ایک ایک سلسلے، ہر ہر سطر کو بغور پڑھتا ہوں۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ اوررحمان فارس نے تو ایسا گرویدہ کیا ہے کہ اگلی اتوار کا انتظار مشکل ہوجاتا ہے۔ (ماسٹر صفدر حسین صفی، حاصل پور)

                    فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

سرِورق پر دو بہناں، چار نیناں براجمان تھیں۔ آگے کی داستان کی تاب نہیں۔ فوراً سے پیش تر ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی مجلس میں حاضر ہوگئے، جو تعلیماتِ نبویﷺ کی روشنی میں، سوشل میڈیا کے مثبت، تعمیری استعمال اور تقاضوں سے آگاہ کر رہے تھے۔ نیز، تعلیم و تربیت کے ضمن میں ریاستی ذمّے داریوں کے فقدان کا بھی شکوہ کرتے نظر آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کی تو ہمارے حُکم رانوں کو خُود اشد ضرورت ہے، یہ عوام کی کیا تربیت کریں گے۔

منور مرزا حالیہ ایران، امریکا، اسرائیل جنگ میں پاکستان کی بہترین کارکردگی کی رُوداد سُنارہےتھے، امریکا کو بھی آئی ایم ایف مذاکرات میں ہمیں ریلیف دینے کے لیے کچھ کردار ادا کرنا بلکہ بھاری قرضوں سے ہماری جان چھڑوانی چاہیے۔ کھربوں ڈالرز جنگ میں جھونکنے کے بجائے ہمارے قرضے ہی معاف کروا دیتا اور ہمارے حُکم رانوں کو بھی زبانی تعریفوں پر بغلیں بجانے کے بجائے اپنی مالی مشکلات کی طرف توجّہ دلانی چاہیے کہ ہمارا بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے۔

کس قدر افسوس کی بات ہے، خلیجی مُلک نے اپنا دو ارب ڈالر کا قرضہ سُود خور مہاجن سے بھی زیادہ سخت تقاضا کرکے وصول کرلیا۔ یہ احساس بھی نہیں کیا کہ دو ایرانی میزائلز سے دو سوارب ڈالرز کا نقصان ہو جاتا، جن سے پاکستان نے بچایا۔ یہ احسان کا صلہ ہے؟ ہماری توقسمت ہی خراب ہے۔ایک طرف چالیس لاکھ افغانوں کی مہمانی کا صلہ دہشت گردی کی صُورت مل رہا ہے، خُودکُش حملوں سے لہولہان ہورہے ہیں۔

خیر، محمّد ریاض ایڈووکیٹ بے لگام صنعتی ترقی، بڑھتی ہوئی آبادی سےکرّۂ ارض کولاحق خطرات کا ذکر لائے، تو حافظ بلال بشیر نےکتاب کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ ویسے عجیب ہی لوگ ہیں ہم، فاسٹ فوڈز پر ہزاروں روپے اُڑادیتے ہیں، مگر چند سو کی کتاب خریدنے پر طبیعت مائل نہیں ہوتی۔ یہ المیہ ہی ہے کہ کتابیں فٹ پاتھ پر، جوتے شوکیسز میں سجے ہوئے ہیں۔ رئوف ظفر ’’ستھرا پنجاب‘‘ کی کام یابی کا احوال بیان کررہے تھے۔

سوفی صد سچ ہےکہ چاروں صوبوں میں پنجاب فرسٹ ہے، مگر ابھی بہت کچھ کرنےکی ضرورت ہے، غریبوں کو روزگار پنجاب ہی میں مل جائے، تو بلوچستان جاکر دہشت گردوں کا نشانہ کیوں بنیں اوربی بی مریم! ہماری ایک درخواست چاچاجی تک پہنچادیں، یہ ریلوے بوگیاں جوچائنا سے آئی ہیں، وہ چائنیز اپنے قد کےحساب سے بناتے ہیں، اوپر کی برتھ پرآدمی سیدھا بیٹھ نہیں سکتا، لاہور سے کراچی تک جُھکے جُھکے کبڑا ہوجاتا ہے، پرانی پاکستانی بوگیوں میں ایسا نہیں تھا۔ رحمان فارس شائستہ سیاست دان، چوہدری اعتزازاحسن کی ذہانت کی پرتیں کھول رہے تھے، مگر خیر چھوڑیں، کبھی کبھی سُبک رو گھوڑا بھی ٹھوکرکھا جاتا ہے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر کا قلم لشکارے مار رہا تھا۔

یہ تو آپ سے بھی آگے نکلی جا رہی ہیں۔ محمّد صفدر خان نے’’خوشیاں بانٹو اور خوش رہو‘‘ کی تلقین کی۔ بلقیس متین سحرخیزی کی افادیت لائیں۔ اختر سعیدی نےنئی کتابوں پرماہرانہ تبصرہ کیا، محمّد عمیر پہلی عالم گیرجنگ کے اسباب، سلطنتِ عثمانیہ کی شکست اورمعاہدے کی ذلت آمیز شرائط کا نوحہ پڑھ رہے تھے، تصویر سے تو نوعُمر طالبِ علم لگتے ہیں، مگر تاریخی معلومات پر کمال دسترس ہے، ویسے ہم بھی تاریخ کے طالبِ علم ہیں، پہلی عالم گیرجنگ کے واقعات ازبرہیں۔

دانیال حسن چغتائی نے علاّمہ اقبال کے’’عمل سے زندگی بنتی ہے، جنّت بھی جہنم بھی‘‘کی درست تشریح کی۔ نظیرفاطمہ نے خواتین کو مخصوص جابز کے بجائے ہر کام کرنے کی ترغیب دی۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کےدونوں واقعات خاصے سبق آموز تھے اور اپنے صفحے پر اسماء خان دمڑ کو اعزاز سے نوازا گیا، لیکن چلبلی دمڑ کی محمّد صفدر خان پرآتش فشانی پہ سخت افسوس ہوا۔ صنفی امتیاز کے تحت نوازی جاتی ہے،تواِس کایہ مطلب نہیں کہ بڑوں کا ادب احترام ہی بھول جائے۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: سچ تو یہ ہےکہ شائستہ اظہرکی تعریف وتوصیف، ہمیں ہمیشہ اپنی پذیرائی معلوم ہوتی ہے کہ اِس ہیرے کی دریافت ہی نہیں چمک دمک میں بھی اپناحصّہ محسوس ہوتا ہے اور یہ آپ کو اسماء دمڑ جیسی سچّی، کھری، معصوم سی بچّی کی باتیں کیوں اِس قدر کھٹکنے لگیں۔ ناحق صنفی امتیاز کا الزام دے رہے ہیں۔ یوں تو پھرآپ اور آپ کے ممدوح کا بزم میں داخلہ ہی ممنوع قرار پاتا۔

گوشہ برقی خطوط

سرِورق پر دو بہناں، چار نیناں براجمان تھیں۔ آگے کی داستان کی تاب نہیں۔ فوراً سے پیش تر ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی مجلس میں حاضر ہوگئے، جو تعلیماتِ نبویﷺ کی روشنی میں، سوشل میڈیا کے مثبت، تعمیری استعمال اور تقاضوں سے آگاہ کر رہے تھے۔ نیز، تعلیم و تربیت کے ضمن میں ریاستی ذمّے داریوں کے فقدان کا بھی شکوہ کرتے نظر آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کی تو ہمارے حُکم رانوں کو خُود اشد ضرورت ہے، یہ عوام کی کیا تربیت کریں گے۔

منور مرزا حالیہ ایران، امریکا، اسرائیل جنگ میں پاکستان کی بہترین کارکردگی کی رُوداد سُنارہے تھے، امریکا کو بھی آئی ایم ایف مذاکرات میں ہمیں ریلیف دینے کے لیے کچھ کردار ادا کرنا بلکہ بھاری قرضوں سے ہماری جان چھڑوانی چاہیے۔ کھربوں ڈالرزجنگ میں جھونکنے کے بجائے ہمارے قرضے ہی معاف کروا دیتا اور ہمارے حُکم رانوں کو بھی زبانی تعریفوں پر بغلیں بجانے کے بجائے اپنی مالی مشکلات کی طرف توجّہ دلانی چاہیے کہ ہمارا بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے، خلیجی مُلک نے اپنا دو ارب ڈالر کا قرضہ سُود خور مہاجن سے بھی زیادہ سخت تقاضا کرکے وصول کرلیا۔

یہ احساس بھی نہیں کیا کہ دو ایرانی میزائلزسے دو سوارب ڈالرز کا نقصان ہو جاتا، جن سے پاکستان نے بچایا۔ یہ احسان کا صلہ ہے؟ ہماری توقسمت ہی خراب ہے۔ایک طرف چالیس لاکھ افغانوں کی مہمانی کا صلہ دہشت گردی کی صُورت مل رہا ہے، خُودکُش حملوں سے لہولہان ہورہے ہیں۔ خیر، محمّد ریاض ایڈووکیٹ بے لگام صنعتی ترقی، بڑھتی ہوئی آبادی سےکرّۂ ارض کولاحق خطرات کا ذکر لائے، تو حافظ بلال بشیر نے کتاب کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ ویسے عجیب ہی لوگ ہیں ہم، فاسٹ فوڈز پر ہزاروں روپےاُڑادیتے ہیں، مگر چند سو کی کتاب خریدنے پر طبیعت مائل نہیں ہوتی۔

یہ المیہ ہی ہےکہ کتابیں فٹ پاتھ پر، جوتے شوکیسز میں سجے ہوئے ہیں۔ رئوف ظفر ’’ستھرا پنجاب‘‘ کی کام یابی کا احوال بیان کررہے تھے۔ سوفی صد سچ ہے کہ چاروں صوبوں میں پنجاب فرسٹ ہے، مگر ابھی بہت کچھ کرنےکی ضرورت ہے، غریبوں کو روزگار پنجاب ہی میں مل جائے، تو بلوچستان جاکر دہشت گردوں کا نشانہ کیوں بنیں اوربی بی مریم! ہماری ایک درخواست چاچاجی تک پہنچادیں، یہ ریلوے بوگیاں جوچائنا سے آئی ہیں، وہ چائنیز اپنے قد کے حساب سے بناتے ہیں، اوپر کی برتھ پرآدمی سیدھا بیٹھ نہیں سکتا، لاہور سے کراچی تک جُھکے جُھکے کبڑا ہوجاتا ہے، پرانی پاکستانی بوگیوں میں ایسا نہیں تھا۔

رحمان فارس شائستہ سیاست دان، چوہدری اعتزاز احسن کی ذہانت کی پرتیں کھول رہے تھے، مگر خیر چھوڑیں، کبھی کبھی سُبک رو گھوڑا بھی ٹھوکرکھا جاتا ہے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر کا قلم لشکارے مار رہا تھا۔ یہ تو آپ سے بھی آگے نکلی جا رہی ہیں۔ محمّد صفدر خان نے’’خوشیاں بانٹو اور خوش رہو‘‘ کی تلقین کی۔

بلقیس متین سحرخیزی کی افادیت لائیں۔اخترسعیدی نےنئی کتابوں پرماہرانہ تبصرہ کیا، محمّد عمیر پہلی عالم گیرجنگ کےاسباب، سلطنتِ عثمانیہ کی شکست اورمعاہدے کی ذلت آمیز شرائط کا نوحہ پڑھ رہے تھے، تصویر سےتو نوعُمر طالبِ علم لگتے ہیں، مگر تاریخی معلومات پرکمال دسترس ہے، ویسے ہم بھی تاریخ کےطالبِ علم ہیں، پہلی عالم گیرجنگ کے واقعات ازبرہیں۔ دانیال حسن چغتائی نے علاّمہ اقبال کے’’عمل سے زندگی بنتی ہے، جنّت بھی جہنم بھی‘‘ کی درست تشریح کی۔

نظیر فاطمہ نے خواتین کو مخصوص جابز کے بجائے ہر کام کرنے کی ترغیب دی۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کےدونوں واقعات خاصے سبق آموز تھے اور اپنے صفحے پر اسماء خان دمڑ کو اعزاز سے نوازا گیا، لیکن چلبلی دمڑ کی محمّد صفدر خان پرآتش فشانی پہ سخت افسوس ہوا۔ صنفی امتیاز کے تحت نوازی جاتی ہے،تواِس کایہ مطلب نہیں کہ بڑوں کا ادب احترام ہی بھول جائے۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: سچ تو یہ ہےکہ شائستہ اظہرکی تعریف وتوصیف، ہمیں ہمیشہ اپنی پذیرائی معلوم ہوتی ہے کہ اِس ہیرے کی دریافت ہی نہیں چمک دمک میں بھی اپناحصّہ محسوس ہوتا ہے اور یہ آپ کو اسماء دمڑ جیسی سچّی، کھری، معصوم سی بچّی کی باتیں کیوں اِس قدر کھٹکنے لگیں۔ ناحق صنفی امتیاز کا الزام دے رہے ہیں۔ یوں تو پھر آپ اور آپ کے ممدوح کا بزم میں داخلہ ہی ممنوع قرار پاتا۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید