• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’ستلج‘ معاملے کو عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے، انو کپور

بھارتی نژاد امریکی اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج ریلیز کے دو دن بعد ژی فائیو سے ہٹائے جانے کے باعث تنازع کا شکار ہو گئی۔ بھارتی حکومت کے اس فیصلے نے ایک بار پھر سنسرشپ اور تخلیقی آزادی کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے جس پر فلمی صنعت سے مختلف آرا سامنے آئیں۔

جہاں کئی شخصیات نے حکومت کے اس اقدام پر اعتراض کیا، وہیں سینئر اداکار انو کپور نے لب کشائی کردی، ان کا کہنا ہے کہ فلم سازوں کو عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے بجائے اس معاملے کو قانونی طریقے سے عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے۔

ہدایت کار ہنی ٹریہان کی اس فلم کا اصل عنوان پنجاب 95 تھا، جو کئی برسوں تک سرٹیفکیشن کے تنازع میں پھنسی رہی۔ بعد ازاں فلم کو سنیما گھروں میں ریلیز کرنے کے بجائے براہ راست 3 جولائی کو ژی فائیو پر پیش کیا گیا، کیونکہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر ریلیز کے لیے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی منظوری درکار نہیں ہوتی۔

تاہم ریلیز کے صرف 48 گھنٹوں بعد حکومت کی ہدایت پر ژی 5 نے فلم کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا۔ اطلاعات کے مطابق اس فیصلے کی وجہ قومی سلامتی سے متعلق خدشات بتائے گئے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انو کپور نے کہا کہ فلم سازوں کو اس معاملے پر عوامی بحث چھیڑنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے، اگر وہ حکومتی فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے تو انہیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔

انو کپور نے دلجیت دوسانجھ کے اس مؤقف پر بھی ردعمل کا اظہار کیا جس میں دلجیت نے کہا تھا کہ فن کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی اتنے حساس موضوع پر فلم بنائے گا تو اسے پہلے ہی اندازہ ہونا چاہیے کہ اس پر تنازع کھڑا ہو سکتا ہے۔ 

انٹرٹینمنٹ سے مزید