بھارتی فلم ستلج کے ہدایتکار ہنی ٹریہان نے انکشاف کیا کہ اداکار دلجیت دوسانجھ نے فلم ستلج میں کام کرنے کا صرف 1 روپیہ معاوضہ لیا۔
ہدایت کار کا کہنا ہے کہ اگر دلجیت دوسانجھ اس منصوبے کا حصہ نہ بنتے تو انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی یہ فلم کبھی وجود میں نہ آتی۔
فلم کو پہلے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے ساتھ تنازع کا سامنا کرنا پڑا اور پھر ریلیز کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی اسے خاموشی سے ژی5 سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم مشکلات کے باوجود ایک بات واضح ہے کہ دلجیت دوسانجھ شروع ہی سے اس منصوبے کے لیے پوری طرح پرعزم تھے۔
اس حوالے سے حال ہی میں گفتگو کرتے ہوئے ہدایتکار ہنی ٹریہان نے دلجیت کی کمٹمنٹ کی تعریف کی اور کہا دلجیت دوسانجھ کہہ چکے تھے کہ جسونت خالڑا جیسے عظیم انسان کا کردار ادا کرنے کے لیے معاوضہ لینا شرم کی بات ہوگی۔
ہنی ٹریہان نے کہا کہ میں ایسا اداکار چاہتا تھا جو پنجاب کے سماج کو اچھی طرح سمجھتا ہو۔ میری خواہش تھی کہ کسی سردار کو ہی کاسٹ کیا جائے، کیونکہ اگر میں کسی اور اداکار کو لیتا تو ساری توجہ اس بات پر مرکوز ہو جاتی کہ یہ اداکار ایک سردار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ خالڑا صاحب کے سفر اور ان دکھی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی جن کی تکلیف کی یہ کہانی نمائندگی کرتی ہے۔
یاد رہے فلم ستلج بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی کہانی ہے، جو ایک بینک کلرک تھے اور 1990 کی دہائی کے وسط میں پنجاب میں انسانی حقوق کے رہنما بن گئے۔
انہوں نے 1984 سے 1994 کے درمیان پنجاب میں 25,000 افراد کی خفیہ طور پر آخری رسومات سے متعلق تحقیقات کیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق 1995 میں جسونت سنگھ خالڑا کو پولیس نے اغوا کیا اور بعد ازاں دوران حراست انھیں قتل کر دیا گیا۔