• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج واٹس ایپ پر وائرل

---فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا

بھارتی اداکار و گلوکار دلجیت دوسانجھ کی متنازع فلم ستلج بھارت میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے باوجود واٹس ایپ پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے۔

پنجابی گلوکار جسبر جسی نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ فلم امریکا سمیت مختلف ممالک میں دیکھی جا رہی ہے اور اسے واٹس ایپ پر بڑے پیمانے پر ڈاؤن لوڈ اور شیئر کیا گیا ہے۔

جسبر جسی کے مطابق فلم کو ہٹائے جانے کے بعد لوگوں نے اسے غیر رسمی طریقوں سے ایک دوسرے تک پہنچایا، یہاں تک کہ ایک ہی شخص کے واٹس ایپ پر یہ فلم 10، 12 بلکہ 15 مرتبہ بھی موصول ہوئی۔

انہوں نے فلم پر پابندی کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ فلم پر پابندی کیوں لگائی گئی، کیونکہ اس میں ایسا کوئی مواد موجود نہیں تھا جو اس اقدام کا جواز بنتا۔

جسبر جسی نے کہا کہ اگر کسی سرکاری ادارے یا پولیس کو لگتا ہے کہ فلم میں پولیس کو بے بس دکھایا گیا ہے تو یہ بے بسی نہیں بلکہ نااہلی اور سنگین بدانتظامی کی عکاسی ہے۔

واضح رہے کہ ہدایت کار ہنی ٹریہن کی یہ فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی ہے اور کئی برسوں سے تنازعات کا شکار رہی ہے۔

فلم کو 2022ء میں سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (CBFC) کے پاس منظوری کے لیے پیش کیا گیا تھا، تاہم سرٹیفکیشن کا عمل تقریباً 3 سال تک تعطل کا شکار رہا۔

ہدایت کار ہنی ٹریہن اس سے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ سی بی ایف سی نے فلم میں 127 کٹس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ 2023ء میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں فلم کی مجوزہ نمائش بھی مبینہ طور پر بھارتی حکام کے اعتراضات کے باعث منسوخ کر دی گئی تھی۔

کئی برس کی تاخیر کے بعد فلم 3 جولائی کو ستلج کے نام سے ریلیز کی گئی، تاہم ریلیز کے کچھ ہی وقت بعد اسے بھارت میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔

فلم میں دلجیت دوسانجھ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ کنیل جیت سنگھ، ارجن رام پال، سوویندر وکی اور گیتیکا ودیا اوہیان بھی اہم کرداروں میں شامل ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید