• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلاول بھٹو کی تقاریر حالات خراب کرسکتی ہیں: رانا ثناء اللّٰہ

فائل فوٹوز
فائل فوٹوز 

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللّٰہ کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر حالات خراب کر سکتی ہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللّٰہ نے بلاول بھٹو زرداری کے بیان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کے بارے میں بلاول کا رویہ اچھا نہیں تھا، ان کو ووٹ کے لیے نفرت کی نہیں، بلکہ قومی لیڈر بن کر بات کرنی چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) میں کسی کو لات مار کر نکالنے کی روایت نہ تھی اور نہ ہے۔

رانا ثناء نے  کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل راٹھور نے کالعدم قرار دیا، وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی حمایت کی، وفاقی حکومت اس فیصلے کی پشت پر کھڑی ہے اور بلاول بھٹو زرداری اشاروں اور باتوں باتوں میں اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

دو روز قبل بلاول بھٹو زرداری نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو وفاقی کابینہ سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر وزیر دفاع کا بیان وفاقی حکومت کی پالیسی ہے یا نہیں؟ وزیراعظم شہباز شریف کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی اور کشمیر حکومت کی پالیسی ہے کہ دھرنے والوں کو انگیج کیا جائے، ایکشن نہ لیا جائے، حکومت کی واضح لائن ہے پہلے دھرنا ختم کریں، اس کے بعد مطالبات پر غور ہو سکتا ہے، دھرنا اور احتجاج راولا کوٹ تک محدود ہے، باقی کشمیر میں الیکشن مہم جاری ہے، ہم نے دھرنے والوں سے کہا کہ لانگ مارچ موخر کرلیں، الیکشن ہونے دیں، ان کے تمام مطالبات پورے ہوگئے، صرف سیٹوں اور ایک دو مطالبات ہیں، دھرنے والوں سے کہا کہ وہ کشمیر کی آل پارٹیز کانفرنس میں ایجنڈا رکھیں۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی 9 جون کو دھرنے پر بضد تھیں،  کالعدم ایکشن کمیٹی کے پیچھے ایسی قوتیں تھیں جو چاہتی تھیں کہ مظفرآباد کا گھیراؤ کرلیں، یہ اے آئی کا کمال نہ ہو، لیکن کسی جگہ پر یہ بات نہیں کہی کہ 12 سیٹیں ہماری ہیں، جموں کشمیر کی تحریک آزادی کو آئینی نقصان نہ ہو تو عبوری اسٹیٹس دینے میں حرج نہیں، انوارالحق کی حکومت کے بعد ہم نے کہا کہ نئے انتخابات کروائے جائیں، پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہمیں چار پانچ ماہ حکومت کرنا ہے،  کشمیر میں پیپلزپارٹی نے حکومت بنا لی، ہم اپوزیشن میں بیٹھے، اگر اس وقت الیکشن ہو جاتے تو آج دھرنے اور احتجاج کی نوبت نہ آتی، آزاد کشمیر حکومت کے وزیراعظم نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا، قمر زمان نے آزادکشمیر حکومت کے فیصلے کی حمایت کی، ہم نے بھی کی، وفاقی حکومت آزاد کشمیر حکومت کے فیصلے کی پشت پر کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی بی کو عبوری صوبہ بنانے پر پارلیمان میں بحث ہونا چاہیے، سینیٹ میں گلگت بلتستان کی نمائندگی ہوسکتی ہے، جی بی اسمبلی نمائندے بھیج سکتی ہے۔

نورین نیازی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء نے کہا کہ یہ بیان بانی پی ٹی آئی کی سوچ ہے، ان کی بہن کا بیان نہیں، اب سمجھ آگئی نا بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں کیوں بند ہیں، بانی پی ٹی آئی کی بہن گھریلو خاتون ہیں، ہمارے لیے باعث احترام ہیں، وہ گھریلو خاتون ہیں ان کو اس کی سمجھ نہیں، یہ باتیں بانی پی ٹی آئی دیگر لوگوں سے بھی کرتے ہیں، یہ بیانیہ بانی پی ٹی آئی کا ہے، آخری ملاقات کا شاخسانہ ہے۔

قومی خبریں سے مزید