سندھ طاس کے بغیر پاکستان ایک صحرا ہے اور صحرا کا مقدمہ ہمیشہ پانی سے شروع ہوتا ہے۔ پوچھا گیا کہ سندھ طاس کا سودا کس کے حق میں گیا، تو فقیر کو وہ سودا گر یاد آیا جو ایک پلڑے میں سکہ رکھتا ہے، دوسرے میں عمر بھر کی پیاس، اور حیران ہوتا ہے کہ دونوں پلڑے برابر کیوں نہیں بیٹھتے۔ ہم دہائیوں دُکھی رہے کہ تین دریا ہاتھ سے گئے، اور دلی نے اب نیا راگ شروع کر دیا کہ اس نے 80 فیصد پانی ہماری جھولی میں ڈال دیا۔ سو نالہ و شیون ایک طرف، ترازو سیدھا کیجیے اور ہر دعوے کے پلڑے میں شواہد رکھیے۔پہلی دلیل: ”80 فیصد پانی ہم نے دے دیا۔ایسی سخاوت اور کس نے کی؟“ عرض یہ کہ سخاوت نہیں، نشیب کا فیصلہ تھا۔سندھ لداخ کے سرد صحرا سے بھارتی میدانوں کو نہیں اترتا، جہلم پیر پنجال نہیں چڑھتا اور چناب واحد دریا ۔جو کچھ ہاتھ آتا ہے اسکے 25ملین ایکڑ فٹ میں سے ایک نسل کی تعمیر اور 25 ارب ڈالر کے بعد بھی بمشکل 5 ملین کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔ جو پانی روکنا ہی ناممکن ہو، اس کا سخاوت سے کیا تعلق؟ اصل حساب یہ ہےکہ مشرقی دریاؤں کے 33ملین ایکڑ فٹ میں سے 9 پر بھارت کا ہاتھ 1947ءہی سے تھا۔ 14ہماری چلتی نہروں میں کھپتا تھا۔ سو بھارت کو اضافی ملا لگ بھگ 23 ملین کا دائمی حق، جس میں 14 ہمارے کھیتوں سے گئے۔ اُن کے اپنے مذاکرات کار گلہٹی کا اقرار ہے کہ مشترکہ نہری نظام کے 26 ملین سیراب ایکڑوں میں 21 پاکستان کے تھے، 5 بھارت کے۔ سخی وہ جو اپنی گانٹھ سے دے، نہ کہ وہ جو کسی کے کھیت سے لے۔
دوسری دلیل: ”دریا ہماری سرزمین سے بہتے ہیں، سو حق ہمارا۔“ یہ وہی ہارمن ڈاکٹرائن ہے جسے عالمی قانون کب کا دفن کر چکا ۔ قبر بھی اسی کے موجد امریکا نے کھودی، جب میکسیکو کے سامنے یہ دعویٰ خود چھوڑ دیا۔ آج کا عالمی اجماع تین اصولوں پر کھڑا ہے: رائج الوقت استعمال، انحصار، اور متبادل۔ پہلے استعمال21 بمقابلہ 5۔ پھر انحصار۔مشرقی دریاؤں پر ہر پانچواں پاکستانی جیتا تھا، پورے طاس پر ہر پانچ میں سے چار جیتے ہیں اور جو باقی رہ جاتے ہیں، اُن کی رسوئی کا آٹا بھی اسی طاس سے آتا ہے۔ کراچی کا نلکا کینجھر سے بندھا ہے، نصیر آباد کی نہر سندھ سے اور پشاور کا کھیت دریائے کابل سے۔ یہ ملک سندھ طاس کے کنارے آباد نہیں یہ ملک سندھ طاس ہی ہے۔ اسی ترازو پر مصر نے جس کا دعویٰ ہم سے کمزور تھا نیل کا دو تہائی رکھ لیا۔ اور آخر میں متبادل:بھارت کے 20 دریائی طاس ہیں، سندھ اُن میں سے ایک ۔ اس کے کل پانی کا بمشکل 4 فیصد،ہمارا ایک ہی طاس ہے اور اسی پر انحصار 95 فیصد۔ اُن کے ہاں سندھ طاس فقط ایک کھاتہ ہے، ہمارے ہاں اکلوتا بہی کھاتہ ۔ اور جس اصول کو وہ یہاں جھٹلاتا ہے، برہم پتر پرجہاں وہ خود نیچے ہے ، اُسی کی پناہ مانگتا ہے۔ تیسری دلیل: ”ہم نے پاکستان کو دریاؤں کے بدلے ڈھیروں ڈالر دیے تھے۔“ فنڈ کل 90 کروڑ ڈالر کا تھا: آدھے سے زیادہ امریکا نے دیا بینک کا حصہ قرض تھا، سود سمیت لوٹا دیا اور بھارت کا حصہ اُس وقت کے 17 کروڑ ڈالر، 10 آسان قسطوں میں۔ اُس نہری نظام کے بل کا بمشکل 7 فیصد جو اسی نے اکھاڑ پھینکا تھا۔ آج کے ڈالر میں کوئی 1.9 ارب اور یہ رقم 23 ملین ایکڑ فٹ کے دائمی حق پر تقسیم کریں تو فی ملین ایکڑ فٹ لگ بھگ 8 کروڑ ڈالر ۔یہ دائمی ملکیت کا بھاؤ ہے، جب کہ آج پانی کے بازار سے پوچھیے: امریکا کے مغرب اور آسٹریلیا کے مرے ڈارلنگ میں دائمی حق کا بھاؤ 1,500 سے 5,000 ڈالر فی ایکڑ فٹ ہےکم ترین بھی لگائیں تو 23 ملین ایکڑ فٹ کی قیمت 34 ارب ڈالر سے اوپر جاتی ہے۔ یعنی کم از کم 34 ارب ڈالر کی چیز صرف 1.9 ارب ڈالر میں۔ بھارتی پنجاب آج بھی ہر برس تقریباً 1 ارب ڈالر ٹیوب ویلوں کی بجلی پر جھونکتا ہے جو قیمت تین دریاؤں کی ایک بار دی، اتنی رقم اب ہر دو سال میں زمین کا پانی کھینچنے پر۔ یعنی بھارت کو دریا سستے پڑے اور کنویں مہنگے۔
ہمیں یہ ماننے میں عار نہیں کہ ہم نے اپنے لیے کوئی شاندار سودا نہیں کیا۔ مگر جو ملا وہ بھی کم قیمت نہ تھا ۔ مغربی دریاؤں کی سند، نئی نہریں، جھگڑا نمٹانے کا میکانزم مگر جو دیا، اُس کے مقابل بہت تھوڑا تھا۔ 1948 کے ڈسے ہوئے مہندسوں سے جو بن پڑا انہوں نے کیا’بہتا پانی دے کر اُس پانی کی رسید لے لی جو نشیب کے طفیل کوئی چھین ہی نہیں سکتا تھا‘۔ سہمے ہوئے کا سودا ایسا ہی ہوتا ہے۔سوال یہ کہ اگر سودا بھارت کے حق میں ہے تو دلی اسے جلانے کیوں چلی؟ کھاتے میں کچھ نہیں بدلا،کرسی بدلی ہے۔ نہرو کے جانشین جانتے تھے کہ پلڑا کدھر جھکا ہے اسی سمجھ نے 65 برس، جنگوں کے بیچوں بیچ دستاویز محفوظ رکھی۔ آج اُسی کرسی پر ہندوتوا کا جنون بیٹھا ہے، جسے نفع نقصان کی نہیں، تالی کی طلب ہے۔ اس مکتب کا مزاج جاننا ہو تو اس کی درسی کتاب کھولیے: گنیش کا سر پلاسٹک سرجری کی سند ہے، سائنس کانگریس میں ویدک طیارے اڑتے ہیں، مہابھارت کے عہد میں انٹرنیٹ چلتا ہے۔ جو ماضی من چاہا لکھ لے، وہ دریا بھی من چاہا موڑنے کا خواب دیکھے گا۔ فرق اتنا کہ کتاب سرکار کے تابع ہے، دریا صرف نشیب کے۔
ہندوتوا کے جنون کا ہمیں بہت نقصان ہے ۔مگر وہاں سے نہیں جدھر ہماری نگاہ ہے۔ معاہدے نے دلی پر 3 فرائض واجب کیے تھے، تینوں معطل ہیں: بہاؤ کے روزانہ اعداد، سیلاب کی پیشگی اطلاع، اور کمیشن کی نشستیں و معائنے۔ اب وہاں سے کیوسک کے ہندسے نہیں آتے۔ سو جو پانی بھارت روک نہیں سکتا وہ بہہ رہا ہے جو خبر دینے کا پابند تھا، وہ روک لی۔ ہمارے لیے اس معاہدے کا اصل تحفہ پانی نہیں، پیش بینی تھا۔ جو سیلاب دکھائی نہ دے، وہ اُس نہر سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو کھدی ہی نہیں۔جب دلی نے پہل کر دی تو کیا ہم بھی کاغذ پھاڑ دیں؟ گزارش ہے: ہرگز نہیں۔ اول اس لیے کہ معاہدہ کسی بھی فریق کو پھاڑنے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ دوم یہ کہ مغربی دریاؤں پر ہماری سب سے بڑی متاع یہی کاغذ ہے ۔ اسی سند نے اُن کے ذخیرے کو 3.6 ملین ایکڑ فٹ پر باندھ رکھا ہے اور اسی کے سہارے ہم ہیگ سے 3 فیصلے جیتے۔ جو اپنی سند خود جلا دے، وہ عدالت میں کس منہ سے کھڑا ہو؟سندھ طاس معاہدے پر دستخط گو دو حکومتوں نے کیے، توثیق ہمالہ نے کی۔ کاغذ جل بھی جائے تو ہمالہ کا نشیب زمین میں کندہ ہے۔ سو جس کے حصے صدی کے سستے ترین دریا آئے، وہ دانائی کا دامن نہ چھوڑے اور جلانے کے بجائے معاہدہ چوم کر رحل میں رکھ لے۔ کل یہی کاغذ برہم پتر کے کنارے اُسی کے کام آئے گا اور اگر اسے یہ منظور نہیں تو گھوڑا بھی موجود ہے اور میدان بھی حاضر۔