ملّا نصر الدین اور J کا خم
ملّا نصر الدین جھیل کے کنارے بیٹھے چمچ بھر دہی پانی میں گھول رہے تھے۔ راہ گیر نے پوچھا: یہ کیا کر رہے ہو؟ فرمایا: دہی جما رہا ہوں۔ راہ گیر بولا: جھیل میں دہی نہیں جمتا۔ فرمایا: جانتا ہوں، مگر سوچو،
October 03, 2026 / 12:00 am
دام کا دام؟
صاحب، ایک شخص ہے جس نے عمر بھر ڈالر کی شکل نہیں دیکھی مگر جس شام ڈالر کا بھاؤ چڑھتا ہے اُسی شام اُس کی ہانڈی کیلئےگھی کم پڑ جاتا ہے۔ نام غلام رسول، پیشہ راج مزدوری۔ اُس کا سوال سیدھا سادا
September 26, 2026 / 12:00 am
وائسرائے کی گواہی ۔ بحوالہ سود و زیاں
وجاہت مسعود صاحب نے اپنے دو کالموں (5 ستمبر اور 12ستمبر ) میں اِس کم مایہ کو جن مہربان الفاظ سے نوازا، اُنکا بار اٹھانا آسان نہیں۔ رومی کی بانسری سے کلام اٹھایا اور اِس خاکسار کو ”مغتنم“
September 19, 2026 / 12:00 am
اسکول یا کارخانہ؟
آپ کے محلے کے سرکاری اسکول میں کتنے استاد ہیں؟ محکمہ جانتا ہے۔ کمرے، بنچیں، فی بچہ خرچ، سب رجسٹر میں ہے۔ اُسی اسکول کی پانچویں جماعت کا بچہ کتاب کا ایک صفحہ پڑھ کر بتا سکتا ہے کہ اس میں ل
September 12, 2026 / 12:00 am
بم اور مکتب
ہمارے ہاں ایک جملہ ہر محفل کی زینت ہے: یہ قوم ایٹم بم بنا سکتی ہے مگر اسکول نہیں چلا سکتی۔ کہنے والا آہ بھرتا ہے اور سننے والا سر ہلا کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ ناچیز کی گزارش یہ ہے کہ یہ تضاد
September 05, 2026 / 12:00 am
تکثیریت کا آدرش بحوالہ سود و زیاں
اِن سطروں کا پہلا احساس اپنے قد کا ہے: و جاہت مسعود صاحب اُس صف کے لکھنے والے ہیں جن کے کالم پڑھ کر ہماری نسل نے کالم پڑھنا سیکھا اُن سے نسبت نیاز کی ہے، مقابلے کی نہیں۔ سو آگے جو کچھ ہے، دعویٰ نہ
August 29, 2026 / 12:00 am
قرض کی گرہ
آپ نے کبھی سوچا کہ اس ملک کا سب سے آسودہ کاروبار وہ ہے جس کا اصل کام برسوں سے نہیں چل رہا؟ بینک بنتے ہی اس لیے ہیں کہ بچت کو کاروبار تک پہنچائیں۔ رقم اُس کے پاس ہے جسے کاروبار نہیں آتا اور کاروب
August 22, 2026 / 12:00 am
79 برس کا سود و زیاں
حاصلِ سہ نشست:بقا کی جنگ جیت لی گئی،آئینے نے قائد کو سچا کر دکھایا،آزاد قوموں کی کسوٹی پر بھی یہ ریاست ڈٹ کر کھڑی ہے۔مگر اس سب کے باوجود نظر جھکا کر ماننا چاہیے کہ بقا کی جنگ جیتنا ایک ا
August 14, 2026 / 12:00 am
79 برس کا سود و زیاں
گزشتہ دو نشستوں کا حاصل یہ کہ اب فیصلہ لکھا جا سکتا ہے۔ قائد کا خدشہ اُن پر حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا جو آئینے کے اُس پار رہ گئے، ہر پیمانے پر وہی فیصلہ جسکی خبر 1940ءمیں دی گئی تھی۔ اور تقس
August 13, 2026 / 12:00 am
79 برس کا سود و زیاں
پچھلی نشست چار سو صفحوں کے اُس محضر پر رکی تھی جس پر پڑھنے والوں کے ہاتھ کانپ گئے۔ سچر رپورٹ کے بعدجو رپورٹیں آئیں، اُنہوں نے سچر کی کھینچی لکیر کو مٹایا نہیں، گہرا کیا۔ سرکاری سطح پر کنڈ
August 12, 2026 / 12:00 am
79برس کا سود و زیاں
ہمارے یہاں رِیت سی چل نکلی ہے کہ وطن کا ذکر چھڑے تو لہجہ ماتمی ہو جائے گویا نوحہ گری ہی نصابِ دانش ٹھہری، اور اشک باری سندِ بصیرت۔ خرابیاں کم نہیں مگر فیصلہ سنانے سے پہلے انصاف کا تقاضا ہے
August 11, 2026 / 12:00 am
قلت کا خاتمہ ؟
معاشیات کا پہلا سبق:وسائل محدود ، ضرورتیں لا محدود۔ اسی فرق سے قلت جنم لیتی ہے جسکے گرد سارا نظام گھومتا ہے — منڈی اور محصول، لشکر اور سرحد، عالمی بساط کی صف بندی ۔ اور قلت کی جڑ کھودیے تو نکلتی ہے
August 08, 2026 / 12:00 am
شرح نموپہ حتمی گرہ
فیصل آباد کا سوت بازار ایشیا کی گنی چنی دھاگہ منڈیوں میں ہے۔ سینکڑوں آڑھتی، ہزاروں بیوپاری، روز کروڑوں کے سودے بیشتر زبانی یا پرچی پر۔ جھگڑے کی صورت کوئی کچہری نہیں جاتا۔ منڈی کے چند بزرگ چائے کی
August 05, 2026 / 12:00 am
زبان کی دیوار
اتوار کی شام جوتوں پر پالش ہوئی ، پیر کی صبح بیٹی کی چوٹیوں میں سرخ ربن بندھے۔ اسکول کے دفتر میں داخلے کا انٹرویو تھا۔ پرنسپل صاحبہ نے مسکرا کر انگریزی میں سوال کیا اور وہ شخص، جو منڈی میں پلک جھپک
August 01, 2026 / 12:00 am