قرض کی گرہ
آپ نے کبھی سوچا کہ اس ملک کا سب سے آسودہ کاروبار وہ ہے جس کا اصل کام برسوں سے نہیں چل رہا؟ بینک بنتے ہی اس لیے ہیں کہ بچت کو کاروبار تک پہنچائیں۔ رقم اُس کے پاس ہے جسے کاروبار نہیں آتا اور کاروب
August 22, 2026 / 12:00 am
79 برس کا سود و زیاں
حاصلِ سہ نشست:بقا کی جنگ جیت لی گئی،آئینے نے قائد کو سچا کر دکھایا،آزاد قوموں کی کسوٹی پر بھی یہ ریاست ڈٹ کر کھڑی ہے۔مگر اس سب کے باوجود نظر جھکا کر ماننا چاہیے کہ بقا کی جنگ جیتنا ایک ا
August 14, 2026 / 12:00 am
79 برس کا سود و زیاں
گزشتہ دو نشستوں کا حاصل یہ کہ اب فیصلہ لکھا جا سکتا ہے۔ قائد کا خدشہ اُن پر حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا جو آئینے کے اُس پار رہ گئے، ہر پیمانے پر وہی فیصلہ جسکی خبر 1940ءمیں دی گئی تھی۔ اور تقس
August 13, 2026 / 12:00 am
79 برس کا سود و زیاں
پچھلی نشست چار سو صفحوں کے اُس محضر پر رکی تھی جس پر پڑھنے والوں کے ہاتھ کانپ گئے۔ سچر رپورٹ کے بعدجو رپورٹیں آئیں، اُنہوں نے سچر کی کھینچی لکیر کو مٹایا نہیں، گہرا کیا۔ سرکاری سطح پر کنڈ
August 12, 2026 / 12:00 am
79برس کا سود و زیاں
ہمارے یہاں رِیت سی چل نکلی ہے کہ وطن کا ذکر چھڑے تو لہجہ ماتمی ہو جائے گویا نوحہ گری ہی نصابِ دانش ٹھہری، اور اشک باری سندِ بصیرت۔ خرابیاں کم نہیں مگر فیصلہ سنانے سے پہلے انصاف کا تقاضا ہے
August 11, 2026 / 12:00 am
قلت کا خاتمہ ؟
معاشیات کا پہلا سبق:وسائل محدود ، ضرورتیں لا محدود۔ اسی فرق سے قلت جنم لیتی ہے جسکے گرد سارا نظام گھومتا ہے — منڈی اور محصول، لشکر اور سرحد، عالمی بساط کی صف بندی ۔ اور قلت کی جڑ کھودیے تو نکلتی ہے
August 08, 2026 / 12:00 am
شرح نموپہ حتمی گرہ
فیصل آباد کا سوت بازار ایشیا کی گنی چنی دھاگہ منڈیوں میں ہے۔ سینکڑوں آڑھتی، ہزاروں بیوپاری، روز کروڑوں کے سودے بیشتر زبانی یا پرچی پر۔ جھگڑے کی صورت کوئی کچہری نہیں جاتا۔ منڈی کے چند بزرگ چائے کی
August 05, 2026 / 12:00 am
زبان کی دیوار
اتوار کی شام جوتوں پر پالش ہوئی ، پیر کی صبح بیٹی کی چوٹیوں میں سرخ ربن بندھے۔ اسکول کے دفتر میں داخلے کا انٹرویو تھا۔ پرنسپل صاحبہ نے مسکرا کر انگریزی میں سوال کیا اور وہ شخص، جو منڈی میں پلک جھپک
August 01, 2026 / 12:00 am
غربت کا ڈاکخانہ
July 25, 2026 / 12:00 am
سندھ طاس کا مقدمہ؟
July 21, 2026 / 12:00 am
نشیب کا دیوتا
July 18, 2026 / 12:00 am
46 ارب ڈالر کی مردانہ اَنا
شام کا دھندلکا اُترا تو اسلم شہر سے لوٹا تھکن سے چُور، جوتوں پر سوتر منڈی کی گرد۔ ماں نے صدا دی: ”نصرت! بھائی تھکا آیا ہے، ٹھنڈا پانی تو لا۔“ لالٹین کی لَوتلے نصرت نے کتاب سے نظر اٹھائی ،بی اے میں
July 14, 2026 / 12:00 am
مہلت ہنوز باقی ہے!
دہائیوں پر دہائیاں بدلتی رہیں، نوحہ نہیں بدلا: غربت، کم پیداوار، ناتواں برآمدات، اور خزانے کی تنگی۔ ہر اہلِ نظر یہی کہتا ہے، ہر تجزیہ یہی دُہراتا ہے۔اوراِس سب کے باوجود،بحیثیت قوم ہم نے وہ بنیادی
July 10, 2026 / 12:00 am
دستِ طلب سے دستِ ہنر تک
ہماری غربت کی اصل تصویر کسی بہی کھاتے میں نہیں ملے گی۔ وہ گندم کے کھیت میں جھکی ہوئی اُس کمر میں ہے، اور اُس کسرِ اجرت میں جو اُس جھکی کمر کو کبھی سیدھا نہیں کر پاتی۔ ہماری 35فیصد آبادی زمین سے بن
July 07, 2026 / 12:00 am