46 ارب ڈالر کی مردانہ اَنا
شام کا دھندلکا اُترا تو اسلم شہر سے لوٹا تھکن سے چُور، جوتوں پر سوتر منڈی کی گرد۔ ماں نے صدا دی: ”نصرت! بھائی تھکا آیا ہے، ٹھنڈا پانی تو لا۔“ لالٹین کی لَوتلے نصرت نے کتاب سے نظر اٹھائی ،بی اے میں
July 14, 2026 / 12:00 am
مہلت ہنوز باقی ہے!
دہائیوں پر دہائیاں بدلتی رہیں، نوحہ نہیں بدلا: غربت، کم پیداوار، ناتواں برآمدات، اور خزانے کی تنگی۔ ہر اہلِ نظر یہی کہتا ہے، ہر تجزیہ یہی دُہراتا ہے۔اوراِس سب کے باوجود،بحیثیت قوم ہم نے وہ بنیادی
July 10, 2026 / 12:00 am
دستِ طلب سے دستِ ہنر تک
ہماری غربت کی اصل تصویر کسی بہی کھاتے میں نہیں ملے گی۔ وہ گندم کے کھیت میں جھکی ہوئی اُس کمر میں ہے، اور اُس کسرِ اجرت میں جو اُس جھکی کمر کو کبھی سیدھا نہیں کر پاتی۔ ہماری 35فیصد آبادی زمین سے بن
July 07, 2026 / 12:00 am
ذہانت کی بے قدری
ہمارے بیشتر ادارے اپنا فرض کما حقہٗ ادا نہیں کر پا رہے۔ یہ کوئی محلِ نزاع بات نہیں، روز کا مشاہدہ ہے: عدالت ہو یا شفاخانہ، سرکاری دفتر ہو یا نجی اِدارہ، فیصلے ناقص، تدبیر ناتمام، اور انجام بیشتر حس
July 04, 2026 / 12:00 am
ٹیرف کی دیوار
مولانا روم کی مثنوی میں ایک شاہین کا ذکر ہے۔بادشاہ کا شکاری باز، تیز نظر، بلند پرواز جسکی جگہ شاہی کلائی پر تھی اور جس کا میدان کھلا آسمان۔ ایک دن وہ راہ بھٹک کر ایک بڑھیا کی جھونپڑی میں
July 02, 2026 / 12:00 am
مکتب کی مفلسی: ایک اور افسانہ
اب وہ تین فسانے۔ پہلا: ”اساتذہ کم پڑھے لکھے ہیں۔“ حقیقت اِس کے برعکس ہے، اور اصل بات اور بھی چونکا دینے والی۔ لیپس (LEAPS) کا وہ معروف مطالعہ، جو پنجاب کے دیہات میں برسوں چلا، بتاتا ہے کہ سرکاری و
June 29, 2026 / 12:00 am
مکتب کی مفلسی :ایک اور افسانہ
یہ فقیر نہ ماہر تعلیم ہے نہ اعداد کا مجتہد بس ایک طالبِ علم ہے جو اہلِ نظر کی مجلس میں دو حرف رکھنے کی جسارت کرتا ہے۔ سو اگر کہیں لہجہ تلخ ہو جائے تو اسے فقیر کی کم عقلی پر محمول کیجیے، نیّت پر نہی
June 28, 2026 / 12:00 am
معیشتِ وطن کے چند افسانے
حضور والا کی خدمت میں عرض ہے کہ فدوی کا برا نہ مانئے بس نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں نہ کسی کی شکایت مقصود ہے، نہ کسی پر طعن؛ بس اُن چند فسانوں ك کاتذکرہ جو ہم نے نسل در نسل دل میں بس
June 23, 2026 / 12:00 am
تقدیسِ مشرق کا گنگا جل اور جدیدیت کی آلائشیں؟
اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت آج کل ماروی سرمد اور خلیل الرحمٰن قمر کے قضیے کو لیکر خوب بحثا بحثی ہے۔ ہمارے سماج کے غالب طبقات خلیل کو اپنا ہیرو مانتے ہیں، وہ نہا
March 09, 2020 / 12:00 am