بدنامِ زمانہ جنسی مجرم، سزا یافتہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متاثرہ خاتون روزا جیلز نے انکشاف کیا ہے کہ ایپسٹین نے سزا کے دوران بھی اس کا جنسی استحصال جاری رکھا۔
روزا جیلز نے انکشاف کیا ہے کہ 2009ء میں جب ایپسٹین کم عمر لڑکی سے جسم فروشی کروانے کے مقدمے میں سزا کاٹ رہا تھا میں اس وقت بھی اس کی زیادتی کا نشانہ بنی تھی۔
روزا جیلز کے مطابق انہیں 18 سال کی عمر میں ازبکستان میں ایک ماڈلنگ ایجنٹ نے امریکا آنے کی پیشکش کی تھی، امریکا پہنچنے پر ایجنسی نے انہیں کرائے، ویزا اور دیگر اخراجات کی مد میں قرض تلے دبا دیا جس کے بعد اضافی آمدنی کے لیے ایپسٹین کے دفتر میں استقبالیہ ملازمہ کی ملازمت دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی ملاقات فلوریڈا کے پام بیچ میں ہوئی تھی جہاں ایپسٹین نے مجھے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا اور اسی روز جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، بعد ازاں ہر ہفتے کے اختتام پر مغربی پام بیچ میں میرے ساتھ زیادتی اور آبروریزی کی جاتی رہی جبکہ 2010ء میں ایپسٹین کی نظر بندی ختم ہونے کے بعد بھی نیویارک میں یہ سلسلہ جاری رہا۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہو چکا تھا کہ حکومت ایپسٹین کو کبھی نہیں روکے گی، مالی طور پر خود مختار ہونے کے بعد میں بالآخر اس کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔
روزا جیلز نے انکشاف کیا ہے کہ ایپسٹین کو اپنے جرائم پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا اور وہ سزا یافتہ ہونے کے باوجود بھی نوجوان خواتین کا استحصال کرتا رہا۔
بقول روزا کے جیفری ایپسٹین نے انہیں ایسے زخم دیے ہیں جو زندگی بھر نہیں بھر سکیں گے۔
رپورٹس کے مطابق دیگر متاثرہ خواتین نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ بعض مواقع پر پولیس اہلکار کی موجودگی کے باوجود بھی جنسی استحصال ہوتا تھا۔
جاری ہونے والی دستاویزات (ایپسٹین فائلز) کے مطابق پام بیچ میں موجود جیل اور دفتر کے درمیان سفر کے لیے استعمال ہونے والی ایپسٹین کی گاڑی میں بھی بستر نصب تھا۔
ایک خاتون نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بتایا ہے کہ ایپسٹین نے جیل کی پارکنگ میں کھڑی اسی گاڑی کے اندر ہی اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔