• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنگلادیش جماعت اسلامی نے مبینہ شادی کے تنازع پر رکنِ پارلیمنٹ نذرالاسلام کو پارٹی سے نکال دیا

فوٹو: بنگلادیشی میڈیا
فوٹو: بنگلادیشی میڈیا 

بنگلادیش جماعت اسلامی نے ستکھیرا-4 سے منتخب رکنِ پارلیمنٹ غازی نذرالاسلام کو مبینہ دوسری شادی کے تنازع پر پارٹی سے نکال دیا۔ پارٹی کی جانب سے کی گئی اندرونی تحقیقات میں انہیں ’اخلاقی پستی‘ کا مرتکب قرار دیا گیا۔

ڈھاکا کے منٹو روڈ پر واقع بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر اور قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شفیق الرحمان کی سرکاری رہائش گاہ میں مرکزی مجلسِ عاملہ کے ہنگامی اجلاس  کے دوران یہ نذرالاسلام کو پارٹی سے نکالنے سے متعلق فیصلہ کیا گیا۔

بنگلادیش جماعت اسلامی کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ مختلف ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے غازی نذرالاسلام سے متعلق معاملات کی تنظیمی تحقیقات مکمل کی گئیں، جن میں ان کی غلطی ثابت ہوئی ہے۔

بیان کے مطابق جماعت اسلامی کے آئین کی دفعہ 62 کے تحت غازی نذرالاسلام کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے فوری طور پر خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پارٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ غازی نذرالاسلام کی برطرفی سے متعلق فیصلہ فوری طور پر بنگلادیش الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بنگلادیش جماعت اسلامی کی جانب سے یہ کارروائی اس تنازع کے بعد سامنے آئی ہے جس میں غازی نذرالاسلام کی مبینہ دوسری شادی اور نوجوان خاتون کے ساتھ ایک وائرل ویڈیو کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔

اس سے قبل جماعت اسلامی نے اعلان کیا تھا کہ میڈیا رپورٹس اور دیگر معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں اور حقائق کی تصدیق کے بعد تنظیمی کارروائی کی جائے گی، جس کے نتیجے میں اب انہیں پارٹی سے خارج کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید