• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خود کو بہتر بنانے والی مصنوعی ذہانت کتنی قریب ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

مصنوعی ذہانت کے ایک ایسے نظام (ماڈل) کی تیاری میں تیزی آ رہی ہے جو انسانی مداخلت کے بغیر خود کو بہتر بنانے اور اپنے اگلے ماڈلز کو بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، ماہرین اسے خود مختار بہتری (Autonomous recursive self-improvement) قرار دے رہے ہیں۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا نظام کلاڈ انسانی نگرانی میں اپنے نئے ماڈلز پر تحقیق اور تیاری سے متعلق کام میں تقریباً 26 فیصد حصہ لے رہا ہے تاہم مصنوعی ذہانت ابھی مکمل طور پر خودمختار نہیں ہوئی ہے۔

اوپن اے آئی نے مارچ 2028ء تک مکمل خودکار مصنوعی ذہانت تحقیق کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن ادارہ تسلیم کرتا ہے کہ ایسی خودکار بہتری کو محفوظ اور انسانی کنٹرول میں رکھنے کا طریقہ ابھی واضح نہیں ہے۔

اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ گروک میں انسانی نگرانی بتدریج کم ہو رہی ہے اور مکمل طور پر خودکار بہتری 2026ء کے اختتام یا 2027ء تک ممکن ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب مائیکرو سافٹ انسانی نگرانی اور واضح حدود کے اندر مصنوعی ذہانت کی ترقی پر زور دے رہا ہے۔

رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق خدشہ ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت اپنی صلاحیتیں انسانوں سے کہیں زیادہ تیزی سے بہتر کرنے لگی تو اسے قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ 

اوپن اے آئی نے بھی خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ اس کی حفاظت اور انسانی ہم آہنگی پر تحقیق کا رفتار سے آگے بڑھنا یقینی نہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید