امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں سلامتی کے خدشات پر بحث تیز ہو گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی سست کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’جو مصنوعی ذہانت کی جنگ جیتے گا، وہی حقیقی طور پر جیتے گا‘ اور اس جنگ کی وجہ چین کو قرار دیا ہے۔
اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈے بھی مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی پر زور دیتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکا اے آئی کی صرف اتنی ہی رفتار کم کر سکتا ہے جتنی چین سے پیچھے جانے کے خطرے کے بغیر ممکن ہو۔
واضح رہے کہ ڈیریو اموڈے چین کو جدید چِپس اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی فراہمی پر سخت پابندیوں کے حامی ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا نے اموڈے کے مؤقف کو ’سرد جنگ کی حکمتِ عملی‘ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے سلامتی اور برآمدی پابندیوں کو جوڑنے سے چین مصنوعی ذہانت پر تعاون کے لیے مزید محتاط ہو گیا ہے۔
رواں ماہ امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مذاکرات متوقع ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی واشنگٹن کے درمیان ملاقات بھی متوقع ہے۔
