بھارتی گلوکار اریجیت سنگھ بھی بھارت میں احتجاج کرنے والے طلبہ کی آواز بن گئے، انہوں نے کہا ہے کہ طلبہ پر تشدد کرنیوالے پولیس اہلکاروں کو غنڈہ کہنے پر مداحوں کی ناراضی کی پرواہ نہیں۔
39 سالہ اریجیت سنگھ نے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ پر دہلی پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال اور لاٹھی چارج کی مذمت کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پیر کے روز نئی دہلی میں تقریباً 50 ہزار مظاہرین نے بھارتی یونین منسٹر برائے تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ اریجیت سنگھ نے ان مظاہروں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی مظاہرین گزشتہ ایک ماہ سے دھرنا دے رکھا تھا اور پارلیمنٹ تک مارچ کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل پر ہزاروں افراد بڑی تعداد میں مقررہ احتجاجی مقام پر جمع ہوئے۔ تاہم مارچ کو مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے بھی استعمال کیے۔
ارجیت سنگھ نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر احتجاج کے حوالے سے متعدد تبصرے کیے اور کہا کہ طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ’ویڈیوز دیکھ رہا ہوں جن میں یونیفارم پہنے ہوئے انسان غنڈوں جیسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔‘
ایک دوسری پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ’یار، اب تو یہاں طلبہ کو مارا جا رہا ہے۔ ہیلو نیتا، منتری!! ہیلو دہلی پولیس، کیا آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی!!؟؟ بھائی، یہ کیا چل رہا ہے!! کیا آپ نے خود کو خدا سمجھ لیا ہے؟ ہر چیز یاد رکھی جائے گی۔‘
ایک یوزر نے ان کے کمنٹس پر کہا کہ ارجیت نے اپنا احترام کھو دیا جس پر ارجیت سنگھ نے کہا، ’مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کوئی میری عزت کرتا ہے یا نہیں اور نہ ہی مجھے کسی کے خیالات سے کوئی لینا دینا ہے۔ ہر کوئی اپنی رائے رکھ سکتا ہے۔ میرا مداح ہونا مجھے اس بات کا پابند نہیں بناتا کہ میں آپ سے صرف خوشامدانہ یا میٹھی باتیں کروں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن ایک انسان ہونے کے ناطے میں آپ سے معذرت کرتا ہوں۔ ممکن ہے میری باتوں سے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو۔ مجھے اس کا واقعی افسوس ہے، میرا ہرگز ایسا ارادہ نہیں تھا۔ بس میں غصے میں تھا۔ مجھے معاف کر دیجیے تاکہ میرا دل بھی ہلکا ہو جائے۔‘
اریجیت نے کہا، ’آپ چاہیں تو میری تمام پلے لسٹس حذف کردیں اور میری موجودگی کو بھلا دیں۔ خوش رہیں، میں دل سے آپ کی خوشی کی دعا کرتا ہوں۔ لیکن اس سے میری رائے تبدیل نہیں ہوگی۔‘