• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1956 کی بات ہے جب برٹش راج کے خلاف لڑنے والے نامور رہنما ملکی سیاست میں ابھی کافی متحرک تھے۔ میاں افتخار الدین خان ،عبدالغفار خان، جی ایم سید، عبدالصمد اچکزئی، قاضی فیض احمد، عبدالمجید سندھی ،میر غوث بخش بزنجو، خان ولی خان، میاں محمود علی قصوری اور دوسرے مجاہدوںنے اپنی اپنی پارٹیوں اور گروپوں پر مشتمل ایک تاریخ ساز کنونشن منعقد کیا پارٹیوں میں آزاد پاکستان پارٹی، خدائی خدمت گار، سندھی عوامی محاذ، ہاری کمیٹی اورواردے پختون قابل ذکر ہیں ان بزرگ رہنماؤں کی قیادت میں سب پارٹیاں ضم ہو گئیں اور نیشنل پارٹی تشکیل پائی۔ 1957ءمیں عوامی لیگ کا ایک دھڑا جنرل سیکرٹری محمود الحق عثمانی اور مولاناعبد الحمیدبھاشانی کی قیادت میں حسین شہید سہروردی کو سامراج نواز اور موقع پرست قرار دے کر الگ ہوا اور نیشنل پارٹی میں ضم ہو گیا جس سے یہ پارٹی نیشنل عوامی پارٹی کے نام سے موسوم ہوئی،پہلے صدر مولانا بھاشانی اور جنرل سیکرٹری محمود الحق عثمانی منتخب ہوئے اس وقت کے مغربی پاکستان کے صدر خان عبدالغفار خان چُنے گئے نیشنل عوامی پارٹی نیپ ملکی سیاسی دھارے میں ایک موثر قوت رکھتی تھی اور اسکے 1958ءکے متوقع الیکشن میں ایک ملک گیر جماعت اور حکومت کا بدل بننے کے قوی امکانات تھے لیکن اس خدشے اور صورتحال سے بچنے کیلئے صدر جنرل سکندر مرزا اور افواج کے سربراہ جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کر دیا اور تمام سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگا دی، چند سال بعد جب یہ پابندی اٹھائی گئی تو 1960کے وسط میں روس،چین تنازع اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کی وجہ سے نیپ میں پھوٹ پڑ گئی۔ 1967 میں مولانا بھاشانی کی جگہ خان عبدالولی خان صدر بن گئے تا ہم چین نواز دھڑے نے مولانا بھاشانی کو بد دستور اپنا صدر بنائے رکھا، ولی خان کی رہنمائی میں نیپ سیاسی اعتبار سے کئی قسم کے مد و جزر سے گزری جماعت پر لامتناہی مشکلات کا سلسلہ جاری رہا مگر اس جماعت نے صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا یہاں تک کہ ملک ٹوٹ گیا سابقہ مغربی پاکستان اب پاکستان رہ گیا اور ایک نیا ملک بنگلہ دیش بن گیا۔ 1972 میں بننے والی قومی اسمبلی اور قومی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد صرف نیشنل عوامی پارٹی ہی اکثریت رکھنے والی پارٹی تھی جو انتخابات کے نتیجے میں صوبہ سرحد اور بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام جے یوآئی کے سربراہ مولانا مفتی محمود کے ساتھ مخلوط حکومت بنا کر اقتدار پر برجمان ہوئی لیکن اسٹیبلشمنٹ اور بھٹو حکومت نے اس کے ساتھ غیر ملکی آقاؤں سے مختلف سلوک نہ کیا ۔1973ءکے موسم بہار میں نیشنل عوامی پارٹی کی سرحد اور بلوچستان میں مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد بھی محروم ذوالفقار علی بھٹو اس سے اس قدر خوف زدہ تھے کہ ہر قسم کی ریاستی مشینری کو اسے مٹانے کیلئے بروئے کار لے آئے حتی ٰ کہ 1975ءمیں نیپ پر پابندی لگا دی گئی۔ حیدرآباد میں خصوصی عدالت کا ڈھونگ رچایا گیا، لندن پلان تشکیل دیا گیا، غداری اور مسلح قوت سے حکومت کا تختہ الٹنے کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور نئی بننے والی پارٹی نیشنل عوامی پارٹی پاکستان کے کنوینر اجمل خٹک کو مجبوراً کئی سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنا پڑی، اسی طرح پارٹی کو تنظیمی مشکلات اور ٹوٹ پھوٹ کے زخم بھی سہنا پڑے ،سب سے پہلے ایک کیمونسٹ گروپ الگ ہوا پھر بلوچ قوم پرست الگ ہوئے اس کے بعد 1986 میں حاکم علی زرداری کے وسیع و عریض بنگلے پر کئی نئے گروپوں کی شمولیت سے تشکیل پانے والی جماعت کو نیشنل عوامی پارٹی کی جگہ عوامی نیشنل پارٹی کا نام دیا گیا ۔ملک کے ترقی پسند اور جمہوری حلقوں نے اس کا نہایت مسرت سے خیر مقدم کیا لیکن جلد ہی یہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اور صوبہ سرحد کو چھوڑ کر باقی تینوں صوبوں میں چند سیاسی کارکن اورچھوٹی چھوٹی پاکٹو ںکے حامل عناصر کی وابستگیاں عبدالولی خان سے قائم رہیں ۔آج وطنِ عزیز متعددنوع کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے جن میں سب سے اہم مسئلہ اصل جمہوریت کی بحالی ہے۔ اسکے بعد مصارفِ زندگی میں بلا روک وٹوک اضافے کا گمبھیر مسئلہ ہے امن و امان اور مختلف قوموں، فرقوں اور گروہوں کا مسئلہ ہے ٹیکس کا نہ سمجھ میں آنے والا مسئلہ ہے، دہشت گردی کا جان لیوا مسئلہ ہے، قومی آزادی اور تیزی سے گرتی ہوئی معاشیات کا بے حد اہم مسئلہ ہے، بے روزگاری و تعلیم عامہ اور معاشی ترقی کا مسئلہ ہے ۔یوں تو یہ مسائل سابقہ حکمرانوں کے سامنے بھی رہے ہیں لیکن موجودہ حکمرانوں کا غیر جمہوری انداز فکر اور اپنے اقتدار کو ہر قیمت پر طول دینے کے رجحان نے بدقسمتی سے ان مسائل کو زیادہ پیچیدہ و شدید بنا دیا ہے ایسا کیوں کر ہو گیا میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچیے ۔

اس اندھیرے کی سیاست سے تو جی اوب گیا

اب نئے شہر اُجالوں کے بسانےہوں گے

تازہ ترین