• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں پریم نگر کنسرٹ سیریز کےتحت تیسرا بڑا پروگرام کرانےکے بعد کراچی سے ٹورنٹو پہنچ گیا ہوں، تاہم اس مرتبہ دورانِ سفر مجھے خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب پرواز میں بہت سے پاکستانی مسافروں نے خود مجھ سے پریم نگر کے حوالے سے گفتگو شروع کی اور ملکی تاریخ کے منفرد کنسرٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی جس میں صوفی موسیقی کی لازوال ملکہ عابدہ پروین اور نئی نسل کے نمائندہ سپراسٹار عاصم اظہر نے اپنی بہترین پرفارمنس سے شائقین کے دِل جیت لیے، پاکستانی نژاد مسافروں نے میرے اس موقف سے اتفاق کیا کہ دنیا میں کسی بھی ملک کی پہچان اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ کس قدر امن، احترام اور مساوی حقوق کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، آج کے ڈیجیٹل دور میں کسی بھی ملک کے بارے میں ایک خبر یا ویڈیو چند لمحوں میں دنیا بھر میں وائرل ہو جاتی ہے، ایسی صورتحال میں اگر مثبت اقدامات عالمی سطح پر اثرانداز ہوتے ہیں تو منفی پروپیگنڈا بھی تیزی سے پھیلتا ہے ۔ بدقسمتی سےہمارے پیارے وطن پاکستان کے بارے میں بعض عالمی حلقوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہاں مذہبی اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں، اس حوالے سے میں ہر جگہ پر یہی کہتا آیا ہوں کہ دنیا کے ہر معاشرے میں پانچ فیصد ایسے منفی عناصر پائے جاتے ہیں جو اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کیلئے نفرتوں کا سہارا لیتے ہیں، تاہم کسی ایک یا چند واقعات کو پورے ملک کی تصویر بنا کر پیش کرنا کسی صورت حقیقت کا مکمل عکس نہیں۔ پریم نگر میرے اِس وژن کی علامت ہے کہ خدمت انسانیت کیلئے کوئی مذہبی، نسلی یا لسانی تفریق نہیں ہونی چاہیے،صوبہ سندھ کے پسماندہ ترین تھرپارکر کے صحراؤں میں تعمیر ہونے والا یہ ماڈل ویلیج دُکھی انسانیت کیلئے امید کی کرن ہے ، یہاں خصوصی بچوں، یتیموں، بے سہارا خواتین، معمر شہریوں اور محروم طبقات کیلئے تعلیم وتربیت، صحت، بحالی، رہائش اور ہنر مندی کے مختلف منصوبے قائم کیے جا رہے ہیں، پریم نگر کی محبتوں بھری سرزمین میں داخلے کے دروازے ہر ایک کیلئے اوپن ہیں۔اسی پس منظر میں پریم نگر چیریٹی کنسرٹ سیریز محض ایک فنڈ ریزنگ مہم نہیں بلکہ پاکستان کا مثبت، پرامن اور انسان دوست چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا عملی ذریعہ ہے،جب عالمی شہرت یافتہ صوفی گلوکار راحت فتح علی خان ،لیجنڈری عابدہ پروین اور نوجوان نسل کے مقبول ترین گلوکار عاصم اظہرمحبتوں کے گیت گانے اسٹیج پر آتے ہیں اورجب مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد ایک ساتھ ملکر محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام عام کرتے ہیں تو یہ متاثرکن خوشمنا منظر خودبخود پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کوزائل کر دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ محب وطن ہندو کمیونٹی نے ہمیشہ اپنی دھرتی ماتا پاکستان کی ترقی و سربلندی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، آزادی کے بعد سے آج تک تعلیم، صحت، دفاع، عدلیہ، کاروبار، فنونِ لطیفہ اور سماجی خدمت سمیت ہر شعبے میں انتھک خدمات ہماری قومی تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں پریم نگرکنسرٹ سیریز کی بے مثال کامیابی نے اس تاثر کی بھی نفی کردی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کیلئےقومی دھارے میں شامل ہونے کے مواقع میسر نہیں ، جب عالمی میڈیا یہ دیکھتا ہے کہ ایک محب وطن پاکستانی اقلیتی شہری کی قیادت میں پریم نگر جیسا میگا فلاحی پراجیکٹ ہزاروں مستحق افراد کی بِلاتفریق خدمت کر رہا ہےاور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک نیک مقصد کیلئے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں تو وہ پاکستان میں مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔جب بین الاقوامی سفارتکار، غیر ملکی سرمایہ کار، عالمی میڈیا نمائندگان اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مہمان پریم نگر کی رنگارنگ تقریبات میں شریک ہوتے ہیں تو وہ پاکستان کو صرف خبروں کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر جاننے لگ جاتے ہیں،وہ پھر پاکستان کے حوالے سے عالمی برادری کو آگاہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتیں نہ صرف سماجی خدمت میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ قومی سطح کے فلاحی منصوبوں کی قیادت بھی کر رہی ہیں، میری نظر میں یہی پبلک ڈپلومیسی آج کی سفارتی دنیا میں سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔پریم نگر چیریٹی کنسرٹ سیریز کی ایک اور منفرد خصوصیت ثقافت، موسیقی اور سماجی خدمت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے ۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں فلاحی مقاصد کیلئے موسیقی، کھیل اور ثقافتی تقریبات کے ذریعے فنڈ ز جمع کرناایک کامیاب روایت ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں پریم نگر نے بھی اس روایت کو آگے بڑھا کرنہ صرف فلاحی منصوبوں کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت وسائل پیدا کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ ملک کا ایک روشن، مہذب اور تخلیقی چہرہ بھی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ میں اب ٹورنٹو پہنچ چکا ہوں اور اب میرا ارادہ اپنے ہونہار بیٹے کِرش وانکوانی کے ساتھ ملکر کینیڈا اور امریکہ میں پریم نگر چیریٹی کنسرٹ کی اگلی سیریز کیلئے راہ ہموار کرنا ہے تاکہ تھر کے صحراؤں سے گونجنے والا محبت، خدمت، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا لازوال پیغام سرحدوں سے آگے بھی سنا جا سکے۔مجھے اپنے مالک پر یقین ہے کہ اگر ہم اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے توبہت جلد ہمارا پیارا وطن پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک انسان دوست، مذہبی ہم آہنگی ، برداشت، رواداری اور اجتماعی خدمت کی سرزمین کے طور پر جانا جائیگا۔

تازہ ترین