• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اماراتی طیارے کے کو پائلٹ کے بارے میں پہلے ہی خدشات تھے: جے ڈی وینس

—فائل فوٹوز
—فائل فوٹوز

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اماراتی طیارے کے کو پائلٹ حَمّام الحمّامی کے بارے میں پہلے ہی خدشات موجود تھے اور اسے مسافر طیارہ اڑانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ متعلقہ شخص کے بارے میں پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ ایک مسئلہ ہے، لیکن اس کے باوجود اسے ایئر لائن کا پائلٹ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اس واقعے کے بعد امریکی انتظامیہ اپنی فضائی سیکیورٹی کے طریقہ کار کا جائزہ لے رہی ہے، بالخصوص یہ کہ کسی شخص کے مسافر طیارہ اڑانے کے لیے موزوں ہونے کا تعین کیسے کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکا میں بھی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ جو افراد واضح طور پر پرواز کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، وہ طیارے کے کاک پٹ تک نہ پہنچ سکیں۔

غیر ملکی پائلٹس کے امریکا میں کام کرنے سے متعلق سوال پر وینس نے کہا ہے کہ ملک میں داخل ہونے والے افراد پر خصوصی توجہ دینے اور یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے 11 ستمبر کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں امریکا نے ایسے افراد کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی جو وہاں نہیں ہونے چاہیے تھے اور نہ ہی انہیں طیارے اڑانے کی اجازت ہونی چاہیے تھی۔

فلائی دبئی واقعے میں ایران کے ممکنہ کردار سے متعلق سوال پر وینس نے کہا ہے کہ مجھے اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت نظر نہیں آیا اور میں امریکی انٹیلی جنس حکام کی رائے پر انحصار کروں گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے ملوث ہونے کے معاملے کو دیکھا جا رہا ہے، تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں۔

وینس کا بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق عمانی حکام نے ماضی میں حَمّام الحمّامی کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور اسے پرواز کی ذمے داریوں سے ہٹا دیا تھا، تاہم بعد میں اسے فلائی دبئی نے ملازمت دے دی اور مسافر پروازوں پر تعینات کیا گیا، جن میں دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز بھی شامل تھی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عمانی حکام نے 29 سالہ حَمّام الحمّامی کی آن لائن سرگرمیوں کی جانچ کی تھی اور انتہا پسند نظریات میں اس کی دلچسپی کے باعث اسے عمان ایئر کے لیے پائلٹ کی حیثیت سے موزوں نہ سمجھنے پر تشویش ظاہر کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق حَمّام الحمّامی کو پرواز سے روک دیا گیا اور اسے انتہا پسندی سے دور کرنے کے پروگرام سے گزارنے کے بعد دفتری کام پر منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم یہ خدشات اس وقت دوسری ایئر لائن تک نہیں پہنچے جب حَمّام الحمّامی نے ملازمت تبدیل کی۔

 وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عمانی حکام نے اس کے بارے میں اپنی تشویش دیگر حکام یا ایئر لائنز سے شیئر نہیں کی تھی، فلائی دبئی نے رواں سال فروری میں اسے ملازمت دیتے وقت عمان سے اس کی سابقہ ملازمت کے حوالے سے معلومات بھی حاصل نہیں کیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید