• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے نہ صرف ملکی سیاست کا رخ تبدیل کیا بلکہ کئی ایسے سوالات بھی چھوڑے جو آج تک جواب کے منتظر ہیں۔ بھٹو خاندان بھی انہی چند خاندانوں میں شامل ہے جس نے اقتدار، عوامی مقبولیت، جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور پے در پے سانحات کا سامنا کیا۔ انہی سانحات میں ایک نام شاہنواز بھٹو کا بھی ہے، جن کی برسی ہر سال 18 جولائی کو منائی جاتی ہے۔ ان کی زندگی مختصر ضرور تھی، مگر ان کی پراسرار موت نے انہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا کردار بنا دیا جس پر آج بھی بحث جاری ہے۔ شاہنواز بھٹو سابق وزیرِاعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ ان کی پیدائش ایسے خاندان میں ہوئی جو عوامی سیاست کا محور بن چکا تھا لیکن یہ خوشحالی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 1977ء میں جنرل محمد ضیاء الحق کی جانب سے مارشل لا کے نفاذ اور پھر 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی نے بھٹو خاندان کی زندگی یکسر بدل کر رکھ دی۔ اس کے بعد شاہنواز بھٹو، ان کی والدہ اور بہن بے نظیر بھٹو سمیت خاندان کے دیگر افراد کو شدید سیاسی دباؤ اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ جلاوطنی کی زندگی کسی بھی شخص کیلئے آسان نہیں ہوتی، مگر شاہنواز بھٹو نے اپنی جوانی کا بڑا حصہ وطن سے دور گزارا۔ وہ اپنے بڑے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ مختلف ممالک میں مقیم رہے۔ اس دور میں دونوں بھائی اپنے والد کی پھانسی کو ایک سیاسی ناانصافی قرار دیتے ہوئے بھٹو خاندان کے سیاسی مؤقف کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ انکی زندگی مسلسل نقل مکانی، غیر یقینی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کے ماحول میں گزری۔ 18 جولائی 1985ء کو فرانس کے شہر کانز (Cannes) سے اچانک یہ خبر آئی کہ شاہنواز بھٹو اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے ہیں۔ اس وقت ان کی عمر صرف 27 برس تھی۔ ان کی اچانک موت نے نہ صرف بھٹو خاندان بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھرمیں موجود ان کےچاہنے والوں کو حیرت اور صدمے میں مبتلا کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ کہا گیا کہ ان کی موت زہریلا مادہ جسم میں داخل ہونے کے باعث ہوئی، مگر وہ زہر کیسے پہنچا، اسکے ذمہ دار کون تھے اور اس کے پس پردہ اصل حقائق کیا تھے، یہ سوالات آج بھی واضح جواب کے منتظر ہیں۔ اس واقعے کے بعد مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے بین الاقوامی سازش قرار دیا، کچھ نے اسے اس دور کی سیاسی کشمکش سے جوڑا، جبکہ بعض نے ذاتی نوعیت کے اختلافات کا امکان ظاہر کیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ آج تک کوئی ایسی عدالتی یا تحقیقی رپورٹ سامنے نہیں آ سکی جس نے اس واقعے کے تمام پہلوؤں کو حتمی طور پر واضح کر دیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شاہنواز بھٹو کی موت کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ تقریباً چار دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کی موت سے متعلق سوالات آج بھی سیاسی مباحث، صحافتی تحریروں اور تاریخی کتابوں میں موجود ہیں۔ شاہنواز بھٹو کا سانحہ دراصل بھٹو خاندان پر ٹوٹنے والی مصیبتوں کی ایک اور کڑی تھا۔ پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، پھر شاہنواز بھٹو کی پراسرار موت، اس کے بعد 1996ء میں میر مرتضیٰ بھٹو کا قتل اور پھر 2007ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت۔ شاید پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی اور خاندان اتنے بڑے سانحات سے نہیں گزرا جتنا بھٹو خاندان گزرا ہے۔ ہر سال 18 جولائی کو پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن، بھٹو خاندان کے چاہنے والے اور مختلف سیاسی شخصیات شاہنواز بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں۔ ان کی برسی صرف ایک سیاسی رہنما کے بیٹے کی یاد نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کے ایک ایسے باب کی یاد دہانی بھی ہے جو آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب اہم سیاسی شخصیات کی اموات کے حقائق مکمل طور پر سامنے نہ آئیں تو افواہیں جنم لیتی ہیں، شکوک و شبہات بڑھتے ہیں اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں ایسے واقعات کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے تاکہ تاریخ قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر لکھی جاسکے۔ شاہنواز بھٹو کی زندگی اگرچہ مختصر تھی، مگر ان کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی برسی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اقتدار کی سیاست میں بعض اوقات سب سے بڑی قیمت انسانوں کو اپنی جان کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ اختلافِ رائے، سیاسی جدوجہد اور نظریاتی کشمکش جمہوریت کا حصہ ہو سکتی ہے، مگر کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت انصاف، شفافیت اور قانون کی حکمرانی میں ہوتی ہے۔ آج، شاہنواز بھٹو کی وفات کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر ان کی موت کا معمہ آج بھی مکمل طور پر حل نہیں ہوسکا۔ شاید وقت بدل جائے، نسلیں تبدیل ہو جائیں اور سیاسی منظرنامہ بھی نیا ہو جائے، مگر تاریخ کے کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ شاہنواز بھٹو کی زندگی اور ان کی پراسرار موت بھی انہی سوالات میں سے ایک ہے، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم اور پراسرار باب کے طور پر یاد رکھاجائےگا۔

تازہ ترین