سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو کے سربراہ امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے تیل کے ذخائر ’خوفناک حد تک کم‘ ہوگئے ہیں۔
لندن میں کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان ذخائر کو دوبارہ بنانے میں دو سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
امین ناصر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ تنازع کے باعث خطے سے تیل کی سپلائی تقریباً 3 ارب بیرل کم ہوگئی ہے، اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش میں ہنگامی ذخائر سے ایک ارب بیرل سے زیادہ تیل نکالا جا چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں نے بھی اسٹریٹجک ذخائر سے 30 کروڑ بیرل سے زیادہ تیل جاری کیا ہے اور مزید جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن ان کی اکثریت کمپنیوں کے ذخائر سے آئی ہے۔
آرامکو کے سربراہ نے مزید کہا کہ سعودیہ خام تیل کی برآمد کے لیے اضافی راستوں کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ بیرون ملک تیل ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی تلاش کر رہا ہے۔