ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی جارحیت کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور ثالثوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ بے بسی کے عالم میں ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ نیک نیتی کا مظاہرہ کیا، تاہم امریکی انتظامیہ کی دباؤ پر مبنی پالیسی، سخت بیانات اور مسلسل جارحانہ اقدامات نے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 17 جون کی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت کیے گئے وعدوں سے امریکا کی مبینہ پسپائی ہی موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔