• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مودی نے کب ایمانداری سے بات کی؟ کیا کبھی اپنی غلطی کی ذمے داری قبول کی؟ نصیر الدین شاہ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

بالی ووڈ کے سینئر اداکار نصیر الدین شاہ نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے زیرِ اہتمام ہونے والے طلبہ احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 نصیر الدین شاہ نے سینئر صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے دہلی میں جاری طلبہ کے احتجاج اور صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے اپنائے گئے طریقے پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے بھارتی وزیرِاعظم پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی میں جو کچھ ہوا اسے دیکھ کر مجھے بالکل حیرت نہیں ہوئی، مودی نے کب ایمانداری سے کسی چیز کے بارے میں بات کی ہے؟ کیا انہوں نے کبھی اپنی کسی غلطی کی ذمے داری قبول کی ہے؟ کیا انہوں نے کبھی اس حقیقت کو قبول کیا ہے کہ وہ بھی غلطی پر ہو سکتے ہیں؟ نہیں کیا۔

بھارتی اداکار نے کہا کہ مودی کو پارسا بنا کر پیش کیا گیا ہے اور انہوں نے جو یہ جادو بظاہر کیا ہے اسے دیکھنا حیرت انگیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ کیا اس آدمی سے سوال کرنے والا کوئی نہیں ہے؟ جھوٹ پر جھوٹ بولا جاتا ہے، مودی کبھی بھی پریس سے بات نہیں کرتے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں۔

نصیر الدین شاہ نے دہلی میں پولیس کی جانب سے طلبہ پر کیے جانے والے تشدد پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کے مستقبل پر غنڈوں کی فوج اتار دی گئی جب کہ ایسی صورتِ حال میں وزیرِ اعظم نوجوانوں سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مودی نے ان کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے یا ان سے یہ پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی کہ ان کا مسئلہ کیا ہے۔

بھارتی اداکار نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے، اب کوئی ان سے پوچھے کہ اس ملک میں نوجوان چیلنجز کا سامنا کرنے کے علاوہ اور کیا کر رہے ہیں؟ یہ وزیرِ اعظم اب مذاق بن چُکے ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید