بھارتی حکومت نے نوجوانوں کے مطالبات پر جواب دینے کیلئے کل دوپہر تک کا وقت مانگ لیا، کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی کا بیان مسترد کرتے ہوئے وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کا حکومتی اراکین سے ملاقات کے بعد کہنا تھا کہ حکومت نے جواب دینے کیلئے کل دوپہر تک کاوقت مانگا ہے، حکومت کو بتا دیا ہے وزیر تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج بڑھتا جائے گا۔
ترجمان سی جے پی نے کہا کہ وزیر تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو ملک بھر میں احتجاج کی کال دینا ہوگی۔ دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونا ہوگا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ امید ہے حکومت جلد از جلد وزیر تعلیم کو برخاست کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین نے خودکشی کرنے والے طلبا کے لواحقین کو ادائیگی اور 20 جولائی کو ہوئے مارچ میں شریک نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی اپوزیشن نے نوجوانوں کی حمایت کردی، پارلیمنٹ میں نوجوانوں پر ہوئے تشدد کیخلاف آواز اٹھانے پر حکومتی اراکین نے شور شرابا کیا، ایوان کی کارروائی معطل کردی گئی۔
بھارتی چیف جسٹس نے طلبا پر پولیس تشدد کی ویڈیوز دیکھنے سے انکار پر صفائیاں پیش کرنا شروع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے آئینی پٹیشن دائر نہیں ہوئی، صرف ایک وکیل کا خط آیا تھا۔
سوریا کانت کے انکار کے اگلے دن طلبا کی مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کی بھارتی حکومت کی فوری سماعت کی درخواست فوری قبول کرلی گئی۔