غربت کوئی ہندسہ نہیں، ایک کیفیت ہے۔ آدمی غربت میں نہیں رہتا، غربت آدمی میں آ کر بس جاتی ہے۔ غریب کا ذہن کبھی فارغ ہی نہیں ہوتا۔ اندر ایک حساب چلتا رہتا ہے۔ آٹا کتنے دن کا ہے، فیس کس مہینے سے رکی ہے، دوا پہلے آئے گی یا کتاب۔ خوشحال کے پاس مستقبل ہوتا ہے۔ غریب کے پاس صرف آج کی شام۔ اور جس کا افق شام پر ٹوٹ جائے، اس سے خواب نہ دیکھنے کا گلہ کون کرے۔
بھوک پیٹ میں کہاں ٹھہرتی ہے۔ بچے کی نشو و نما میں، ماں کے دودھ میں، باپ کے لہجے میں اتر آتی ہے۔ نیکی کو بھی ذرا سی فراخ دستی درکار ہوتی ہے ڈوبتے سے کنارے کا راستہ کون پوچھے۔ ٹالسٹائی نے کہا تھا، سب سکھی گھرانے ایک جیسے ہوتے ہیں وہی اسکول، وہی ہسپتال، وہی تفریحات — مگر ہر دکھی گھرانہ اپنے الگ ڈھب سے دکھی ہوتا ہے۔ کسی کا دکھ بیمار باپ ہے، کسی کا بیٹی کی شادی، کسی کا سود پر اٹھا قرض اور کسی کا دکھ وہ فصل جو پچھلے سیلاب کی نذر ہو گئی۔ غربت اتنی بدصورت ہے کہ حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ سے منسوب ہے: اگر غربت آدمی کی صورت میں ہوتی تو میں اسے قتل کر دیتا۔
غربت سمجھی نہیں جا سکتی، بس جھیلی جا سکتی ہے۔ ہندسے دروازے گن سکتے ہیں، دروازوں کے اندر نہیں جھانک سکتے۔ پھر گنتی کیوں؟ اسلئے کہ جو گنا نہیں جاسکتا، وہ دیکھا نہیں جا سکتا۔ ادارۂ شماریات کے گمنام اہلکار ہر چند برس بعد لاکھوں دروازے کھٹکھٹاتے ہیں اور زندگی کی گنتی کرتے ہیں۔کوئی بچہ اسکول سے باہر تو نہیں؟ ماں کو زچگی سے پہلے طبیب نے دیکھا؟ چھت پکی ہے یا کچی؟ ہسپتال کتنی دور ہے، پینے کا پانی نل سے آتا ہے یا جوہڑ سے،گھر میں بیت الخلا ہے یا نہیں، چولہے میں گیس جلتی ہے یا اُپلے اور گھر میں کل اثاثہ کیا ہے؟ منصوبہ بندی کمیشن نے اقوامِ متحدہ اور آکسفورڈ کے محققین کیساتھ ملکر انہی سوالوں سے ’محرومی کا پیمانہ‘ ترتیب دیا ہے۔ یوں سمجھیے کہ یہ سروے ایک ڈاکخانہ ہے جو دکھ کی شدت اور دکھ کے پتے درج کرتا ہے۔ گو دکھ کی صحیح مرکب شکل نہیں لکھ پاتا، پتہ ٹھیک لکھتا ہے۔
ملک میں غربت کی گہری ترین خلیجیں صوبوں کے درمیان نہیں، ہر صوبے کے اندر ہیں۔ صوبوں کے بیچ فرق تو ہمارے ہاں دنیا کے تقریباً ہر بڑے وفاق سے کم ہے۔ہمارے غریب ترین صوبے کی فی کس آمدنی امیر ترین صوبے کا قریباً 63 فیصد ہے — جرمنی میں یہ تناسب 62فیصد ہے۔ امریکہ میں 55 فیصد۔ بھارت میں بہار، تلنگانہ کا پانچواں حصہ بھی نہیں کماتا ۔ محرومی کے پیمانے ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر کوئی انصاف پسند حاکم راتوں رات چاروں صوبوں کی اوسط آمدنی اور تعلیم برابر بھی کر دے تو بھی اس معجزے سے محرومی کی ناہمواری کا بمشکل 20 فیصد مٹ پائے گا،باقی 80 فیصد جوں کا توں رہے گا۔ جو قضیہ سب قومی مالیاتی مباحث کا محور ہے وہ کل دکھ کا پانچواں حصہ ہے۔محرومی کے بقیہ 80 فیصد کیلئےنہ کوئی آئینی ضمانت ہے، نہ کوئی کلیہ، نہ کوئی کمیشن اورنہ کوئی جھگڑا کرنے والا۔
محرومی کے پیمانے پر پنجاب کے 7محروم ترین اضلاع — راجن پور، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر اور بھکر — اپنے ہی صوبے کے 7 آسودہ ترین اضلاع — لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، چکوال اور اٹک — سے قریباً 12 گنا نیچے ہیں۔ سندھ کے 7محروم ترین — تھرپارکر، عمرکوٹ، سجاول، ٹھٹھہ، کشمور، ٹنڈو محمد خان اور بدین — کراچی اور حیدرآباد سے 13گنا نیچے ہیں ۔ یہی نقشہ باقی صوبوں کا ہے۔ عالمی اشاریے میں زمین کے 3 بدحال ترین ملک چاڈ، وسطی افریقہ اور نائیجر ہیں۔ہمارے بدحال ترین اضلاع کے ہندسے انہی کے پہلو میں جا بیٹھتے ہیں۔ لاہور ،کراچی اور جہلم کے ہندسے یورپ کی دہلیز — مقدو نیہ اور بوسنیا — کے برابر جا نکلتے ہیں۔ ایک ہی صوبے کی حدود میں بلقان بھی آباد ہے اور صحارا کا ریگستان بھی۔ یہ اضلاع جغرافیے میں ہمارے ساتھ ہیں، وقت میں نہیں۔ پاسپورٹ ایک ہے مگر مقدر الگ الگ۔ نقشے پر لاہور اور بھکر کا فاصلہ 400کلومیٹر کا ہے۔ اصل میں چار صدیوں کا۔
ہم کہتے ہیں بلوچستان غریب ترین صوبہ ہے۔ اوسط غربت کی حد تک سچ ہےمگر غربت اوسطوں میں نہیں بستی، انسانوں میں بستی ہے۔ سروے کو مردم شماری سے ملائیے۔ملک کے ہر 100 محروم انسانوں میں سے 41پنجاب میں رہتے ہیں، 28سندھ میں، 19خیبر پختونخوا میں اور 11 بلوچستان میں۔ خوشحال ترین کہلانے والے صوبے کے اندر 2کروڑ 37لاکھ سے زائد انسان محرومی کی لکیر سے نیچے ہیں — پورے بلوچستان کی آبادی سے دوگنا۔ اوسط وہ چادر ہے جو زخم ڈھانپ لیتی ہے، زخم نہیں بھرتی۔
ابنِ خلدون نے لکھا تھا کہ شہر دیہات کا پھل کھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں شہر کا چراغ جتنا روشن ہوا، عین اسی چراغ تلے اندھیرا اتنا ہی عمیق ہوتا چلا گیا۔ خلیج انہی صوبوں میں گہری ترین ہے جن کے دارالحکومت کامیاب تر ہیں۔ کامیاب شہر اپنے دیہات کو اوپر نہیں کھینچتا آگے نکل جاتا ہے، اور مڑ کر بھی نہیں دیکھتا۔ دیہات شہر کو اناج بھیجتا ہے۔ شہر دیہات کو ایک خاموش اندھیرا ۔یاد رہے یہ اندھیرا کسی ایک حکومت کا کیا دھرا ہے نہ کسی آئینی یا نیم آئینی بندوبست کا۔یہ ہمارے سارے دستوری مباحث سےبھی ماورا ہے۔ یہ صدیوں کی جمی تہہ ہے جسے صاف کرنا آسان نہیں۔ اور گو سفر بہت طویل ہے مگر ریاست کا قبلہ درست سمت کا تعین کر چکا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ کا بجٹ 2برسوں میں 592 ارب سے بڑھ کر 838ارب روپے جا پہنچا، کوئی 41 فیصد اضافہ۔ مگر اصل خوبی رقم کے حجم میں نہیں اس کی تقسیم کی ساخت میں ہے۔یہ کسی صوبائی اوسط سے ہو کر نہیں گزرتی، سیدھی اُس گھر پہنچتی ہے جس کی ہانڈی خالی ہے۔ فی گھرانہ یہ رقم راجن پور اور تھرپارکر میں لاہور اور کراچی سے 15 تا 17 گنا زیادہ جاتی ہے۔ یہ وفاق کا پہلا منی آرڈر ہے جو محرومی کا پتہ پڑھ کر چلتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی اور معاشی ترقی کا ہر قدم، ہر اسکول، ہر ہسپتال، ہر سڑک، ہر ذریعہ معاش — اسی ڈاکخانے سے پتہ پوچھ کر نکلے جس سے وظیفہ پوچھ کر نکلتا ہے۔
آخر میں ایک اعتراف۔ یہ کالم بھی گنتی ہی کرتا رہا — 12 گنا، 13 گنا، 20 فیصد — حالانکہ آغاز میں عرض کیا تھا کہ غربت گنتی نہیں، تجربہ ہے۔ ہندسے بس اتنا بتا سکتے ہیں کہ دکھ کہاں رہتا ہے۔ دکھ کیا ہے، یہ وہی جانتا ہے جس کے گھر ہر شام حساب ہار جاتا ہے۔ مگر ہندسوں کا احسان کم نہیں،انہوں نے دکھ کا پتہ لکھ دیا ہے۔ پنجاب کا پتہ راجن پور ہے، سندھ کا تھرپارکر، خیبر پختونخوا کا کوہستان، بلوچستان کا شیرانی۔ اور قوموں کا قد بلند ترین شہر سے نہیں، پست ترین گاؤں سے ناپا جاتا ہے۔ محرومی کا ڈاکخانہ کھل چکا ، پتے کب کے درج ہو چکے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ ہم خط کب لکھتے ہیں۔