دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا راز صرف مضبوط معیشت، جدید انفراسٹرکچر یا بلند و بالا عمارتوں میں نہیں بلکہ ایک ایسے نظام میں پوشیدہ ہے جو شہریوں کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کرتا ہے۔ ریاست اپنے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات کے استعمال، ان کے فوائد، نقصانات اور متعلقہ قوانین سے باخبر رکھنے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں نہ صرف قومی وسائل کا ضیاع کم ہوتا ہے بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط رہتا ہے۔پاکستان میں بھی اگر بجلی، گیس، پانی، سیوریج اور دیگر یوٹیلٹی سروسز کے حوالے سے عوام کو مؤثر آگاہی فراہم کی جائے تو لاکھوں خاندان غیر ضروری مالی بوجھ سے بچ سکتے ہیں۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں عوام کی رہنمائی کے بجائے اکثر انہیں پیچیدہ قوانین، دفتری کارروائیوں اور ایسے ضابطوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہیں ایک عام آدمی سمجھنے سے بھی قاصر رہتا ہے۔ نتیجتاً وہ غلط بلوں، اضافی سرچارجز، جرمانوں اور مہنگائی کے دوہرے عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ آج کا پاکستانی پہلے کی نسبت کہیں زیادہ باشعور ہے۔ وہ اپنے حقوق سے واقف ہونا چاہتا ہے، سوال کرتا ہے اور انصاف کی توقع رکھتا ہے۔ لیکن جب معلومات تک رسائی محدود ہو، اداروں میں مؤثر رہنمائی کا نظام موجود نہ ہو اور شکایات کے ازالے کا عمل سست ہو تو عام شہری خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔بجلی کے نرخوں کا موجودہ نظام اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اگر کوئی صارف مقررہ حد سے صرف ایک یونٹ بھی زیادہ بجلی استعمال کر لے تو بعض اوقات وہ کئی ماہ تک زیادہ نرخ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس پر ازسرِنو غور ہونا چاہیے۔ قوانین کا مقصد عوام کو سہولت دینا ہوتا ہے، سزا دینا نہیں۔ ایک معمولی لغزش کو اتنی بڑی مالی سزا میں تبدیل کر دینا انصاف کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف وقتاً فوقتاً عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اعلانات کرتے رہتے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی عوامی فلاح کے متعدد منصوبے شروع کر چکی ہیں۔ ان اقدامات کی نیت اور مقصد پر کسی کو شک نہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان منصوبوں کے ثمرات واقعی عام آدمی تک پہنچ رہے ہیں؟ اگر نچلی سطح پر کرپشن، نااہلی اور سرخ فیتے کی روایت برقرار رہے گی تو بہترین منصوبے بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں گے۔اس تمام منظرنامے میں امید کی ایک کرن وہ سرکاری افسران ہیں جو آج بھی ایمانداری، دیانت اور فرض شناسی کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل واپڈا کے دفتر جانے کا موقع ملا، جہاں ایڈیشنل چیف انجینئر چکوال سرکل وحید احمد عباسی سے ملاقات ہوئی۔ ان سے گفتگو کے دوران یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ اگر نیت خدمت کی ہو تو سرکاری منصب عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔
وہ نہ صرف عوام کی شکایات انتہائی تحمل سے سنتے ہیں بلکہ مستحق افراد کے مسائل کے حل کے لیے ذاتی دلچسپی بھی لیتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے کئی مواقع پر ضرورت مند شہریوں کی مدد اپنی جیب سے بھی کی۔ ایسے افسران ہمارے سرکاری نظام کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دیانت دار افسران کو بھی اکثر غیر ضروری پابندیوں، پیچیدہ قواعد اور محدود اختیارات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض بدعنوان عناصر انہی خامیوں سے فائدہ اٹھا کر ناجائز مفادات حاصل کرتے رہتے ہیں۔
یہ کہنا بھی ناانصافی ہوگی کہ تمام سرکاری محکمے بدعنوان ہیں۔ ضلع چکوال میں بہت سے افسران اپنی دیانت داری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عوام دوست رویے کی وجہ سے اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ ایسے افسران ثابت کرتے ہیں کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو محدود وسائل میں بھی بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بعض محکموں میں برسوں سے تعینات چند افسران کی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات عام ہیں۔ عوامی حلقوں میں بلدیہ، بلڈنگ کنٹرول اور دیگر بعض اداروں کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ اگر ان شکایات میں صداقت موجود ہے تو متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ شفاف تحقیقات کریں، تاکہ ایماندار افسران کی ساکھ بھی محفوظ رہے اور بدعنوان عناصر قانون کی گرفت میں آ سکیں۔پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے، ان میں قومی وسائل کے ایک ایک روپے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حکومت عوامی آگاہی کی باقاعدہ مہم شروع کرے، یوٹیلٹی سروسز کے قوانین کو آسان بنائے، شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام قائم کرے، دیانت دار افسران کی حوصلہ افزائی کرے اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔ یہی وہ اقدامات ہیں جو عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو بحال کر سکتے ہیں۔
ایک مضبوط ریاست صرف قوانین سے نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور خدمت کے جذبے سے قائم ہوتی ہے۔ جب عوام کو محسوس ہوگا کہ ریاست ان کیساتھ کھڑی ہے، انکے مسائل سن رہی ہے اور ان کے ٹیکس کا پیسہ انہی کی فلاح پر خرچ ہو رہا ہے تو یقیناً پاکستان ترقی، خوشحالی اور استحکام کی اس منزل کی طرف بڑھ سکے گا جسکا خواب قائداعظم محمد علی جناحؒ نے دیکھا تھا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مایوسی کے بجائے اصلاح کی بات کریں، خامیوں کی نشاندہی کیساتھ اچھے کرداروں کو بھی سامنے لائیں۔ کیونکہ قومیں تنقید سے نہیں بلکہ تعمیری احتساب اور دیانت دار قیادت سے آگے بڑھتی ہیں۔ اگر وحید احمد عباسی جیسے افسران کی تعداد بڑھتی رہی اور بدعنوان عناصر کا احتساب یقینی بنایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی نئی فضا قائم ہوگی اور پاکستان حقیقی معنوں میں ایک فلاحی، مضبوط اور ترقی یافتہ ریاست بن کر دنیا کے نقشے پر اپنی نمایاں شناخت قائم کرے گا۔