حوثیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر جازان پر میزائل حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق یہ کارروائی سعودی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے، سعودی عرب کی مبینہ خطرناک جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔
سعودی میڈیا کے کسی بھی چینل یا نیوزپلیٹ فارم نے حوثی حملوں کی تصدیق یا نوعیت ظاہر نہیں کی، جازان صوبے میں قومی انتباہی پلیٹ فارم سے ممکنہ خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ جازان اور ینبع میں خطرہ ٹل گیا ہے۔
سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ شہری اپنی حفاظت کے لیے ہدایات پر عمل جاری رکھیں۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق کچھ دیر بعد ہی دونوں علاقوں میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی فوجی اتحاد نے یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں حوثی عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، سعودی فوجی اتحاد کے مطابق حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا، تمام بندرگاہیں جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں۔
سعودی فوجی اتحاد کا کہنا تھا کہ یمن میں تباہ کیے گئے اہداف کا تعلق بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف خطرات سے نمٹنا تھا، حوثیوں کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو جواب دیا جائے گا۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں کو ’غیر ذمے دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حوثیوں نے حملے جاری رکھے تو سعودی اتحاد بلا جھجک مزید فوجی کارروائیاں کرے گا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل حوثیوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں کا کہنا تھا کہ یہ جہاز ان کی جانب سے اعلان کردہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا جسے انہوں نے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک ہفتہ قبل ہونے والے حملے کا جواب قرار دیا تھا۔