• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راہول گاندھی نے پیلٹ گن سے زخمی نوجوان کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا

---تصویر بشکریہ بھارتی میڈیا
---تصویر بشکریہ بھارتی میڈیا

مودی سرکار نے کشمیر اور منی پور کے بعد نئی دہلی میں شہریوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال شروع کر دیا۔

بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے پیلٹ گن سے زخمی نوجوان کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔

 راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ حکومت حقیقت کو چھپا رہی ہے، 20 جولائی کو جنتر منتر پر احتجاج کے دوران طلبہ پر پیلٹ گن استعمال کی گئی، احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے پیلٹ گن فائر کرنے کی وجہ سے نوجوان کی آنکھ متاثر ہو چکی ہے، پُر امن احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین پر پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا۔

انہوں نے احتجاجی طلبہ سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے 3 مطالبات ناقابلِ مذاکرات ہیں، جن میں سب سے اہم مطالبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی فوری برطرفی ہے۔

بھارتی اپوزیشن رہنما نے کہا کہ دھرمیندر پردھان بدعنوان، نااہل اور اپنے عہدے کے لیے موزوں نہیں، مودی کابینہ میں پردھان کو دوسری وزارت میں بھیجنے پر غور ہو رہا ہے، تاہم وزیرِ تعلیم کو کوئی دوسری وزارت دینا طلبہ کو ہرگز قبول نہیں ہو گا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پردھان بھارت کے تعلیمی نظام میں بدعنوانی اور طلبہ کے مستقبل کی تباہی کی علامت بن چکے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل ریکارڈز میں متعدد مظاہرین کے جسم پر پیلٹ لگنے کی تصدیق ہو گئی۔

ایک طالب علم کی کمر اور کہنی پر چھرے لگے، جبکہ دوسرا طلب علم کی آنکھ پر لگنے والی چوٹ کے باعث بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

دہلی پولیس نے پیلٹ گن استعمال کرنے کی تردید کر دی، رپورٹ کے مطابق احتجاج کے دوران سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) کی ریپڈ ایکشن فورس (RAF) بھی تعینات تھی، جس کے پاس ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گن موجود ہوتی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید