• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یمنی حوثیوں (انصار اللہ) نے باب المندب بند کر دیا اور انہوں نے سعودیہ کے دو تجارتی جہازوں پر بحیرۂ احمر میں حملہ کیا جس سے ایک جہاز کے اگلے حصّے میں آگ بھی بھڑک اُٹھی۔ انصار اللہ اور سعودی عرب میں اختلافات کی بنیاد حوثیوں کا یمن کے صدرمنصور ہادی کی حکومت کا تختہ الٹ کر دارالخلافہ صناء پرقبضہ کرناتھا۔ سعودی حکومت نے 2015 میں صدرمنصور ہادی کو دوبارہ حکومت دلانے کے لیے حوثیوں سے جنگ کا آغاز کیا۔ سات سال کی شدید لڑائی کے بعد بالآخر اقوامِ متحدہ نے 2022 میں فریقین میں عارضی جنگ بندی کروائی جو مدت گزر جانے کے باوجود جون 2026 تک مؤثر رہی۔ 13 جولائی کو آیت آللہ علی خامنئیؒ کے جنازے سے واپسی پر حوثی وفد کے جہاز پر صناء ایئر پورٹ پر ڈرون حملے کیے گئے جس پر جہاز کا رخ موڑ کر اسے انصار اللہ کے زیرِ تسلط الحدید ایئرپورٹ پر اترنا پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وفد اسی ایرانی جہاز میں جنازے میں شرکت کے لیے 8-9 جولائی کو صناء ایئرپورٹ سے ہی روانہ ہوا تھا۔ منصور ہادی کی جگہ رشاد محمد العلیمی کی حکومت نے اس جہاز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس مخبری تھی کہ اس جہاز میں ایرانی فوجی اور اسلحہ لایا جا رہا ہے جبکہ یہ جہاز تو پھر بھی انصار اللہ کے پاس ہی اترا۔ انصار اللہ نے سعودیوں کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سعودی ایئرپورٹ پر میزائل و ڈرون داغ دیے اور دھمکی دی کہ اگر ان کے خلاف جنگ میں سعودی عرب شامل ہوا تو وہ سعودی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ اب 20 جولائی سے انصار اللہ کی جانب سے سعودیہ کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں سعودی عرب نے جوابی کارروائیاں کیں ہیں جن کے جواب میں انصار اللہ اپنی کارروائیاں بڑھاتے جا رہے ہیں۔

پاکستان نے ستمبر 2025 میں سعودی عرب سے اسٹریٹیجک میوچل ڈیفنس معاہدہ کیا جس کے تحت ایک پر حملہ دوسرے پر تصور کیا جائے گا۔دونوں ممالک میں وسیع تر عسکری تعاون، ٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت اور دیگر عسکری شعبہ جات میں تعاون بھی شامل ہے۔ اس معاہدے کی تفصیلات آج تک منظرِ عام پر نہیں آئیں لیکن قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد اور وجہ قطر پر اسرائیلی حملے میں، امریکہ کی بے حسی اور بے عملی تھی جبکہ قطر میں سب سے بڑا امریکی ایئر بیس ہے اور امریکہ قطر کی حفاظت کا ضامن بھی ہے۔ سعودی عرب نے بروقت امریکی رویہ بھانپ لیا کہ اسرائیل کے مقابلے میں امریکہ سے کسی قسم کا کوئی دفاعی معاہدہ کام نہیں آسکتا ۔ اسی لیے جوہری پاکستان سے دفاعی معاہدہ کیا گیا تاکہ مکہ، مدینہ اور سعودی عرب کو اسرائیل کے خلاف پاکستان کی جوہری چھتری تلے لے لیا جائے۔ حوثیوں کے خلاف پاکستان کو میدانِ جنگ میں اتارنے کی باتیں ہو رہی ہیں جبکہ پاکستانی مؤقف بھی کھل کر سامنے آگیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب سے دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سعودی عرب اور پاکستان کو انصار اللہ سے الجھایا جا رہا ہے۔ اسرائیل، ہندوستان اور امریکہ تینوں ایسی سازشی مثلث ہیں جن کا مقصد خطے پر اپنی اجارہ داری قائم رکھ کر، اس کے وسائل پر مکمل قبضہ کرنا ہے۔ ایران پر حملے سے قبل پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے ہم پر امریکہ نے ہندوستان سے حملہ کروایا، منہ کی کھانے پر حکمتِ عملی تبدیل کرلی۔ رشاد محمد العلیمی کی حکومت کو غلط مخبری امریکہ کے سوا کس نے کی ہوگی۔یوں جان بوجھ کر حوثیوں کو سعودی عرب سے لڑوایا جا رہا ہے تاکہ اس کے ذریعے پاکستان کو جنگ میں الجھا کر اس کی عسکری قوت زائل کی جا سکے۔مزید براں ایران سے بھائی چارے اور دوستی پر استوار تعلقات میں بھی دراڑ ڈالوائی جائے۔ پاکستان حوثیوں سے اگر جنگ میں الجھا تو نتیجہ خواہ کچھ نکلے نقصان مسلمانوں کا ہی ہوگا، اپنوں کا خون بہے گا اور اپنے ہی وسائل اور اسلحہ ضائع ہو گا ۔ پاکستان میں پہلے ہی تین صوبوں میں شر پسندوں اور علیحدگی پسندوں کی شورش انتہا پر ہے جبکہ باقی ماندہ ملک میں ہندوستان کی طرف سے آبی جارحیت جاری ہے۔ اُوپر سے مغرب نے بھی تیزی سے ہمارے گرد شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ ابتداء ہمارا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے سے کی جا رہی ہے۔27 میں سے بیشتر شرائط منوا کر بھی وہ راضی نہیں جن میں پھانسی کی سزا معطل کر نے، شراب بیچنے پر پابندی ہٹانے ، تو ہینِ رسالت کے قانوں پر عملدرآمد نہ کرنےجیسے اسلام کے سراسر منافی اقدامات کرنے پر بھی وہ مطمٔن نہیں۔اُدھر ہم ہیں کہ اللہ کے قوانین سے رو گردانی کرکے، گمان کرتے ہیں کہ معاشی ترقی کے سارے زینے چڑھ جائیں گے لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔ وہ اسلام دشمن کبھی ہم سے راضی نہ ہوں گے جب تک ہم ان کی طرح نہ ہو جائیں قران کہتا ہے: اللہ کی ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے اور اگر تیرے پاس علم آ جانے کے بعد بھی توان کی خواہشات کی پیروی کرے گا تو تجھےاللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہو گا اور نہ کوئی مدد گار ہو گا۔ سورۃ البقرہ 2:120

ہماری قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنی بے لوث صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اگر ایران اور امریکہ میں جنگ بندی کروا سکتی ہے تو اب سعودیوں اور حوثیوں میں بھی امن کروائے۔بعینی ہمدرد افغانوں کو بھی مثبت طریقے سے مذاکرات کی میز پر لائے۔ بدنیت اور بدطینت "موذی" نے اگر ان افغانوں کو قابو کر لیا ہے تو ہم نیک نیتی، محبت اور خلوص سے پانسا کیوں نہیں پلٹ سکتے۔ ایران سے ہمارے اچھے تعلقات ہم حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ہمیں آپس میں لڑوانے والے جانتے ہیں کہ اگر ہم ملتِ بیضا بن گئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارے سامنے ٹھہر نہ پائے گی۔ اُمت کی دشمن یہ وہ کالی آندھی ہے جس کے سامنے ہم متحد کھڑے ہو کر ہی بچ سکتے ہیں وگرنہ یہ ہم سب کو نگل جائے گی۔ خدانخواستہ!

زمین و آسمان و کرسی و عرش

خودی کی زد میں ہے ساری خُدائی!

تازہ ترین