بھارتی پارلیمنٹ کے باہر کانگریس کی جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر احتجاج کیا۔
ارکانِ پالیمان نے مطالبہ کیا ہے کہ 20 جولائی کو احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس تشدد پر وزیرِ داخلہ امیت شاہ سے معافی مانگے۔
کانگریس ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور ایک بڑا بینر اٹھا کر پارلیمنٹ کی سیڑھیوں کے سامنے احتجاج کیا، اس دوران انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس زیادتیوں پر وزیرِ داخلہ سے جواب طلب کیا۔
کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کے اندر حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپوزیشن نے طلبہ پر مبینہ حملوں کے ذمے دار افراد کے خلاف کارروائی اور وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ سے معافی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں پریانکا گاندھی نے کہا کہ بہار اور مغربی بنگال میں اب بھی طلبہ کے خلاف مقدمے درج ہونے کی اطلاعات ہیں جس کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے، لیکن اگر ایسا ہو رہا ہے تو پھر معافی مانگنے کا کیا فائدہ؟
ادھر لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے بھی امیت شاہ کو خط لکھ کر پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر وحشیانہ حملے پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا وزیرِ داخلہ نے پیلٹ گنز سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی تھی۔
اپنے خط میں راہول گاندھی نے کہا کہ پُرامن احتجاج کسی بھی جمہوریت کا بنیادی جزو ہے اور مظاہرین کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ان کے تحفظات کو مذاکرات کے ذریعے دور کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔
راہول گاندھی نے یہ بھی کہا کہ اس نوعیت کا وحشیانہ تشدد ہر جمہوری روایت کو پامال کرتا ہے اور اس پر پورے ملک میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، نوجوان اور طلبہ جو ہمارے ملک کا مستقبل ہیں، جوابدہی اور شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کی آواز ضرور سنی جائے گی۔