پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے کہا ہے کہ ون ڈے سیریز ہارنے پر مایوسی ہوئی ہے، سیریز میں ہمارا آغاز اچھا تھا لیکن اس کے بعد جس طرح کی پرفارمنس ہوئی ہے اس سے مایوسی تو ہوئی ہے کوشش یہی ہے کہ اس سے جتنا پازیٹو لے سکیں لیں تاکہ آئندہ فائدہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ بیٹنگ ٹریک تھا لیکن اس طرح ہم نے بیٹنگ نہیں کی جس طرح اس پچ پر بیٹنگ کرنی چاہیے تھی اگر سینئرز کے بعد جونیئرز کے پاس موقع آئے تو انہیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے، مڈل آرڈر میں جونیئر جتنا اچھا کھیلیں گے اتنا فائدہ ہے۔
فاطمہ ثنا نے کہا کہ اس سیریز میں گل فیروزہ اور صدف شمس نے جس طرح ہمیں پاور پلے میں آغاز فراہم کیے وہ ہمارے لیے پازیٹو ہے، سدرہ امین پر دباؤ بھی تھا لیکن انہوں نے سیریز کے شروع ہی سے اپنی اننگز بنانے کی کوشش کی ہے، منیبہ علی نے پانچویں نمبر پر آ کر اچھی بیٹنگ کی ہے ٹیم میں بہت سی چیزیں اچھی ہو رہی ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ بولنگ میں ام ہانی اور نشرہ سندھو اچھی بالنگ کر رہی ہیں، نوجوان بولرز جتنی جلد بہتری لائیں گی اتنا اچھا ہے کوشش یہی ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ موقع دیں تاکہ آگے چل کر فائدہ ہو۔
فاطمہ ثنا نے کہا کھلاڑیوں کو ایک پیغام دیا ہے پازیٹو رہیں جب تجربات کرتے ہیں تو بعض اوقات ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے صبر کے ساتھ کھیلیں فینز کو بھی میں یہی کہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ ہر کسی کا جو رول ہے وہ کلئیر کر دیا گیا ہے اور کھلاڑیوں کو بھی اپنے رول کا پتہ ہے اور یہی چیز بہت اچھی ہے اس سے ہر کھلاڑی تیار ہو رہی ہیں جتنا وہ اب ذمہ داری لیں گی اتنا آگے انھیں فائدہ ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ اچھی بیٹنگ کے لیے کھیلنے پرجوش ہوں، کوشش ہو گی کہ وہاں اچھا کھیلوں تاکہ آگے چل کر پاکستان کی اور کھلاڑیوں کو بھی موقع ملے اچھی بات ہے کہ پاکستان کی طرف سے مجھے موقع مل رہا ہے اب بس یہ ہے کہ وہاں اچھا پرفارم کروں۔
فاطمہ ثنا نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے یہی پیغام ہے کہ ٹیم میں زیادہ نئی اور نوجوان کھلاڑی ہیں پہلی مرتبہ کھیل رہی ہیں وہ انجوائے کریں اور خود پر اعتماد رکھ کر کھیلیں۔