یہ ہمارے پڑوس کی راجدھانی دہلی میں واقع جنترمنتر کا ایک منظر ہے جہاں نوجوان اسٹوڈنٹس کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر مودی سرکار کے خلاف اُمنڈ آیا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی نفرت انگیز پالیسیوں کے خلاف نئی نسل جنریشن زی سراپا احتجاج ہے، دوردراز سے لوگ دین دھرم ذات پات کی تفریق سے بالاتر ہوکر کھلے آسمان تلے سڑکوں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے نوجوان امتحانی پیپرز لیک ہونے کی ذمہ داری مودی سرکارپرڈال رہے ہیں، ہر طرف انقلاب زندہ باد کے فلک شگاف نعرے گونج رہے ہیں، قوم کے مستقبل بچوں کی خدمت کیلئے مسلمان، سِکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی سرگرم ہوگئے ہیں، بالخصوص ایک باریش مسلمان نوجوان جنید بھائی دن رات خوراک کی مفت فراہمی یقینی بناکر ہندو مسلم ایکتا کی مثال بنکر اُبھرے ہیں، کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کرنے مختلف اپوزیشن لیڈر، بالی وڈ اداکار اور سماجی شخصیات کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اپنی نوعیت کے منفرد احتجاجی مظاہرے سوشل میڈیاپر وائرل ہوکر سرحدپاردنیا بھر میں نہایت دلچسپی سے دیکھے جارہے ہیں ۔ گزشتہ ایک دہائی سے بھارت میں ہندوتواکا نفرت انگیز بیانیہ سرکاری سرپرستی میں بہت زوروشور سے پروان چڑھایا گیا، آزادی کے بعد پہلی مرتبہ کابینہ میں کسی مسلمان اقلیتی وزیر کو شامل نہیں کیا گیا، پردھان منتری مودی نے سیکولر پالیسیوں سے انحراف کرتے ہوئے بھارت کو کھلم کھلا ایک ایسے ہندو راشٹرا میں ڈھالنے کی کوششیں کیں جہاں اقلیتوں کی قومی دھارےمیں کوئی جگہ نہیں ،تاہم پردھان منتری بھول گئے کہ اوپر والے کا اپنی دھرتی چلانے کیلئے اپنا پُراسرار نظام ہے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ غربت، بے روزگاری اور سماجی مسائل میں مبتلا نوجوانوں کو طنزیہ طور پر لال بیگ کہنے کا نتیجہ کاکروچ جنتا پارٹی کےقیام کی صورت میں سامنے آئے گا جس نے ہندوتوا کے نفرت انگیز بیانیہ کے پرخچے اُڑا دیے ہیں، احتجاجی مقام پر ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مظاہرین نےہندو مسلم ایکتا کا ایک ایسا لازوال مظاہرہ پیش کیا جو انگریز سامراج کی آمد سے قبل ہندوستان کے سماج کی پہچان تھا،ایک ہی جگہ پوجا پاٹ کرتے ہندو پنڈت اور نماز پڑھتے مسلمان بزرگ کی ویڈیو آناََ فاناََ سب کے دل میں گھر کر گئی، جب احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج ہوا توانکو پناہ دینے کیلئے وہاں پر واقع قریبی مساجد اور گوردواروں نےدروازے کھول دیے، انہیں رات وہاں عزت سے ٹھہرایا اور صبح ناشتہ بھی فراہم کیا ،بھوک پیاس سے نڈھال نوجوانوں کیلئے مسلمان اور سِکھوں نے لنگرخانے قائم کر دیے، ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب وہاں مظاہرین خوراک کی قلت کا شکار ہونے لگے تو جنید بھائی کی طرف سے منگوایا گیا پانی کی بوتلوں اور خوراک سے بھرا ٹرک وہاں پہنچ گیا، ایک ہی تھالی میں ہندو مسلمان زمین پر ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگے اور ایک ہی بوتل سےپانی پینے لگے۔غرور وتکبر میں مبتلا پردھان منتری مودی نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں سے گھبراتے نہیں، تاہم اس سے پہلے کہ ناراض نوجوانوں کا یہ عوامی ریلا مودی سرکار کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بہا لے جاتا، پردھان منتری نےاپنی حکومت بچانے کیلئے وزیرتعلیم کی بَلی چڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔برصغیر پاک و ہند کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں تک ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں، آزادی کے بعد بھی بھارت کی قیادت نے سیکولر نظامِ حکومت کو اپنایا ۔ تاہم نریندرمودی نےراج سنگھاسن پر براجمان ہوتے ہی بھارت کی نظریاتی و آئینی اساس خطرے میں ڈال دی،مودی سرکار نے گُڈگورنس، اقتصادی ترقی، شفافیت ، اقلیتوں کا احترام اور سب سے بڑھ کر پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کو نظرانداز کرکےہند وتوا پر مبنی شدت پسندانہ پالیسیوں کو فروغ دینا شروع کردیا، ایک طرف دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین سےتعلقات کشیدہ کرلیے تو دوسری طرف پاکستان کو کبھی پلوامہ حملے اور کبھی پہلگام واقعے کا یکطرفہ ذمہ دار ٹھہراکر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت بدل کر وہاں ترنگا لہرادیا گیا، جب دوسال قبل بھارت میں الیکشن کا طبل بجا تو ہر طرف ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اکثریت حاصل کرکے نریندرمودی کو ہندوستان کا عظیم مہاراجا بنادے گی ، تاہم میں نے روزنامہ جنگ میں شائع اپنے ہفتہ وارکالم بعنوان بھارتی الیکشن اور ستاروں کی چال...! بتاریخ 12مئی 2024ء میں پہلے ہی خبردار کردیاتھاکہ مودی کا لوک سبھا میں چار سو نشستیں حاصل کرنے کا خواب چکناچور ہوجائیگا، الیکشن کے بعد کی صورتحال مودی کیلئے پریشانی کا باعث بنے گی۔ آج میں سمجھتا ہوں کہ راجدھانی دہلی میں جنتر منتر میں پنپتی ہندو مسلم ایکتا کے عظیم الشان مظاہرے نے مودی سرکار کو واقعی حیران و پریشان کردیا ہے، جنریشن زی کی جانب سے بلند کیےگئے انقلاب زندہ باد کے نعروں نے مودی حکومت کے راج سنگھاسن کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، بھارت کے ریاستی ادارے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ بتارہے ہیں، تاہم مودی سرکار کو سمجھنا چاہیے کہ نفرتوں کے گھپ اندھیروں میں جیت ہمیشہ پیار محبت کی ہوتی ہے ، کسی بھی معاشرے میں سماجی یکجہتی اس وقت پروان چڑھتی ہے جب اکثریت اور اقلیت دونوں خود کو یکساں محفوظ اور باعزت محسوس کریں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہمارے پڑوس کی نوجوان نسل آئینی اقدار، مذہبی ہم آہنگی، برداشت و رواداری اور جمہوری اصولوں کو مضبوط بنانے میں اسی طرح آگے بڑھ کراپنا کردار ادا کرتی رہی تو یہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے امید افزا پیش رفت ثابت ہوگی۔