• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل نے ذمے داریاں پوری نہ کیں تو امن معاہدے پر عمل نہیں ہو گا: حماس

غازی حمد—فائل فوٹو
غازی حمد—فائل فوٹو

حماس کے مذاکراتی وفد کے رکن غازی حمد نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی قابض افواج نے معاہدے کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری نہ کیں تو حماس بھی غزہ امن معاہدے کے کسی مرحلے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔

عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غازی حمد نے کہا کہ یہ مذاکرات نہایت مشکل اور پیچیدہ تھے، تاہم ہم نے ایسی بہترین قابلِ عمل صورت تک پہنچنے کی کوشش کی جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی حمد نے واضح کیا کہ غزہ سے متعلق معاہدہ مرحلہ وار ہے اور اس پر مختلف مراحل میں عمل درآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے معاہدے کے متن کی منظوری کے بعد اسرائیل کو پہلے مرحلے پر عمل درآمد شروع کرنا ہوگا، جبکہ اسرائیل کو غزہ سے اپنی تمام افواج بھی واپس بلانا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی قومی کمیٹی اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی ضروری ہے اور اسرائیلی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کو بھی ختم کیا جائے گا۔

حماس عہدیدار کے مطابق ہتھیار فلسطینی قومی کمیٹی کے حوالے کرنے کا عمل اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی مکمل پاسداری پر منحصر ہے اور اگر اسرائیلی افواج نے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اپنی ذمے داریاں پوری نہ کیں تو حماس بھی معاہدے کے کسی حصے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اسلحہ چھوڑنے کا عمل اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلاء اور فلسطینی علاقے کی تعمیرِ نو میں پیش رفت سے مشروط ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بورڈ آف پیس کاحماس کے غیر مسلح ہونے کے معاہدے کا خیر مقدم

ادھر بورڈ آف پیس نے حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

غزہ میں جنگ کے بعد عبوری انتظامات کی نگرانی کے لیے قائم بورڈ آف پیس نے اعلان کیا ہے کہ حماس نے باضابطہ طور پر جنگ بندی کے آئندہ مراحل پر عمل درآمد کے لیے ایک تفصیلی لائحۂ عمل پر اتفاق کر لیا ہے۔

بورڈ آف پیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پہلی مرتبہ حماس نے باضابطہ طور پر غیر مسلح ہونے کے قابلِ عمل منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی افواج غزہ سے انخلاء کریں گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کئی ماہ پر محیط سنجیدہ اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کا نتیجہ ہے، جن کا مقصد صدر ٹرمپ کے اس وژن کو عملی شکل دینا ہے جس کے تحت غزہ میں نئی حکمرانی، سیکیورٹی، انسانی امداد، تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کا نظام قائم کیا جانا ہے، جیسا کہ جامع امن منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں بیان کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے غزہ میں غیر مسلح ہونے کے منصوبے پر مشتمل ایک دستاویز پر اتفاق کر لیا ہے، جسے امریکی صدر ٹرمپ نے امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔

حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کا تفصیلی لائحہ عمل 14 روز کے اندر تیار کیا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بین الاقوامی نگرانی کے ادارے کی منظوری اور تمام فریقوں کی رضامندی سے کی جا سکے گی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید