وزیر داخلہ محسن نقوی نے 30 جولائی کو اسلام آباد میں پہلی اکنامک سمٹ 2026 میں تقریر کرتے ہوئے ایسی باتیں کیں جو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں جس سے پاکستانی سیاست میں بھونچال آ گیا۔ان کے مطابق موجودہ نظامِ حکومت مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے لہٰذا اسے "ری سیٹ "کرنا ہوگا۔انہوں نے گورننس کے نظام میں بہتری لانے کے لئے نئے صوبوں کے قیام، اصلاحات اور بنیادی انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کو واحد حل قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک ملک کی بنیادی چیزیں جمہوریت کے مطابق درست نہ کی جائیں گی یہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں چار پانچ قسم کے نظامِ حکومت ہیں لیکن اگر ہم ایک نظامِ جکومت پر اڑے رہے تو 10 سال بعد بھی ایسے ہی اپنے مسائل بیان کرتے رہیں گے جبکہ موجودہ سسٹم ہمارے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ نوجوانوں کو مواقع دینے کے لیے حکومت کو اپنی نیت ٹھیک کرنا ہوگی، چند ہزار روپے یا لیپ ٹاپ دینے کا فائدہ نہیں۔ یہ کاکروچ ( آج کل ہندوستان میں نوجوانوں کی کاکروچ پارٹی کی نسبت سے) اکٹھا ہو گئے تو سب کچھ الٹا دیں گے۔انہوں نے نام لیے بغیر فیلڈ مارشل کی انفرادی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انکی انتھک محنت، اخلاص،لگن اور جمہوریت پسندی کو سراہتے ہوئے کہاکہ وہ ملک کو جمہوریت کی پٹری سے اترنے نہیں دیں گے۔ مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنا کام تندہی سے کر رہی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا وگرنہ اس محنت کا کوئی فائدہ نہیں۔ البتہ پائیدار نتائج کے لیے سیاست دانوں کو خود آگے بڑھ کر گورننس کے نظام میں اصلاحات لانا ہوں گی۔ واضح کیا کہ موجودہ حالات صرف عارضی حکمتِ عملی یعنی فائر فائٹنگ (آگ بجھانے)تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ پاکستان کو مستقل اور بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی صاحب نے بہت کچھ کہہ دیا جبکہ اگر وہ منجھے ہوئے سیاستدان ہوتے تو کبھی نہ کہہ پاتے۔ ان کے مطابق وہ صرف ساڑھے تین سال سے اقتدار کے ایوانوں میں ہیں اور اسی لیے بطور وفاقی وزیر کھل کر اپنی ہی حکومت پر اسقدر کڑی تنقید بھی کی۔ پی پی پی تو اس تقریر پر بوجوہ خاموش ہے لیکن مسلم لیگ (ن) نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا ۔ کچھ کے خیال میں صدارتی نظام لانے کی طرف یہ پہلا قدم ہے تو کچھ اسے صدارتی نظام لانے کے لئے عوامی رائے جانچنے اور ہموار کرنے کے لیے فیلر کہہ رہے ہیں۔ جبکہ کچھ اس بیان کو ان کے حالیہ دورۂ امریکہ سے حاصل آشیرباد بتا رہے ہیں۔ جہاں تک نئے صوبوں کے قیام کی بات ہے تو اس حوالے سے پنجاب پہلے ہی ساؤتھ پنجاب کو صوبہ بنانے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے لیکن کیا سندھ کو راضی کیا جا سکے گا؟ جبکہ پاکستان فوج کے "گرین انیشیٹو" کے تحت دریائے سندھ سے چولستان سیراب کرنے کے لیے چھ نئی نہروں کے خلاف سندھ اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کی تھی تو وفاق کو بالآخر منصوبے کی منسوخی کا اعلان کرنا پڑا حالانکہ حکومت ِپاکستان کے میٹرولوجیکل (فلڈ) سیلاب فورکاسٹنگ سروے کے مطابق ہر سال دریائے سندھ کا بہت ساپانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔ 2015 میں "ارسا " نے رپورٹ جاری کی کہ دریائے سندھ کا 15 سے20 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے جبکہ اب تربیلہ ڈیم میں بوجوہ گاد(کیچڑ) اسکی زخیرےکی صلاحیت کم ہونے سے مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔2020 میں چیرمین واپڈا نے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کو بتایا تھا کہ ہمارا سالانہ 25 ارب ڈالر کا پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ اُدھربلوچستان کے مسائل بھی نئے صوبے بنانے سے حل ہوسکیں گے، کچھ علاقے تو وفاق کے زیرِ انتظام دینے سے بلوچستان کی شورش اور علیحدگی کی سازش جڑ سے اکھڑ جائے گی۔ کے پی کے میں مزید صوبے بنانے سے ٹی ٹی پی کے گرد گھیرا تنگ ہوگا اور افغانستان سے معاملات طے کرنے میں آسانی ہوگی۔تاہم محسن نقوی صاحب ایک بنیادی نقطہ یکسر نظر انداز کر گئے کہ دنیا میں کئی قسم کے نظام رائج ہیں جو کامیاب اور ناکام ہیں۔ بادشاہت بھی کئی ملکوں میں مختلف اشکال میں کام کر رہی ہے اور عوام خوشحال اور مطمئن ہیں۔ پارلیمانی جمہوریت بھی دنیا کے بیشتر ممالک میں کامیاب ہے ۔ صدارتی نظامِ جمہوریت بھی بہت کامیاب ہے اگر آئین و قوانین کا پاس اور عوامی رائے کا احترام کیا جائے۔ حتیٰ کہ آمریت کے فوائد سے بھی انکار نہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو دنیا کی بڑی اور پرانی جمہوریتیں مختلف ممالک میں قائم آمریتوں کے ساتھ معاملات طے نہ کیا کرتیں بلکہ بسا اوقات تو ان ممالک میں آمریتیں قائم کرنے میں بھی معاون ہوتی ہیں۔کسی بھی نظام کی ناکامی یا کامیابی ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔
ان سارے نظاموں کو کامیاب یا ناکام کرنے کے لیے انسانی عنصر کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں کبھی کوئی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا جبتک کہ پاکستان میں ہر سطح پر کرپشن، کرپٹ عناصر ،بد عنوانوں اور غداروں کا صفایا نہ کیا جائے۔ اوپر سے نیچے تک وسیع پیمانے پر پھیلی کرپشن اور اس کے اثرات اب پوری طرح سے نظام میں سرایت کر چکے ہیں۔ احتساب کا ڈھونگ صرف سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہوتا ہے جبکہ عوام انصاف کے لئے دربدر دھکے کھا رہے ہیں۔قوم کا اپنے لیڈروں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے کہ ان سب کے بیرونی طاقتوں اور امراء سے دیرینہ ذاتی تعلقات و مراسم ہیں،بیرون ملک جائدادیں اور اثاثےہیں، خاندان سمیت دوہری شہریتیں، عوامی ٹیکسوں پر لامحدود عیاشیاں اور الّلے تلّلے،پورے خاندان کے لئے تاحیات سرکاری پاسپورٹ اور ماورائے قانون و احتساب جیسے شاہانہ رویوں پر انہیں کیونکر عوامی اعتماد حاصل ہوگا۔ جو ایک روز غدار ِوطن، چور، ڈاکو اور مجرم قرار دیا جاتا ہے بوقتِ ضرورت اسی کو این آر او دے کر حبّ الوطنی ، نیکی اور پارسائی کا سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ہے۔نئے صوبوں اور نظامِ حکومت بدلنے پر انتظامی امور پر اربوں کھربوں روپے کے نئے اخراجات عوام پر تیل،گیسں،بجلی،چولہے اور چپاتی پر ٹیکسوں کی بھرمار کر کے پورے کئے جائیں گے۔ اس مظلوم عوام پر جو پہلے ہی ٹیکسوں تلے پِسے غریب سے غریب تر ہوتے ہوئے اب تو جاں بلب ہیں۔اس پر اگر وہی پرانے پٹِے ہوئے سیاسی مہرے، مفاد پرست خوشامدی و سفارشی مشیران کی کھیپ اور نسل در نسل عوام پر حکمرانی کے داعی یہ نیا نظامِ حکومت چلائیں گے یا اس نظام کو کامیاب کرنے کی ان سے امید ہے تو پھر ہم(پاکستانی ) ایسے ہی اچھے ! قوم میں اب نت نئے تجربوں کی ناکامی سہنے اور مزید جان لیوا حد تک ٹیکس دینے کی سکت نہیں رہی۔ استعفیٰ ہمارا بحسرت و یاس!
جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہِ افلاک