السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
نام لے کر یاد کرتے ہیں
منور مرزا نے ’’حالات و واقعات‘‘ میں مسلم دنیا کی حقیقی داستان بیان کی، جو پڑھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس، یوسف رضا گیلانی کے ساتھ آئے تو ہم دُور ہٹ گئے کہ حال ہی میں موصوف کو نو کروڑ کی گاڑی عنایت کی گئی ہے۔ ’’نئی کتابیں‘‘ میں اختر سعیدی نے صرف دو کتب پر تبصرہ کیا۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ پڑھ کر اچھا لگا، خاص طور پر مصباح طیّب کا پیغام بہت پسند آیا۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں پروفیسر منصور علی خان کا خط پڑھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ بہت ہی اچھا لگتا ہے، جب وہ سب کو باقاعدہ نام لےکر یاد کرتے ہیں۔
اگلے جریدے کے ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے ٹرمپ کےدورۂ چین کا شان دار تجزیہ کیا۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس، جمال شاہ پر خاکہ آرائی فرما رہے تھے اور کیا ہی دل کش اندازِ تحریر تھا۔ ’’متفرق‘‘ میں ڈاکٹر معین نواز نے واسکو ڈی گاما پر اچھا مضمون تحریر کیا اور’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کی دوسری قسط بھی زبردست تھی۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج: پروفیسر سیّد منصورعلی خان واقعتاً ایک نیک رُوح ہیں۔ اُن کا مشفقانہ برتائو، شُستہ وشائستہ اندازِ تحریر ہم سمیت ہر ایک ہی کو بھلا معلوم ہوتا ہے۔
ہر ایک کے بس کی بات نہیں
’’سنڈے میگزین‘‘ میں ناقابلِ اشاعت تحریروں کی فہرست کافی طویل تھی۔ ہماری بھی تقریباً تمام ہی تحریریں فہرست میں جگہ بنا گئیں، جس کا شدید افسوس ہے۔ بہرحال ’’سنڈے میگزین‘‘ ایک شان دار رسالہ ہے، جس کا معیارخاصا بلند ہےاور اِس معیار تک پہنچنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ (شری مرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور)
جواب شایانِ شان نہیں ہوتا
منیر احمد خلیلی نے اپنے مضمون میں مودی کی سازشوں کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر سکندر اقبال قربانی کی آلائشوں، فُضلے کو درست طور پر ٹھکانے لگانے کا مشورہ دے رہے تھے تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہا جائے۔ رحمان فارس نے سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کا تعارف بہت ہی اچھےانداز سے کراویا۔ ڈاکٹر محمد ریاض علیمی نے نظامِ تعلیم پر جو سوال اُٹھائے، کافی فکرانگیز تھے۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں پروفیسر حکیم سید عمران فیاض شدید گرمی سے تحفّظ کے نسخے لائے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا اور خادم ملک دونوں کا خط جگمگا رہا تھا۔
ویسے ہمارے خیال میں آپ کا جواب خادم ملک کے شایانِ شان نہیں ہوتا۔ آپ کو اُنہیں ان کے مرتبے کے مطابق جواب دینا چاہیے۔ اب آئیے، اگلے شمارے کی طرف، رانا اعجاز حسین کا مضمون پڑھا، خاصا معلوماتی تھا۔ ڈاکٹر ریاض علیمی نے قربانی کے اصل مقاصد بیان کیے، تو ڈاکٹر سکندر اقبال نے گوشت کے استعمال میں احتیاط کا مشورہ دیا۔
رابعہ فاطمہ نے بھی قربانی اور صحت و صفائی کے موضوع پر تفصیلی مضمون تحریر کیا۔ رحمان فارس نے اصغر ندیم سید عرف شاہ جی کا تعارف بہت ہی احسن انداز سے کروایا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں رانا محمّد شاہد کا افسانہ پسند آیا۔ سلطان لطیف اور مہر منظور جونیئر کی نصیحت آموز حکایات بہترین تھیں اور امین شیدائی کا حجّاجِ کرام کو مبارک دینے کا انداز بہت ہی اچھا لگا۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ج: جی بالکل، ہمارا جواب شایانِ شان ہو بھی نہیں سکتا کہ اُن کے مقام و مرتبے کے مطابق جواب خُود ہمارے مقام و مرتبے کے لیے سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔
محبّت کا خزانہ، ایثار و استقامت کا پہاڑ
رسالہ وصول ہوا۔ سرورق پر مدرز ڈے کی مناسبت سے ماں، بیٹی کے اَن مول تعلق کی خُوب صُورت عکس بندی کی گئی۔ ڈاکٹرحافظ محمّد ثانی تعلیماتِ نبویﷺ کی روشنی میں سوشل میڈیا کے کردار کےحوالے سے لکھے جانے والے مضامین کی آخری قسط لائے۔ منور مرزا متحدہ عرب امارات کے اوپیک کو چھوڑنے پر تشویش کا اظہار کررہے تھے، تو منیر احمد خلیلی لبنان کی حالتِ زار پر نوحہ کُناں تھے۔ حافظ بلال بشیر نے’’عالمی یومِ خاندان‘‘ پرچم کُشا تحریر پیش کی۔
رابعہ فاطمہ نے چین کے تولیدی روبوٹ سے متعلق اخلاقی و قانونی پیچیدگیوں کی نشان دہی فرمائی۔ رحمان فارس نے ’’خاص ہیں ترکیب میں اپنی سلیمہ ہاشمی‘‘ کا عنوان دے کر اُن کی شخصیت کے ہر زاویے کو نکھار دیا۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں سابقہ کرکٹربسمہ اوران کی بیٹی کا مدرز ڈے کی مناسبت سے خصوصی شُوٹ کیا گیا۔ بات چیت ایڈیٹر صاحبہ کی تھی۔ ماں واقعتاً محبت کا خزانہ، ایثار و استقامت کا پہاڑ ہے۔
ہماری بدنصیبی کہ ماں کی محبت سے محروم رہے، شیرخوارگی ہی میں اُن کا انتقال ہوگیا تھا۔ ہاں، والد صاحب نے ماں کی محبت اورباپ کی شفقت دونوں سے نہال کیا۔ ساری جوانی ہماری تعلیم و تربیت میں گزاردی، اللہ ہمارے والدین کو کروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے۔ ایک نے جوانی میں رختِ سفر باندھا، تو دوسرے نے اُن کی یاد میں جوانی گزار دی۔ افشاں نوید نئی نسل کو متنبّہ کررہی تھیں کہ اسکرین کی رنگینیوں میں ماں جیسی عظیم ہستی سے غفلت برتنا دین و دنیا کے نقصان کا پیش خیمہ ہے۔ بلقیس متین نے ماں کی دُعا کو مستجاب الدعوات بتایا۔
کسی بزرگ کا قول ہے کہ ’’جس گھرمیں تم نو ماہ رہے، اُس گھر کا ایک دن کا بھی کرایہ ادا نہیں کرسکتے، خواہ بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ کیا ہی عُمدہ بات ہے۔ عالیہ توصیف نے بھی ’’ایک بات‘‘ میں ماں کی محبّت کو اچھوتے انداز سے بیان کیا، جب کہ طلعت عمران نے مائوں کے لیے شان دار پیغامات مرتب کررکھے تھے اور ہمارے صفحے میں ہماری چٹھی کو اعزاز دینے کا بے حد شکریہ۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)
رائٹ اَپ لکھنے والوں کی چُھٹی
آغازِ مطالعہ پیارے صفحے ’’آپ کا صفحہ‘‘ سے کیا۔ پروفیسر سیّد منصورعلی خان کینیڈا سے، دل میں اپنے وطن اور وطنِ عزیز کے باسیوں کی چاہتیں،سچی کھری باتیں لیے لوٹے۔ اللہ پاک اُن کو خوشیوں سے مالا مال رکھے۔ قرات نقوی کی آمد سے بھی بہت خوشی ہوئی۔ نواب زادہ صاحب کی باتیں دل چسپ تھیں۔ اپنے خط کا جواب پڑھ کرمُدتوں بعد ہنسی آئی۔ وگرنہ اکثر تو رونے والی کیفیت ہی ہوجاتی ہے۔ رہی بات ماڈل کی تعریف کی، سچ پوچھیں تو ہم نے آج تک درست تعریف کی ہی نہیں، اگر کبھی اس امر کی اجازت مرحمت فرمائی گئی، تو بس پھر رائٹ اَپ لکھنے والوں کی چُھٹی ہی سمجھیں۔
اس بار ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر شائستہ اظہر نے لکھی اور بہت ہی خُوب صورت۔ سرِورق بے حد پسند آیا، ماڈل تو مصری حُسن کو بھی مات دیے کھڑی تھی، لیکن ہم کچھ نہیں کہتے کہ پھر ایویں ہی بات کا بتنگڑ بنے گا۔ دیگر تحریروں میں افشاں نوید کی ’’ٹوٹتے گھر، بکھرتا بچپن‘‘ شان دار تھی۔ ایسے مسائل پر زیادہ سے زیادہ لکھنے جانے کی ضرورت ہے، تاکہ عاقبت نااندیش والدین کو عقل آئے۔ اگلا شمارہ ’’نکھرے تو جگمگا اُٹھے، بکھرے تو رنگ ہے‘‘ عبارت سے مزیّن تھا۔
دوشیزہ، ٹائٹل سے ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ تک مجسّم معصومیت، بھولپن کے ساتھ جلوہ افروز تھی، تو شمارہ خُوب نکھرا نکھرامحسوس ہوا۔ وسطی صفحات کی تحریر حسبِ سابق شائستہ اظہر نےلکھی اور کمال لکھی۔ دیگر نگارشات میں ربیعہ ترمذی کامضمون پسند آیا۔ عندلیب زہرا نے بھی اہم موضوع پر قلم اٹھایا۔
’’ڈائجسٹ‘‘ کی تحریروں میں کلثوم پارس کی ’’رسی‘‘ کا جواب نہ تھا۔ دیگر سلسلے خُوب رہے، جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہی ہوگی۔ تبصرۂ کتب بھی لاجواب تھا اور اب آتے ہیں، ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی جانب، اعزازی کرسی پر سلیم راجا اپنے منفرد اندازِ تحریر کے ساتھ براجمان تھے، مبارک ہو۔ (محمد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، محلہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج:آپ کا خط ڈائجسٹ کرتے ہاضمہ اور دماغ دونوںخراب ہو جاتے ہیں۔ اللہ نہ کرے کہ کبھی جریدے پر اتنا بُرا وقت آئے کہ آپ کو ماڈلز کی تعریف و توصیف کی باقاعدہ اجازت ہی مرحمت کرنی پڑ جائے۔
کانسٹیبل لگوا دیں
یوسف رضا گیلانی کے لیے تعریفوں کے پُل کیوں باندھے۔ اُنہوں نے کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے، بس زرداری صاحب کی ہاں میں ہاں ہی ملائی ہے ناں۔ اِس سے اچھا تھا کہ میگزین میں ہمارا انٹرویو شائع ہوجاتا۔ گیلانی صاحب کو تو بس اپنے خاندان کی فکرہے، پورے خاندان کو اسمبلی میں لے گئے، بہتر ہوتا، بحیثیت انچارج آپ اپنی ذمےداری نبھاتیں اور یہ مضمون شائع نہ کرتیں، ہماری تو بس گیلانی صاحب سے ایک ہی التجا ہے کہ اُن کی جان پہچان بہت اعلیٰ درجے تک ہے، تو براہِ مہربانی ہمیں موٹر وے پولیس میں کانسٹیبل ہی لگوا دیں۔ (نواب زادہ بے کار ملک، سعید آباد، کراچی)
ج: ؎ آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں…ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔
فی امان اللہ
گریجویشن میں ورٹیبریٹس فزیالوجی کےمضمون کی عُمر رسیدہ مگربے حد قابل پروفیسرروسٹرم پرآتیں اور یہاں وہاں دیکھے بغیر سیدھا لیکچرشروع۔ اُنہوں نے کبھی طلبہ کی حالتِ زارپرغور کیا، نہ ہی کبھی اپنی آوازاُن تک واضح پہنچانے کی کوئی شعوری کوشش۔ہم بغورسُننےکی کوشش میں لیب کے پنکھے بند کر دیتے، اسٹول گھسیٹ کراُن کے نزدیک ہوتے، علم کے بہتے سیل ِ رواں کو اپنے چُنّے مُنّے دماغوں میں سمونے کی تگ دو میں ہانپ سے جاتے۔
لیکچرکےاختتام پر وہ کمال بے نیازی سے وائٹ بورڈ پر دو تین جملےحاصلِ سبق کےطورپرلکھ جاتیں اور باقی ہمارا دردِ سر، سو اب جب بھی صحرائی صاحب کی تحاریر پڑھتی ہوں، تو بےاختیار مسکراہٹ رینگ جاتی ہے کہ اس دوران مَیں خُود کو لیب میں بیٹھی وہی بےبس سی طالبہ محسوس کرتی ہوں، جو صاحبِ قلم کے نوکِ قلم سے بکھرنے والے علم و ادب اور فلسفے کےتابندہ صحرائی ذرات کواپنے چھلنی نُما دماغ میں اکٹھا کرنے کی کوشش میں بےحال ہوئی جاتی ہے۔
یہاں تک کہ تحریر کے اختتام پرباقاعدہ ایک لمبی سانس خارج ہوتی ہے اورحاصلِ تحریر وہی ایک دو شان دارجملے، جیسا کہ لکھتے ہیں۔ ’’رب مان جاتا ہےتو دنیا180 کے زاویےپرپلٹ جاتی ہے۔‘‘دورِحاضر کے حسّاس ترین مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ڈاکٹر حافظ محمد ثانی نے چھے اقساط پر مشتمل مضمون میں سوشل میڈیا کے استعمال کو قابلِ تعریف سنجیدگی اورفنی مہارت سے برتا۔
قرآنی احکامات اورسیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں ثابت کیا کہ حقیقی آزادی وہی ہے، جو خالقِ کائنات نے طے کی اوراِسی کا نفاذ بربادی کو کام یابی میں تبدیل کرسکتا ہے۔ فلسطین اوردیگرخطّوں میں جاری تنازعات پر فکر انگیز تحریریں، جریدے کا خاصّہ ہیں۔ منور مرزا، مجسّم سوال تھے کہ ’’آخر مسلم دنیا ہی تنازعات کی لپیٹ میں کیوں؟‘‘اس ’’کیوں‘‘ کی شاخیں تو اوربھی دُورتک پھیلی ہوئی ہیں۔ مثلاً اگر صرف اِسی میگزین کی بات کروں تو معاشرت، معیشت، صحت، مذہب غرضیکہ ہرشعبۂ زندگی پر بےحساب مثبت تحاویر و تجاویز موجود ہیں۔
اس کے علاوہ بےشمار کتب بھی زندگی سنوارنے کے موضوعات پر تصنیف پاچُکی ہیں۔ اتنا وافرلٹریچر دست یاب ہونے کے باوجود حضرتِ انسان کےدن کیوں نہیں پِھرتے، کرہ ارض کے حالات کیوں نہیں بدلتے اور اب دیکھیے، یہ شہزادہ صاحب ناراض ہوگئے، ویسے شائستہ اظہر کی کچھ باتوں سے تو مَیں بھی متفّق نہیں۔ رائٹ اَپ میں درد کو رُوح کا قطب نما کہتی ہیں۔ لو بھلا، یہ کیا بات ہوئی یعنی ہمیں دُکھی رہنا چاہیے، تاکہ ہم زندہ رہ سکیں۔ یہ تو سراسر ڈیپریشن اور ٹراما کو جائز ٹھہرانے کا خطرناک راستہ ہے۔
درد سے آزادی ہماری جائز خواہش ہےبھئی، ویسے تو مدیرہ صاحبہ نے مناسب جواب دے دیا، مگر مَیں نادانستگی میں آپ کی دل آزاری پر ذاتی حیثیت میں معذرت خواہ ہوں، بزم کی اصل رونق تو آپ اور دیگرایسے احباب ہیں، جو ہماری طرح وقت ملنے پرنہیں آتے، باقاعدہ وقت نکال کر میگزین کودیتےہیں۔میپل کاایک پتّا میری طرف سےقبول فرمائیں۔ خوشی یا معذرت کے اظہار پرمیپل کے پتّے بانٹنا میرا پسندیدہ ترین عمل ہے۔ راجا صاحب نے ہائیڈ پارک کے ہِڈن ہارس کے ڈربی کوئن بننےکا ذکر کیا۔
یہ تو جناب نے بہت لارج اسکیل بات کردی۔ حقیقت تو دراصل یہ ہے کہ مقبوضہ جمّوں کے برف پوش پہاڑوں میں گِھرے، ایل او سی کے نزدیک ایک چھوٹے سے گم نام گائوں کی عام سی بندی کو ڈھونڈ نکالنا اور اس ناپختہ کو گوشئہ ادب میں انگلی تھام کر قدم قدم چلنا سکھانا ہی مدیرہ کے پارس قلم اوردُوربینی کااصل کمال ہے۔’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کی کام یابی کا ایک مکمل سال مبارک، جس کا سہرا بلاشبہ افواجِ پاکستان کے سر ہے۔
یہ تو ایک مکمل آپریشن تھا۔ ہم گائوں والے تومعمول کی اُن’’دوستانہ جھڑپوں‘‘کےبھی عادی ہیں، جنہیں دونوں اطراف کے جوان لہوگرم رکھنے کےبہانےکےطور پرانجام دیتے ہیں۔ سیلاب ہو، کوئی گھسا پٹا شیل یا پرانا سا ڈرون، ہم سائیوں سے آنے والی ہرسوغات اول اول ہمارے ہی متھے لگا کرتی ہے، جسے ہمارے فوجی بھائی جوابی خوان پرچاندی کے اوراق کی سجاوٹ کے ساتھ پورے اہتمام سے واپس لوٹاتے ہیں، بطورحقِ ہم سائیگی۔ اور چلتے چلتے ’’سال کی بہترین چٹھی‘‘ کا اعزاز مدیرہ کی اجازت سےسرسلیم راجا اور ڈاکٹر تبسّم کے ساتھ بانٹنا چاہوں گی اور میری طرف سے میپل کی ایک ایک برانچ آپ دونوں کی نذر بھی۔ پھولوں کی حیثیت اپنی جگہ، مگر کبھی پھول چھوڑ کر میپل بھی آزمائیے، اچھا لگے گا۔ (شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ)
ج: ہمیشہ کی طرح بہت خُوب۔ بخدا اپنی جن چند ایک ’’دریافتوں‘‘ پرصحیح معنوں میں فخروغرور کا احساس ہوتا ہے، تم اُن میں سرِفہرست ہو۔
* میگزین میں ایک سال بعد اپنی تحریر شایع ہوئی دیکھی تو خوشی اور حیرانی کی مِلی جُلی جو کیفیت تھی، پوچھیں نہیں، بہت شکریہ۔ آپ کا باقی میگزین بھی بہت خُوب تھا۔ مگر سچ کہوں تو ’’پیارا گھر‘‘ میں کھانوں کی تراکیب کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔ سوچ رہی ہوں، اب مَیں ہی کچھ مزےدار پکوانوں کی تراکیب بھی لکھ بھیجوں، کیا کہتی ہیں؟ (ثناء توفیق خان، ماڈل کالونی، ملیر، کراچی)
ج: چلو، پھر تو مبارک ہو کہ تمھاری ای میل کی باری تو چھے ماہ ہی میں آگئی۔ تراکیب ضرور بھیج دو، مگراُن میں ایسے پھل، سبزیوں کا استعمال نہ ہو کہ اشاعت تک اُن کا موسم ہی گزرچُکا ہو۔
* ڈائجسٹ کی تحریروں کا معیار روز بروز گرتا کیوں جا رہا ہے؟ (تحریم انظر)
ج: آپ کی نگارشات جو وصول نہیں پا رہیں۔
* شُکر ہے، آپ کو چھے ماہ بعد ہماری ای میل شامل کرنے کا خیال توآیا۔ صحیح کہا آپ نےکہ وہ دَورگیا، جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ اب لوگوں کو بےپر کی اُڑانے سے فرصت ملے تو مُلک وقوم کا سوچیں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ اللہ پاکستان اور تمام اُمتِ مسلمہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ (بلال ناظم، کراچی)
* مَیں نے مختلف کہانیوں پر مبنی ایک ناول لکھا ہے، براہِ کرم مجھے بتائیں کہ مَیں اُسے کیسے اَپ لوڈ کرسکتا یا پوسٹ کے ذریعے بھیج سکتا ہوں۔ (کاشف بھٹی)
ج: ہمارا پوسٹل ایڈریس اور ای میل آئی ڈی دونوں اِسی صفحے پر موجود ہیں۔ اور ہم وہ درج ہی کرسکتے ہیں، آپ کو اُن کا استعمال نہیں سِکھا سکتے۔
* میگزین میں اریبہ سہیل کی ایک تحریر ’’وقت کا درست استعمال‘‘ کےموضوع پرشایع ہوئی،جس میں میرےخیال میں قرآن پاک کی ایک بہت ہی اہم آیت،سورۃ النّسَاء کی آیت 103ضرور شامل ہونی چاہیےتھی کہ جس کا ترجمہ ہے۔’’بےشک نماز اپنے مقررہ وقتوں میں مسلمانوں پرفرض ہے۔‘‘ (قاسم عبّاس، ٹورنٹو، کینیڈا)
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk