• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگیں، انتشار، قدرتی آفات، امن و امان اور ٹیرف، یہ وہ عناصر ہیں، جو براہِ راست عالمی، علاقائی یا کسی بھی مُلک کی معیشت پر اثرانداز ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے یہ سب رواں سال کے شروع سے بھیانک سائے بن کر عالمی معیشت پر چھائے ہوئے ہیں۔ ڈر تھا کہ کہیں یہ گرج چمک کے ساتھ برس ہی نہ پڑیں اور سب کچھ سیلاب میں بہہ جائے، مگر شُکر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ دنیا میں اِس وقت دو بڑی جنگیں لڑی جا رہی ہیں، جن میں بڑی طاقتیں براہِ راست ملوّث ہیں اوردنیا کا شاید ہی کوئی کونا ہو، جو کسی نہ کسی شکل میں دباؤ کا سامنا نہ کر رہا ہو۔

یہ کہنا کہ سب ٹھیک ہے، غلط ہوگا، لیکن یہ پیش گوئی کہ ’’تباہی سر پر کھڑی ہے‘‘ بھی درست نہیں۔ پانچ سالہ یوکرین جنگ کے ہمہ گیر اثرات سب کے سامنے ہیں، جسے یورپ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی علاقائی جنگ قرار دیا۔ دونوں اطراف سے اربوں، کھربوں ڈالرز کے ہتھیار استعمال ہورہے ہیں، جب کہ یہ دونوں ممالک دنیا بَھر کو توانائی، گندم، خوردنی تیل اور کچھ دیگر اشیائے صَرف سپلائی کرتے ہیں۔ جب اِس سپلائی میں تعطّل آیا، تو دنیا ہل کررہ گئی۔

یورپ گیس اور تیل کے بحران کی لپیٹ میں آگیا، جس سے فروری کی یخ بستہ سردیاں شہریوں کے لیے سخت آزمائش بن گئیں۔ پاکستان، جو گندم اور خوردنی تیل کے لیے یوکرین پر انحصار کرتا ہے، منہگائی کی زد میں آگیا۔ یہ تو خوش قسمتی تھی کہ گندم کی بمپر فصل ہوئی اور بُرا وقت کسی حد تک ٹل گیا۔ اِسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ سے بھی تیل اور گیس کا بحران پیدا ہوا۔

ایران نے آبنائے ہرمز کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور یوں کئی ممالک مسائل سے دوچار ہوگئے، جس میں پاکستان، جو ایران کا قریبی دوست اور جنگ میں ثالث بنا، سب سے زیادہ پِسا۔ یہاں تیل کی قیمت ایک وقت میں چارسو تیس روپے تک پہنچ گئی۔ پاکستانی عوام دوستی اور بھائی چارے کی اِس بڑھ کر کیا قیمت ادا کرتے، حالاں کہ اِس جنگ سےاُن کا کچھ لینا دینا بھی نہیں۔

یہ تو ایران کی قیادت، رجیم کی پالیسیز اور امریکا اور اسرائیل کا کیا دھرا تھا۔ لیکن یہ صرف پاکستان کامعاملہ نہیں تھا کہ آبنائے ہُرمز سے دنیا کا بیس فی صد تیل گزرتا ہے، جس کی بندش یا تعطّل سے جنوبی اور مشرقی ایشیائی ممالک متاثر ہوئے۔ پاکستان جیسے کم زور معیشت کے مُلک بہت بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ ہم ایران اور روس کا اسمگل شدہ تیل بھی استعمال نہیں کرتے، جو شیڈو فلیٹس کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے۔

ہُرمز بند کرنے کا جواز اپنی جگہ، لیکن کیا کبھی یہ سوچا گیا کہ اگر ایسے ہی جواز بنا کر دوسرے ممالک بھی اُن کے معاشی راستے بند کردیں، تو اُن کے عوام پر کیا گزرے گی۔ امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کیا، تو پاکستان نے سامان کی ترسیل کی راہ داری فراہم کر کے اُسے لینڈ لاکڈ مُلک ہونے سے بچا لیا۔ جب روس اور ایران پر امریکا معاشی پابندیاں عائد کرتاہے، تو وہ کیسے بلبلاتے ہیں، کیا ہمارے عوام منہگائی کا شکوہ کریں، تو یہ غلط ہیں؟

ایران اور روس کو اپنی معیشت چلانے کے لیے شیڈو فلیٹس اور اسمگلنگ جیسے غیر قانونی راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ اُن کے حمایتی کہتے ہیں کہ کیا کریں، مجبوری ہے، لیکن کیا چوری، اسمگلنگ یا کسی بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا کوئی جواز ہو سکتا ہے۔ پاکستان پر ایسا کرنے کا شک بھی ہو، تو عالمی ادارے چِلّا اُٹھتے ہیں۔ آخر یہ ڈبل اسٹینڈرڈ کیوں؟ اگر چند ممالک ایسا کرتے ہیں، تو پھر ہر ایک کے لیے اسمگلنگ اور دوسرے ایسے ہی دولت کمانے کے اقدامات جائز ٹھہرائے جانے چاہئیں۔

یہ حقیقت ہے کہ عالمی معیشت نے دونوں جنگوں کے منفی اثرات کا مقابلہ توقّع سے کہیں بہتر طریقے سے کیا۔ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ عالمی اور علاقائی معیشتوں نے آبنائے ہُرمز کی بندش اور یوکرین کی پانچ سالہ جنگ کے دھچکے احسن انداز میں برداشت کیے اور کوئی بڑا بحران اب تک سامنے نہیں آیا۔ عالمی اداروں کی پیش گوئی کے مطابق 2026ء میں ترقّی کی رفتار 3، جب کہ اگلے برس 3.4 رہے گی، جو اطمینان بخش ہے۔

نیز، عالمی افراطِ زر4.7 پر برقرار ہے، یہ پریشان کُن ضرور ہے، لیکن آئندہ سال کی ترقّی اِسے کم کرنے میں کام یاب ہو جائے گی۔ اِس سال ترقّی کی رفتار ذرا سُست ہے، لیکن اگلے سال تیزی سے بحالی کی طرف، یعنی معمول پر آجائے گی۔ اِس سُست رفتاری کی ایک وجہ چین کی ترقّی کی رفتار کا4.5 پر آنا ہے، جس کی متعدّد وجوہ ہیں۔ چین نے آٹو اور سولرسیکٹر میں غیرمعمولی پیش رفت کی، لیکن ریئل اسٹیٹ میں اُسےوہ فائدہ نہیں ہوا، جس کی توقّع تھی۔ لیکن کورونا بحران کے بعد ترقّی کی یہ شرح بھی اقتصادی خوش خبری کہی جا سکتی ہے۔

عالمی اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ فی الحال اقتصادی آفٹر شاکس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ عالمی معاشی استحکام میں امریکی پالیسی اور مضبوط معیشت کا بڑا عمل دخل ہے، جس نے صُورتِ حال قابو سے باہر نہیں ہونے دی۔ ٹرمپ کے اقدامات پر بہت تنقید ہوتی ہے، کچھ درست بھی تھی، لیکن اُنہوں نے تیل کی قیمتیں ایک سو ڈالر کے لگ بھگ رکھیں، جس نے آبنائے ہُرمز کی بندش کے اثرات ختم کردیے۔

پھر جنگ کے بیچ وقفوں سے بھی معیشت کو افاقہ ہوتا رہا۔ یہ جنگ کے دوران معاشی صُورتِ حال قابو میں رکھنے کے حکمتِ عملی ہوتی ہے اور یہ پسپائی جان بوجھ کر وسیع تر فوائد کے لیے کی جاتی ہے۔ اِس حکمتِ عملی پرعالمی طاقتیں یک زبان ہوتی ہیں، مگر ہم سُرخیاں لگانے کے شوق میں اسے فتح اور شکست بنا دیتے ہیں۔ معاشی داوؤ پیچ ایک الگ جنگ ہے۔ ایران کے پاس آبنائے ہُرمز کے علاوہ کوئی اقتصادی ہتھیار نہیں، اِسی لیےاُس نے یہ حربہ استعمال کیا، جسےعرب ممالک کے زرِمبادلہ کے وسیع ذخائر، یورپ، امریکا اور چین کی سپورٹ نے زیادہ کام یاب نہیں ہونے دیا۔

دوسری طرف، یوکرین جنگ کی طوالت کے باعث یورپ نے اُس کےمنفی اثرات کا توڑ نکال لیا ہے، اِسی لیے وہ اب اِس جنگ سے زیادہ متاثر نہیں ہورہا۔ ویسے ایران کی اپنی اندرونی کم زوریاں بھی آبنائے ہُرمزکی بندش کےاثرات کم کرنے کا سبب بنیں۔ ایران اور روس کے بہت سے ٹینکرز سمندر میں موجود تھے، جن پر لدا تیل آخر اُنہیں فروخت کرنا تھا اور یہی ہوا۔ پھر امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات نے بھی ایرانی تیل کی طلب کم کردی۔یعنی یہ ڈیمانڈ80 فی صد سے کم ہو کر55 فی صد پر آگئی۔

ایرانی تیل میں سلفر بہت زیادہ ہوتا ہے، اِس لیے پاکستان اور ایسے ہی بہت سے دیگر ممالک اِسے نہیں خرید سکتے کہ اِس کے لیے ریفائنریز کی اَپ گریڈیشن ضروری ہے۔ یاد رہے، بھارت نے اِس مقصد کے لیے دس سال قبل اپنی ریفائنریز اَپ گریڈ کرلی تھیں۔ ہمارے ہاں یہ تیل صرف بلوچستان جیسے علاقوں سے اسمگل ہوکر آسکتا ہے اور کم قیمت ہونے کی وجہ سے لوگ اس کے نقصانات نظرانداز کردیتے ہیں۔

پھر متبادل انرجی کے ذرائع نے بھی جنگ کے دوران تیل پر انحصار کم کر دیا۔ خُود پاکستان میں چینی سولر پینلز گھر گھر لگے ہوئے ہیں، اِسی لیے توانائی کا وہ بحران پیدا نہیں ہوا، جس کا خدشہ ظاہر کیاجارہا تھا۔ گو، اپریل میں میڈیا ہائپ کے باعث مالیاتی معاملات پر دباؤ دیکھا گیا، تاہم یہ دباؤ اب کم ہوتا جارہا ہے، بلکہ معمول کی طرف بڑھ رہا ہے۔

جس عُنصر پرمعاشی ماہرین اورپیش گوئی کرنے والوں کی نظر نہیں گئی، وہ ٹیکنالوجی تھی۔ آرٹی فیشل انٹیلی جینس، جس کی شروعات کو دس سال ہونے کو آئے ہیں، اب اپنے اہداف کے بہت قریب پہنچ چُکی ہے اور نت نئے رنگوں میں نمودار ہو رہی ہے۔ اِس کا استعمال اکانومی کے ہر سیکٹر میں واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ اِس امرمیں کوئی شک نہیں کہ اے آئی کے استعمال سے سب سے بڑا خوف یہی لاحق ہےکہ انسان بےکار ہوجائے گا، یعنی بےروزگاری بڑھ جائے گی اور ایسا کئی مقامات پر دیکھنے میں بھی آرہا ہے۔

یہ کچھ اُسی قسم کی صُورتِ حال ہے، جب ایٹمی قوّت دریافت ہوئی، مواصلاتی سیّارے آئے، انٹرنیٹ کا پھیلاؤ ہوا، کمپیوٹر آیا، موبائل فون نے دنیا کو گلوبل ویلیج بنایا اور سپلائی چین کا شور بلند ہوا۔ اب ہر طرف اے آئی کا ذکر ہے۔ ہر بزنس میں کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کا استعمال زیادہ سے زیادہ ہو۔ ایک تواس میں مین پاور کی بچت ہے، لیکن اصل خُوبی اس کی تیز رفتاری ہے۔ اِسی لیے چیٹ جی پی ٹی سے لے کر ڈیپ سیک اور اس سے بھی آگے بہت کچھ ہر روز سامنے آرہا ہے۔

اے آئی کی2026 ء میں غیر معمولی پیش رفت نے بڑے ممالک اور ترقّی یافتہ معیشتوں کو اِتنا متاثر نہیں کیا، جتنا یہ ٹیکنالوجی کم زور اور ابھرتی معیشتوں کے لیے چیلنجز لائی۔ ترقّی یافتہ ممالک اِس کے انفرااسٹرکچر پر عرصے سے کام کر رہے تھے، اِسی لیے وہ اِس کے درست استعمال میں کام یاب ہیں۔ اُن ممالک میں، جہاں معاشی اور سیاسی عدم استحکام ہے، اے آئی انقلاب پر پوری طرح غور و فکر نہیں ہوا، وہ لوگ جو ابھی ابتدائی نالج رکھتے ہیں، ماہر بن بیٹھے، جب کہ بزنس کےکرتا دھرتا بھی اِس کے کمالات سے آگاہ نہ ہوسکے۔ گو، ہر ایک نے اے آئی کا لیبل ضرور لگا رکھا ہے۔

نتیجتاً اے آئی کا شور تو بہت ہوا، لیکن معاشی فوائد برآمد نہیں ہوئے۔ یہ بات ہماری قیادت سمجھتی ہے اور نہ ہی ماہرین، جن کا لیول عالمی معیار سے بہت نیچے ہے، اِسی لیے پاکستان جیسے ممالک کی ترقّی کی رفتاراب بھی دھیمی ہے، وگرنہ جتنا اے آئی کا ذکر ہے، ہمیں صفِ اوّل کے ممالک میں ہونا چاہیے تھا، جب کہ ہر عالمی رپورٹ ہمیں کم زور معیشتوں میں شمارکرتی ہے۔

ہمیں نئے سرے سے ٹریننگ پروگرام شروع کرنے کی بجائے اپنے غیر مُلکی ٹیلنٹ کو استعال کرنا ہوگا۔ ہاں، بعد میں نئے لڑکوں، لڑکیوں کو بھی اُن کےساتھ شامل کیا جاسکتا ہے۔ اے آئی نے عالمی معیشت کو یوکرین جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات برداشت کرنے میں بہت مدد دی۔ ماہرین کے مطابق یہ اُسی طرح کام یاب ہوئی، جیسے کورونا کےزمانے میں برق رفتاری سے ویکسین ایجاد ہوئی اور چھوٹے سے چھوٹے مُلک تک پہنچا بھی دی گئی۔

تیزرفتارترقّی کےلیے اے آئی کا استعمال مہارت اورغیر معمولی ویژن مانگتا ہے۔ وہ اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنا، جو ترقّی یافتہ ممالک میں متروک ہوچُکی، فائدہ نہیں پہنچا سکتی، خاص طور پر ہمارے جیسے ممالک کو،جن کی معیشت پہلے ہی ہچکولے کھا رہی ہے۔ ہم آج آئی ٹی سے وہ کام لے رہے ہیں، جو بھارت اور چین بیس سال پہلے لے چُکے۔

چند ارب ڈالرز کا اضافہ ہمیں بہت لگتا ہے، لیکن اس کا اصل استعمال معیشت کو نہ صرف اپنےپیروں پر کھڑاکرنابلکہ تیزی سےآگےبڑھانا ہے اوربدقسمتی سے ہم دونوں میں ناکام ہیں۔ ہمیں پہلے اپنے غیر مُلکی اے آئی ماہرین کی خدمات حاصل کرکے معیشت کو رواں کرنا ہوگا، پھر یہاں تربیت لینے والوں کو اُن کے ساتھ ضم کریں۔ اِس سے بہتر امتزاج بنےگا۔ ہماری یونی ورسٹیز دعوے تو بہت کرتی ہیں، لیکن اُن کےفارغ التحصیل کسی نئی یا تیز رفتار ترقّی کے موجب نہیں بن رہے۔

جب کہ ہماری قیادت اب بھی کوالٹی کی بجائے کوانٹیٹی پر زور دے رہی ہے۔ شاید وہ تعداد ہی کو کام یابی سمجھ رہی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہماری معیشت بہت دیرانتظارنہیں کر سکتی۔ پہلے ہی مشکل فیصلے بہت تاخیر سے کیے گئے، جن کے لیے عوام بھی تیار نہیں تھے، اوپر سے یوکرین اور ایران جنگ کے اثرات نےرنگ دِکھائے، یوں عوام کا قیادت اور فیصلوں پر اعتماد ہی متزلزل ہوگیا۔ اُنھیں منہگائی نے مار ڈالا اور غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ بہتر یہی ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کو حکومت کی بجائے نجی سیکٹر میں فروغ دیا جائے تاکہ برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو۔ پھر لوگوں کو نظربھی آنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ حقیقتاً کام کررہی ہے۔

عالمی پیش گوئی کے مطابق اگلا برس معاشی طور پر بہتر رہے گا۔ جس سےظاہر ہوتاہےکہ معاشی ماہرین کےپاس وہ انڈی کیٹرز موجود ہیں، جو عالمی اورعلاقائی معیشتوں کو جلد بحال کرنے میں کام یاب ہوں گے۔ مشرقِ وسطیٰ اور روس کی جنگ کے باوجود عالمی طور پر مایوسی نہیں، ہاں غیر یقینی صُورتِ حال ضرور ہے اور وہ اُس وقت تک قائم رہے گی، جب تک کوئی امن معاہدہ نہیں ہوجاتا۔ کسی بھی فریق کے لیے فتح یا شکست اہم نہیں، بلکہ کام یابی یہ ہے کہ وہ کتنی جلد جنگ بند کروانے میں کام یاب ہوتا ہے۔

جب دبئی پرایرانی حملے ہو رہے تھے، تو پیش گوئیاں ہورہی تھیں کہ اب عرب دنیا کا زمانہ گزر گیا۔ کراچی سے لے کر نہ معلوم کن کن پورٹس کے نئے دبئی بننے کے تجزیے ہو رہے تھے، یہ جانے بغیر کہ سات دہائیوں کے بعد بھی کراچی کا شہری اور تجارتی انفرااسٹرکچر اِس قابل نہیں کہ اس کے اپنے شہری یہاں رہ سکیں، کجا کہ باہر سے آکر لوگ یہاں سرمایہ کاری کریں۔ پھر امن وامان، پڑوسی ممالک سے تعلقات، کیا یہ سب سرمایہ کاری کےلیےکشش رکھتے ہیں۔

یہ سوال خُود سے پوچھنے کا ہے، کیا ہم اس کی تیاریاں کررہےہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر جذباتی ہونے والی قوم تجارت اور معیشت کا حب بننے کا خواب تو دیکھ سکتی ہے، لیکن اُسے حقیقت بنانا کہاں تک ممکن ہے، یہ بھی دیکھ لینا چاہیے۔ اگر بیانات ہی سے مُلک ترقّی کر سکتے، تو آج ہم سُپر پاور ہوتے۔ ایسے خوابوں میں رہنے والوں کے لیے اطلاع ہو کہ بڑی بڑی کمپنیز یو اے ای میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے آرہی ہیں اور وہ بحالی کی اسٹیج پر ہے۔

اِس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یوکرین اور ایران جنگ کے اثرات معاشی طور پر دنیا پر اثرانداز تو ہوئے، لیکن کسی بڑی تباہی کا سبب نہیں بنے، جیسے عالمی کساد بازاری یا مشرقِ وسطیٰ کے امیر ممالک کی تباہی۔ آئندہ سال بحالی میں تیزی آئے گی۔ جنگیں ختم ہوں گی اور ٹیکنالوجی وہ خلاپُر کرے گی، جس سے خطرات لاحق ہوسکتے تھے۔