• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طاقتور اور کمزور کیلئے علیحدہ قوانین، پولیس اور عدلیہ پر عدم اعتماد کا باعث

عزت اور ذلت کے وارث پروردگار نے ماضی قریب میں ہمارے ملک اور ہماری مسلح افواج کو دنیا میں سربلند کیا اور وہ عزت اور نیک نامیاں عطا کیں جن کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم کم ملتی ہے۔یہ عزت اس انداز میں عطا ہوئی کہ مالک کائینات نے چشم زدن میں پاکستان کو اوج کمال تک پہنچا دیا اور طاقت کے تکبر میں مبتلا بھارت کو ذلت و رسوائی کے پاتال میں دھکیل دیا۔اور اب عزت و آبرو عطا کرنے اور کمزور کو طاقت عطا کرنے والے رب سے دعاہے کہ اس ملک کو راہ مستقیم دکھا اوراسے روشنیاں عطا کر دے۔اقتدار اور ناجائز دولت کی حرس رکھنے والوں کی اصلاح فرما اور کمزور اور بے آواز طبقہ کو کچل کر طاقتور بننے کی خواہش رکھنے والوں کو صحیح سمت دکھا۔بے بسوں اور کمزوروں کے رب ! طاقتور طبقہ اس ملک کا زمینی خدا بن کر فرعونیت کا نظام رائج کئے ہوئے ہیں اور ان کے نشانے پر صرف پسا ہوا وہ طبقہ جو پہلے ہی اپنے بچوں کے مستقبل کو فراموش کر کے صرف دو وقت کے روٹی کی تلاش میں طاقتور طبقہ کے اشاروں پر اپنی زندگی بسر کر رہا ہے، اس بے یار و بے سہارا طبقہ کے راستے میں اقربا پروری، ذاتی پسند نا پسند، رشوت ستانی، سرکاری طاقت کا غلط اور ناجائز استعمال کرنے والوں نے سچ اور فرض شناسی کے معنی تبدیل کر دئیے ہیں، حب الوطنی کے نام پر ملک دشمنوں کی طرح اپنے ہی وطن کو گدھوں کی طرح نوچنے کا عمل پورے عروج پر ہے۔ حکومتوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاست زدہ کرنے کی زمین ہموار کی تو پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ انتظامی اور عدل و انصاف کے ادارے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے آلۂ کار بن گئے، نتیجتاً تمام اداروں میں سیاست داخل ہو گئی اور سرکاری اداروں میں سیاسی نظریات کے اختلافات کی بنیاد پر انتشار کی فضا پیدا ہوئی جو سرکاری کام پر اثرانداز ہونے لگی۔ستم ظریفی یہ کہ اقتدار میں آنے والی ہر پارٹی پولیس آفیسرز کی قابلیت اور میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عموماً ایسے بدعمل اور ہر لحاظ سے کرپٹ آفیسر کا بھی انتخاب کر لیتی ہے جو تمام تر برائیوں کے باوجود ان کے نظام کے لئے سودمند ہو جبکہ قابل اور پروفیشزم کے معیار پر پورا اترنے والوں کو "کھڑے لائین" لگا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پولیسنگ اور انتظامیہ کے بنیادی ڈھانچے تباہ ہو رہے ہیں اور جس کی ذمہ دار اقتدار میں آنے والی ہر وہ پارٹی ہے جس نے پولیس اور انتظامی آفیسرز کو پارٹی مفادات کے لئے استعمال کیا۔ جس کے نتیجے میں سیاسی مقاصد ریاستی مفادات پر غالب آگئے، سرکاری ملازمین سیاسی پارٹیوں کے آلۂ کار بن گئے، دفاتر میں کھلے عام سرکار اور ریاست کے خلاف اظہار خیالات معمول بن گیا ہے،یوں ریاست کا کام متاثر ہونے لگا اور اداروں میں سیاست کی جڑیں مضبوط ہوتی گئیں۔ نتیجتاً انتظامیہ عوام کو ریلیف مہیا کرنے کی ذمہ داریاں پس پشت ڈال کر پولیس اور دوسرے اداروں کے کاموں میں مداخلت کر کے اپنی بالا دستی قائم کرنے لگی۔معاشرے میں اتنی سنگین تقسیم پیدا ہوئی کہ جس پر انسانیت بھی شرماتی ہے۔جب جیل بھی طاقتور اور تمام وسائل پر غالب شخص کے لئے جیل کو بھی تمام تر مراعات اور سامان تعیش مہیا کر کےمحل بنا دیا گیا، جن کے لئے فائیو سٹار ہوٹلوں سے کھانے منگوانے یا جیل میں مرضی کے پکوان تیار کرانا قانونی مراعات میں شامل ہے جبکہ کمزوروں کے لئے جیل میں تیار کی جانے والی لمبے پانی والی دال ہی جنت سے بھیجا جانے والان پکوان ہوتا ہے۔معاشرے میں طبقات کی تقسیم عدل کے ایوانوں میں تقویت پاتی اور انصاف کے نام پر زہر کی طرح پھیل جاتی ہے۔افراتفری کے اس ماحول میں کوئی شعبہ معتبر نہیں رہا، میڈیکل، وکالت، تعلیم اور انسانی حقوق کی تنظیمیں عبادت نہیں، صنعت کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی ۔اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے"ساغر صدیقی کا یہ شعر پاکستانی معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان زہر آلود خلیج کا عکس اور معاشرے کی طبقات میں تقسیم کا محتاط اشارہ ہے۔ بظاہر محروم طبقات کی نمائیدگی یا سرپرستی سیاستدانوں اور آسودہ حال طبقہ کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری تصور کی جاتی ہے لیکن یہی طبقات جو کمزوروں کا استحصال اپنا حق سمجھ کر کرتے ہیں۔بلندیوں پر بیٹھےاس طاقتور طبقے کوخط غربت سے کہیں نیچے زندگی گزارنے والے یہ کمزور لوگ کیڑے مکوڑے دکھائی دیتے ہیں جن کی مجبوریاں معمولی قرضوں کے عوض خرید کر اپنے ڈیروں کو آباد اور غلاموں کی فوج میں اضافہ کرتے ہیں اور عدل کے ایوان "جمہوری" حکومتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں، پارلیمانی قوتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غلاموں کی مانند اس طاقتور طبقے کے اس غیر انسانی قانون کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوتے ہیں۔

تازہ ترین