میں اس وقت کینیڈا کے شہر کیلگری میں موجود ہوں جہاں دھنتیرس گالا کی رنگارنگ تقریب کے دوران مجھے گلوبل ہندو ایوارڈ سے نوازا گیا ہے،تقریب میں کینیڈا اوردنیا بھر سے سیاسی رہنماؤں، سفارتکاروں، سماجی و کاروباری شخصیات، کمیونٹی نمائندوں اور ممتاز مہمانوں نے شرکت کی۔ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ہندو کمیونٹی کی کینیڈا کی سماجی، ثقافتی اور معاشی ترقی میں نمایاں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، اس موقع پرالبرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ، قائد حزبِ اختلاف پیئر پوئیلیور، جبکہ اونٹاریو اور سسکیچیوان کے پریمیئرز نے بھی ہندو برادری کے مثبت کردار کو سراہا۔ تقریب میں کیلگری کے میئر جیرومی فرکاس، البرٹا کے وزیرِ انصاف و اٹارنی جنرل مکی ایمر سمیت متعدد ارکانِ پارلیمنٹ، منتخب عوامی نمائندوں، بین الاقوامی سفارتکاروں اور عالمی سماجی رہنماؤں نے بھی اپنی موجودگی یقینی بنائی۔ مذکورہ بین الاقوامی ایوارڈ کیلئے دنیا بھر سےکسی ایک شخصیت کو نامزد کیا جاتاہے جو اپنی انتھک جدوجہد، مخلصانہ کاوشوں اوردردِ انسانیت رکھنے کی بناء پر عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے قابل ہو، رواں برس یہ عالمی ایوارڈ حاصل کرکے مجھے پاکستان کے پہلے اور واحد شہری کا اعزازبھی حاصل ہوگیا ہے۔ جب تقریب کے منتظمین کی جانب سے مجھے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے مدعو کیا گیا تو میں نے ضروری سمجھا کہ ہندو دھرم کی اصل پُرامن تعلیمات کو اجاگر کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا جائے، ہندو دھرم کی بنیادی ویدک تعلیمات میںسب کی سیوا(بغیر کسی صلے کے خدمت)،کارونا( رحم، ہمدردی)،کرما (اچھے کام کا اچھا بدلہ)، اورواسودھیو کاتم باکم (پوری دھرتی ایک گھرانہ ہے) مرکزی اہمیت رکھتے ہیں، میں اپنے والد محترم ڈاکٹر سیتل داس کایہ سنہری درس کبھی فراموش نہیں کرسکتا کہ کامیاب انسان وہ نہیں جو صرف اپنے لیے جیتا ہے بلکہ وہ ہے جو دوسروں کے دکھ درد بانٹتا ہے۔ہندو دھرم میں بھوکے انسان کو کھانا کھلانا سب سے بڑی نیکی ہے، میرا ماننا ہے کہ اگرہمارے سماج سےبھوک، غربت اور محرومی ختم ہو جائے تو بہت سے تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔بطور ممبر پارلیمنٹ میں نے پارلیمان کو عوام کی خدمت کا پلیٹ فارم سمجھا، میری ہمیشہ کوشش رہی کہ اقلیتوں کے آئینی حقوق، مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، تعلیم، صحت، خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کیلئے موثر قانون سازی اور پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کروں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان ہندو کونسل مفت میڈیکل کیمپ، تعلیمی معاونت، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیاں، اجتماعی شادیوں کے پروگرام، انٹرفیتھ ڈائیلاگ، فنانشل اسپورٹ، جاب فیئر اور متعدد سماجی منصوبوں کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کا باعث بنی ہے، بطور سرپرست اعلیٰ میں نے اس امر کو یقینی بنایا کہ ہمارے فلاحی منصوبوں سے ہر مذہب اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا مستفید ہوسکے ۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سنگ میل سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے انیس جون 2014ء کے تاریخی فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے روبرومیرے دلائل نے کلیدی کردار ادا کیا۔ چند سال قبل جب ہمارا پیارا بڑا بھائی ڈاکٹر پریم کمار وانکوانی ہمیں روتا چھوڑ کر اس دنیا سے چلا گیا تو وانکوانی پریوار نے آبائی علاقے اسلام کوٹ میں150 ایکڑ پرمحیط پریم نگردی لینڈ آف لو کاعظیم الشان منصوبہ شروع کیا جسکی بطور چیئرمین سربراہی کی کٹھن ذمہ داری مجھ کو سونپی، آج پریم نگر صوبہ سندھ کے پسماندہ ترین ضلع تھرپارکر کے صحراؤں میں خدمتِ انسانیت کے ایک زبردست رول ماڈل ویلج میں ڈھل چکاہے، جہاں جدید تعلیمی ادارے، یتیم خانہ، اولڈ ایج ہوم، خصوصی افراد کیلئےبحالی مرکز، ہنر مندی کے مراکز، نرسنگ و پیرا میڈیکل کالج، تھر یونیورسٹی اور دیگر فلاحی منصوبے قائم کیے جا رہے ہیں،میری مالک سے دُعاہے کہ پریم نگر محبت، رواداری ، برداشت اور خدمت کی ایسی مثال بنے جس پر ہر پاکستانی فخر کر سکے۔میں نے کینیڈا میں گلوبل ہندو ایوارڈ وصول کرتے ہوئے عالمی مندوبین کے سامنے اس حقیقت کو اجاگر کرنا بھی ضروری سمجھا کہ موجودہ پاکستان کی سرزمین ہزاروں برس سے قدیم ہندو تہذیب کا مرکز رہی ہے، آج بھی ہنگلاج ماتا مندر، کٹاس راج مندر، ٹیری مندر، ملتان کا پراہلاد مندر اور بے شمار دیگر مقدس مقامات نہ صرف ہندو عقیدت مندوں کیلئےروحانی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ ہماری مشترکہ تاریخ کے زندہ آثار بھی ہیں۔اس موقع پر میں نے شرکاء کو دعوت دی کہ وہ پاکستان آئیں، ان مقدس مقامات کی یاترا کریں اور خود دیکھیں کہ پاک سرزمین کس طرح مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے حسین سنگم کی امین ہے،میری نظر میں یاترا صرف پوجاپاٹ نہیں بلکہ دِلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے،میں نے گندھارا سیاحت کے حوالے سے اپناماضی کا تجربہ بھی شیئر کیا کہ جب مختلف ممالک کے لوگ پاکستان آ کر یہاں کے مقدس مقامات، ثقافت، مہمان نوازی اور مذہبی ہم آہنگی کو دیکھتے ہیں تو غلط فہمیاں ختم ہوتی ہیں اور محبت، احترام اور اعتماد کے نئے دروازے کھلتے ہیں، یہی وہ عالمی مذہبی ہم آہنگی اور عوامی سفارت کاری ہے جسکی آج دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔میرے نزدیک کسی بھی اعزاز کی اصل اہمیت اس وقت ہوتی ہے جب وہ انسان کو مزید ذمہ دار بنا دے،آج میں گلوبل ہندو ایوارڈ کا یہ عالمی اعزازاپنی دھرتی ماتا پاکستان کے نام کرتے ہوئے یہی کہنا چاہوں گا کہ خدمت کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ایسی ہر کامیابی انسان کو مزید عاجزی، مزید محنت اور مزید اخلاص کے ساتھ آگے بڑھنے کا جوش وجذبہ عطا کرتی ہے۔