• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر علی رضا کی قبر کشائی مؤخر کر دی گئی: وکیل جبران ناصر

میر علی رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ علی رضا کی قبر کشائِی آج کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا ہے کہ میڈیکل بورڈ سے متعلق تیسرا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، پہلے اور دوسرے میڈیکل بورڈ کو ضم کر کے تیسرا میڈیکل بورڈ بنایا گیا ہے، ہم میڈیکل بورڈ کے تیسرے نوٹیفکیشن کو بھی نہیں مانتے، میر رضا کے والدین نے تفتیشی افسر کو بیانات ریکارڈ کروا دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قبر کشائی کوئی مذاق نہیں، متنازع میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں قبر کشائی کی اجازت نہیں دیں گے، کیس میں سامنے آنے والی صورتِ حال انتہائی سنجیدہ ہے، عدالت نے پولیس سرجن اور پولیس کو ہدایت کی تھی، جس کے بعد ایک میڈیکل ٹیم تشکیل دی گئی، تاہم راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کر دیا گیا، جس پر شدید تحفظات ہیں۔

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ میں کراچی کے ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے تھا، پہلے میڈیکل بورڈ میں کیا سرکار کے لوگ شامل نہیں تھے؟ پہلے میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹروں میں کیا خامی تھی کہ پہلے انہیں شامل کیا اور پھر نکال دیا؟ رات میں میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کی وجہ کیا ہے؟ یہ کون سی عجلت تھی، کون سی ایمرجنسی تھی کہ آپ نے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا، رات کی تاریکی میں نوٹیفکیشن کیسے جاری کیا گیا؟ پہلا نوٹیفکیشن واپس لیے بغیر یہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جناح اور ڈاؤ یونیورسٹی سرکار کی نہیں؟ کراچی کی ڈویژن کی حدود میں ڈاؤ، جناح میڈیکل یونیورسٹی آتی ہے یا جامشورو یا حیدرآباد کا کوئی میڈیکل کالج؟ یہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کون ہیں؟ اور ان کا کیا اختیار ہے؟ وہ کس قانون کے تحت میڈیکل بورڈ کے سپروائزنگ آفیسر بن گئے؟ پولیس سرجن کراچی کے آرڈر کو کیسے سپر سیڈ کر دیا گیا حیدر آباد سے جاری خط میں سیکریٹری صحت کے کس حکم کا حوالہ دیا گیا؟ میڈیا سے ہی ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ سرکار کیا گل کھلا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں کوئی متبادل یا پلان سی قبول نہیں، ہم صرف پہلے سے قائم 8 رکنی میڈیکل بورڈ کو تسلیم کرتے ہیں، قبر کشائی سے قبل آئی جی سندھ کا کیس حل کے قریب ہونے کا بیان سوالیہ نشان ہے، قتل میں ملوث افراد کے اثر و رسوخ کے باعث راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا، وزیرِ اعلیٰ سندھ اور بلاول بتائیں کہ ان کے صوبے میں ہو کیا رہا ہے؟ سندھ سے لوگ علاج کرانے کراچی آتے ہیں، میڈیکل بورڈ حیدر آباد سے بن رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر کو 8 دن تک گولی کا خول نہیں ملا،  جیسے ہی عدالت سے رجوع کیا تو گولی کا خول مل گیا، کچھ گھنٹوں بعد خبر آئے گی کہ بندوق بھی مل گئی، پستول کے بغیر خول کی برآمدگی تفتیش میں کیا اہمیت رکھتی ہے؟ تفتیشی افسر نے میر رضا کے کمرے کا معائنہ بھی نہیں کیا۔

جبران ناصر نے کہا کہ ایک باپ کی جوان اولاد قتل ہوئی ہے، اس لیے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے، قبر کشائی کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک حساس قانونی عمل ہے، اسی لیے متنازع میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں قبر کشائی کی اجازت نہیں دیں گے۔

دوسری جانب کراچی میں میر رضا کیس میں قبر کشائی کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے اور پولیس کی ٹیم بھی پی ای سی ایچ ایس قبرستان پہنچ گئی، تاہم میر رضا کے والد نے انتظامیہ کو اپنے بیٹے کی قبر کشائی سے روک دیا۔

قومی خبریں سے مزید