• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں چاروں صوبے اپنی الگ جغرافیائی، ثقافتی اور معاشی اہمیت رکھتے ہیں۔ہر صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہےمگر بدقسمتی سے وسائل کی غیر مساوی تقسیم، انتظامی کمزوریاں ،سیاسی اختلافات اور احساسِ محرومی جیسے مسائل نے وفاق کو ہمیشہ چیلنجز سے دوچار رکھا ہے۔ آج ایک طرف چاروں صوبے اپنے اپنے حقوق اور مسائل کی بات کر رہے ہیں، دوسری طرف نئے صوبوں کے قیام کی بحث دوبارہ زور پکڑ رہی ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی بے چینی نے وفاقی نظام کے حوالے سے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور زراعت، صنعت اور تجارت میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں پنجاب کا حصہ نمایاں ہے، تاہم جنوبی پنجاب کے عوام برسوں سے ترقیاتی عدم توازن، سرکاری اداروں تک محدود رسائی اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کی شکایت کرتے آئے ہیں۔

اسی احساسِ محرومی کی بنیاد پر الگ جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے۔دوسری جانب سندھ پاکستان کی معیشت کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی، مالیاتی اور صنعتی مرکز ہے، جبکہ سندھ گیس، کوئلے، بندرگاہوں اور سمندری وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ اس کے باوجود صوبہ پانی کی قلت، دیہی پسماندگی، صحت، تعلیم، زرعی مسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ سندھ میں یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ اگر سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر انتظامی تبدیلیاں یا نئے صوبوں کی تجاویز سامنے آئیں تو اس سے صوبائی خودمختاری اور وفاقی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا قدرتی حسن، معدنی وسائل، پن بجلی اور سیاحت کے حوالے سے منفرد حیثیت رکھتا ہے، لیکن دہشت گردی، بے روزگاری، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور ترقیاتی مسائل نے اس کی رفتارِ ترقی کو متاثر کیا ہے۔

اسی طرح بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، سونا، تانبہ، گیس اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود غربت، پسماندگی، پانی کی قلت، صحت اور تعلیم کی ناکافی سہولیات جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وسائل کی موجودگی سے زیادہ اہم ان کا منصفانہ اور مؤثر استعمال ہے۔ان حالات میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر زور پکڑ رہی ہے۔

اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ نئے انتظامی یونٹ بننے سے عوام کو حکومتی اداروں تک بہتر رسائی ملے گی، ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عمل ہوگا اور مقامی مسائل کا حل آسان ہو جائے گا۔ دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اصل مسائل انتظامی نہیں بلکہ گورننس، کرپشن، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور قانون پر مؤثر عملدرآمد سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق اگر موجودہ نظام میں شفافیت اور انصاف پیدا نہ کیا گیا تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کا شکار ہو جائیں گے۔اسی دوران آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی، احتجاج اور انتخابی تنازعات نے بھی وفاقی نظام پر بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ جہاں عوام خود کو نظر انداز محسوس کریں، وہاں بے چینی جنم لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اختلافِ رائے کو جمہوری انداز میں سنے، آئینی اداروں کو مضبوط کرے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت نئے تنازعات پیدا کرنے کے بجائے پرانے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم، معیاری تعلیم، بہتر صحت، روزگار کے مواقع، مضبوط بلدیاتی نظام اور وسائل کی شفاف تقسیم وہ بنیادی مسائل ہیں جن کے حل کے بغیر محض نئے صوبوں کا قیام عوام کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتا۔

وفاق کی اصل طاقت اس وقت بڑھتی ہے جب اس کی تمام اکائیاں خود کو برابر کا شریک محسوس کریں۔ اگر پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو یہ یقین ہو کہ انکے وسائل، حقوق اور آئینی اختیارات محفوظ ہیں تو وفاق مزید مضبوط ہوگا۔ لیکن اگر احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کرتے رہیں گے۔وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور تمام صوبے باہمی اعتماد، آئین کی بالادستی اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔

پاکستان کی مضبوطی نئے صوبے بنانے یا نہ بنانے میں نہیں بلکہ انصاف، مساوات، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔

تازہ ترین