شکیلہ کب سے بیسن پر کھڑی منہ رگڑے جارہی تھی۔ کل ہی اُس نے نیا فیس واش لیا تھا اور آج آدھے گھنٹے سے وہ چہرہ چمکانے میں لگی تھی۔ ’’کچھ چائے وائے بھی ملے گی یا نہیں…؟‘‘ ساجد بڑی دیر سے چائے کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ ’’شکیلہ چائے تو بناؤ۔ کب تک منہ دھوتی رہوگی۔‘‘ امّاں نے شکیلہ کو آواز لگائی۔ ’’ساجد کب سے آفس سے آکر بیٹھا ہوا ہے۔‘‘ ’’آتی ہوں امّی! بس پانچ منٹ۔‘‘ شکیلہ نے آنکھیں کھولے بغیر پلٹ کر جواب دیا۔ ’’تمہارے پانچ منٹ ختم ہی نہیں ہو رہے۔‘‘ امّاں کو غصّہ آگیا۔
’’امّی! آپ ہی نے اِسےخواہ مخواہ رنگ گورا کرنے کے چکر میں ڈالا ہوا ہے، اتنی اچھی تو ہے۔‘‘ ساجد الٹا امّاں سے شکوہ کرنے لگا۔ ’’پتا نہیں کیا کیا کچھ خرید کر چہرے پر لگاتی رہتی ہے۔ یہ کریمیں وغیرہ کچھ نہیں کرتیں۔ بلکہ کبھی نقصان بھی دے دیتی ہیں۔‘‘ ’’شکیلہ! چائے کے ساتھ کچھ کھانے کو بھی لانا۔‘‘ شکیلہ سے کہتی ہوئی امّاں ساجد کی طرف مُڑیں۔ ’’کِسے اچھی لگتی ہے شکیلہ۔ آج تک کسی نے پسند کیا شکیلہ کو۔ کوئی پیام کوئی رشتہ آیا، اِس کے لیے۔ تمہاری دونوں بڑی بہنوں کی اِس سے کم عُمری میں شادی ہوگئی تھی۔
اُن دونوں کا رنگ سفید تھا، تمہاری ماں کی طرح۔ بڑی ہوئیں نہیں کہ لوگوں نے چکر لگانے شروع کردئیے۔ نبیلہ کو تو پھوپھی ہی لے گئیں کہ بچپن کی مانگ ہے۔ حالاں کہ کبھی کوئی خاص بات ہوئی نہیں تھی۔ تمہارے ابّا نے بھی سوچا، گھر کی بات ہے، لڑکا اچھا ہے، سو فوراً ہاں کردی۔ جمیلہ اپنی کالج کی سہیلی کو اپنے بھائی کے لیے پسند آگئی۔ اِس طرح ہم دونوں کے فرض سے فارغ ہوگئے۔ ہمارے زمانے میں اتنا رنگ رُوپ دیکھا نہیں جاتا تھا اور لڑکوں کا رنگ رُوپ آج بھی کون دیکھتا ہے۔
تمہارے ابّا کا رنگ ذرا کم تھا۔ تم اور شکیلہ ابّا پر چلے گئے۔ اب دیکھو، اٹھائیس کی ہوچُکی ہے۔ کوئی مناسب کیا، کم مناسب رشتہ بھی نہیں آیا۔ رات دن اِسی کی فکر لگی رہتی ہے۔ دونوں بہنوں سے بھی کئی بار کہا۔ دونوں کہتی ہیں، امّی! لوگوں کو گورا رنگ چاہیے۔ جاننے والوں سے کئی بار تذکرہ کیا۔ ایک دو مرتبہ کچھ لوگ آئے بھی، لیکن چائے اور لوازمات کھا پی کر چلے گئے۔ لوگ نہ لڑکیوں کے گُن دیکھتے ہیں، نہ گھروں کا سلیقہ اور نہ ہی گھر والوں کی شرافت۔ بس رنگ رُوپ کے پیچھے پڑے ہیں سب۔ اس کی کہیں بات طے ہو تو تمہاری شادی کا سوچوں۔‘‘ امّاں تو جو شروع ہوئیں تو چُپ ہونے کا نام ہی نہ لیا۔
چائے کب کی ختم ہوگئی تھی، لیکن ماں، بیٹے کی گفتگو جاری تھی۔ ’’امّی! دیکھ لیں۔ اب میری پروموشن بھی ہوگئی ہے۔ گھر بھی اچھا رینوویٹ ہوگیا ہے۔ ابّا کی پینشن بھی آرہی ہے۔ مسئلہ نہیں ہے کوئی۔‘‘ ’’ہاں بیٹا! اللہ کا شُکر ہے، پیسوں کی طرف سے بے فکری ہے۔ شکیلہ کی بھی ہر چیز تیار ہے۔ آج رشتہ ملے، کل شادی کردوں۔‘‘ ’’اچھا یہ بتاؤ ساجد! تمہاری کوئی ڈیمانڈ یا کوئی خاص فرمائش تو نہیں!‘‘ امّاں کو بیٹے پر پیار آرہا تھا کہ شکیلہ کی وجہ سے اُس کی بھی شادی رُکی ہوئی تھی۔ ’’نہیں امّی! میری کیا فرمائش، جو آپ کو اچھی لگے۔ شریف لوگ ہوں۔ آگے مسائل نہ ہوں۔
آج کل شادیوں کے بعد بھی بڑے مسئلے ہوتے ہیں۔‘‘ساجد نے تابع داری سے جواب دیا۔ ’’ساجد! مَیں شکیلہ کے رشتے کے انتظار میں تمہاری شادی میں خوامخواہ دیر کر رہی ہوں۔ سوچتی ہوں، اُس کا اللہ مالک ہے۔ مَیں اپنے بیٹےکا گھر تو بساؤں پہلے۔‘‘ امّاں نے بیٹے کو پچکارتے ہوئے کہا۔ ساجد کی باتوں سے اُنہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ شادی کرنا چاہ رہا ہے۔
رات ہوئی نہیں کہ رضیہ بیگم نے شوہر سے ساجد کی شادی کی بات شروع کردی۔ اور پھر اگلے ہی ہفتے ساجد کا رشتہ طے بھی ہوگیا۔ میاں بیوی مل کر لڑکی دیکھنے گئے، لڑکی پسند آگئی اور اُنہوں نے ہونے والی بہو کے گھر والوں کا کا منہ بھی میٹھا کردیا۔ ’’اِن شااللہ اپنی بیٹیوں کو لے کر آؤں گی، پھر شادی کی تاریخ رکھیں گے۔‘‘ رضیہ بیگم نے اپنی ہونے والی سمدھن سے کہا۔ اور پھر گھر واپس آکر انہوں نے ساجد کے سامنے اُس کی ہونے والی دلہن کی اتنی تعریفیں کیں کہ وہ بھی شدت سے ایک بہت پیاری سی خُوب صُورت دلہن کا گھونگھٹ اُٹھانے کو بے تاب ہوگیا۔
ساجد کے سسرال والے اُسے مٹھائی کھلانے کے لیے آرہے تھے۔ رضیہ بیگم کے گھر میں ایک ہلچل سی مچی ہوئی تھی۔ دونوں بیٹیاں، بچّوں سمیت آئی ہوئی تھیں۔ بچّے ماموں کی شادی کی خبر سُن کر کچھ زیادہ ہی خوش ہو رہے تھے۔ کہیں کپڑوں کے ڈیزائن طے ہو رہے تھے، تو کہیں جیولری اور میک اپ کی باتیں تھیں۔ چائے، پانی سے فراغت ہوئی، تو دونوں بہنوں نے ماں سے سوالات شروع کر دئیے۔ ’’امّی! آپ اکیلے ہی لڑکی دیکھ بھی آئیں اور بات بھی طے کردی۔
ہم میں سے کسی کو نہیں بلایا۔‘‘ جمیلہ کہہ رہی تھی۔ ’’تمہاری ساس عُمرے پر گئی ہوئی تھیں۔ تم گھر چھوڑ کر آ نہیں سکتی تھی ۔ نبیلہ کے بچّوں کے امتحان چل رہے تھے۔ کس کو بلاتی؟‘‘ امّاں نے بھی تڑخ کر جواب دیا۔’’تو تھوڑا انتظار کرلیتیں، کون سا وقت نکلا جارہا تھا ۔ آپ نے تو ہتھیلی پر سرسوں ہی جمادی۔‘‘ جمیلہ بولی۔ ’’کتنا ارمان تھا ہم بھی بھائی کے لیے لڑکیاں دیکھنے جائیں گے۔ ہماری بھی آؤ بھگت ہوگی۔‘‘
نبیلہ ہنس کر بولی۔ رضیہ بیگم ناراض ہوگئیں۔ ’’بہت اچھی بات سوچی تھی تم لوگوں نے۔ لڑکے والے بن کر جاؤ، چائے، سموسے کھاؤ اور کوئی نقص نکال کر منع کردو۔‘‘ ’’امّی! آپ تو ناراض ہوگئیں، ہم مذاق کر رہی تھیں۔ آپ بتائیں، بہنوں کا دل نہیں چاہتا کہ اپنے بھائی کے لیے لڑکی ڈھونڈیں۔‘‘ نبیلہ نے ماں کے گلے میں بازو ڈال دیئے۔ ’’جب جاننے والوں میں اچھی لڑکیاں موجود ہوں، تو ضروری ہے، لڑکی ڈھونڈنے کے لیے جوتیاں گِھسی جائیں۔ افضل صاحب تمہارے ابّا کے آفس کے دوست ہیں۔ ایک ساتھ کام کیا ہے۔ دو بیٹے ہیں، چار بیٹیاں۔
دونوں بیٹے شادی شدہ، سعودیہ میں اپنی فیملیز کے ساتھ سیٹ ہیں۔ دو بیٹیوں کی بھی شادی ہوگئی۔ تیسری کے لیے بہت عرصے سے کہہ رہے تھے۔ مَیں اور تمہارے ابّا گئے تھے۔ ہم نے تو ساجد سے بھی کہا تھا، ساتھ چلنے کو، یہ گیا نہیں۔ بھئی، کیا گھر تھا اور کیا بچیاں۔ انتہائی سلیقے سے سجا صاف سُتھرا گھر۔ دھیمے لہجے والی مُسکراتی بچیاں۔ چائے کے ساتھ ساری چیزیں گھر کی بنی ہوئی۔ مجھے تو فوراً پسند آگئی تیسری والی۔ ساجد کی عُمر کے لحاظ سے بھی ٹھیک تھی۔ تمہارے ابّا کو بتایا۔ اور پھر مٹھائی کِھلادی۔
نیک کام میں دیر کیسی۔ اور بلاوجہ لڑکی والوں کو انتظار کیوں کروانا۔‘‘ امّاں نے وضاحت سے دونوں بیٹیوں کی تسلی کی۔ ’’چلیں ٹھیک ہے، آپ لوگوں نے اچھا ہی فیصلہ کیا ہوگا۔‘‘ جمیلہ نے ٹھنڈی سانس لی۔ ’’اچھا امّی! یہ تو بتائیں، لڑکی کا رنگ رُوپ کیسا ہے۔ میری طرح یا جمیلہ کی طرح… بہت پیاری، گوری چٹی سی ہوگی ناں!!‘‘ نبیلہ نے اِٹھلا کے امّاں کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا۔ ’’کیوں، کیا شکیلہ پیاری نہیں؟؟‘‘ امّاں کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ نبیلہ کو ہاتھ جھٹک کر پیچھے کیا۔ ’’کیا مطلب امّی! شکیلہ کی طرح … ساجد بھائی کا رنگ تو ویسے ہی کم ہے۔ آپ دلہن بھی سانولی لائیں گی۔ کیا کر رہی ہیں امّی؟‘‘ نبیلہ کو تو پتنگے ہی لگ گئے۔
دونوں بہنیں مسلسل ماں سے بحث کررہی تھیں کہ ساجد کی دلہن گوری ہونی چاہیے۔ پاس کھڑے ساجد نے سامنے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا اور کچن میں بریانی کی تہہ لگاتی شکیلہ کو۔ شکیلہ اُس کی پیاری سی چھوٹی بہن اُسے کتنی عزیز ہے۔ سب کا خیال رکھنے والی، بےحد نرم مزاج، کام کاجو اور انتہائی سلیقہ مند۔ اُس نے کئی بار سوچا تھا کہ شکیلہ جس گھر جائے گی، اُسے جنّت بنادے گی۔
کتنی معصوم اور پیاری ہے، میری بہن۔ بس، اِسے کوئی سچا قدر دان مل جائے۔ اِس کے شفّاف اور اُجلے دل کا قدردان، اس کی محبتوں کا پاسبان۔ واقعی امّی کتنی عقل مند ہیں کہ اُنہوں نے کسی اور شکیلہ کے خوابوں کو تعبیر دے دی ہے۔ ساجد تصوّر کی آنکھ سے ایک سانولی سلونی دلہن کا گھونگھٹ خوشی خوشی اُٹھا رہا تھا اور امّاں بیٹے کی نیازمندی پر نچھاور ہوئے جارہی تھیں۔